Dr. Farid Ahmed columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
10 فروری 2021 (11:53) 2021-02-10

٭… نئے امریکی صدر اور ہماری خارجہ پالیسی…؟

٭… تاریخ کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ اس لئے نہیں کہ کیا ہوا؟ اس لئے بھی پڑھی جاتی ہے کہ کیوں ہوا؟۔ اکثر اوقات یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ ایک قیدخانہ ہے جسے وہ اپنے حصار میں قید کر لے پھر وقت تو لمحات کی صورت میں گزرتا رہتا ہے مگر قیدی کے کردار پر وقت کی دھول نہیں جمتی!۔ بہرحال جنوری 2021 ء کے آخری ہفتے میں نے چینی صدر جناب شی جن پنگ کو ورلڈ اکنامک فورم ’’ڈیوس ایجنڈا‘‘ میں خطاب کرتے سنا۔ انہوں نے فرمایا ہمارا ایمان ہے کہ سردی بہار کی آمد اور تاریک رات صبح کی کرنوں کو نہیں روک سکتی۔ اختلافات خوفناک نہیں ہوتے بلکہ غرور، تعصب اور نفرت خوفناک ہیں، انسانی تہذیب کو مختلف درجوں میں تقسیم کرنا اور اپنے ثقافتی و معاشرتی نظام کو دوسروں پر مسلط کرنا خوفناک ہے تمام ممالک کو باہمی احترام کی بنیاد پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر قائم رہنا چاہئے، بلاشبہ دنیا میں خالق کائنات نے مختلف مزاج اور نفس کے افراد پیدا کئے ہیں اسی طرح امریکہ کے پہلے صدر مسٹر جارج واشنگٹن سے لے کر مسٹر جوزف جو بائیڈن تک ہر کوئی اپنی فطرت اور نفس کہے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ لہٰذا ان کے کردار بھی مختلف تھے کیونکہ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی بھی انسان اپنے نفس اور فطرت کے ایک ہی رنگ میں رنگا ہو تو وہ کردار بھی عین اس کے مطابق ہی ادا کرتا ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ دنیا کی ہر قوم اپنی خارجہ پالیسی کا تعین اپنے مفادات کے مطابق طے کرتی ہے اور سیاسی دوراندیشی اور دانشمندی ہی اسے کامیاب یا ناکام کرتی ہے ۔ ماضی میں امریکی صدر روز ویلٹ نے کہا تھا ’’سیاست میں کچھ بھی حادثاتی نہیں ہوتا، اگر کوئی حادثہ ہو بھی تو آپ شرطیہ طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، ویسے تو ایسی مثالوں سے دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے مگر آپ معمولی سی جھلک ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ یعنی ہمارے ملک میں دن رات جمہوریت پسند بشمول اپوزیشن جماعتوں کے اور اسٹیبلشمنٹ سے بے شمار فوائد حاصل کرنے والے سیاستدان جو آج کل دن رات وزیراعظم جناب عمران خان کو سلکیٹڈ، تابعدار خان، چابی والے گھوڑے اور نہ جانے کون کون سے القاب سے طعنے دیتے رہتے ہیں مگر جونہی 2020 کے آغاز میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا بل لایا گیا، حالانکہ میرے ذرائع کے مطابق مثالی اور نڈر سپہ سالار ہرگز ایسا نہیں چاہتے تھے مگر آناً فاناً سب کے سب بلکہ ووٹ کو عزت دینے والے بھی اور عزت نہ دینے والے بھی یوں یک زبان ہو گئے کہ الحفیظ الامان کے مصداق، ادھر وفاقی کابینہ نے آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی منظوری دی اور ادھر یہ بل فی الفور قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا اور چند لوگوں کے واک آئوٹ کے باوجود ماحول بھی اس قدر رومینٹک تھا کہ پارلیمنٹ کے درودیوار بھی دنگ تھے۔ بہرحال بات ہو رہی تھی خارجہ پالیسی اور اس کے تعین کی… تو جناب والا، دنیا آپ کی خارجہ پالیسی تب تسلیم کرتی ہے جب آپ کی معیشت و معاشرت مضبوط ہوتی ہے اور اگر آپ کی معیشت مقروض ہو، سیاست انتشار کا شکار ہو، اپوزیشن سڑکوں پے ہو یا قومی جذبہ محض ’’اقتدار کی جنگ‘‘ ہو، آپ کی تمام تر جدوجہد بھی کرسی کے گرد گھومتی ہو اور اسی کے لئے آپ ہر جمہوری اصول کو روندتے چلے جائیں بلکہ 24 گھنٹے باہمی تیرزنی کرتے رہیں یا سیاسی، سماجی، معاشی شعبوں میں بہتری کے گمراہ کن ریکارڈ فراہم کرتے رہیں اور ریاستی اداروں کو بھی رسوا کرتے رہیں، تو پھر کون سی خارجہ پالیسی اور کیسی سیاست و معیشت اور قومی حمیت… اب بھی وقت ہے کہ ملک میں معتدل ماحول پیدا کیا جائے اور عالمی سطح پر ایسے بصیرت افروز فیصلے کئے جائیں کہ دنیا ہمیں درست عینک 

سے دیکھنے لگے۔ بلاشبہ، وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے امریکی صدر مسٹر جو بائیڈن کو امریکی صدارت کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے فروغ کے لئے ہم آپ کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں اور یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض سکیورٹی معاملات کی بجائے اقتصادی اور سماجی ہونے چاہئیں جبکہ اس خواہش کا بھی اظہار کیا ہے کہ امریکہ جو یقینا ایک عالمی طاقت ہے۔ وہ نہ صرف امن عالم کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرے بلکہ پاکستان کو نقدی کی بجائے تجارت میں رہنمائی فراہم کرے۔ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے اس دانشمندانہ بیان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ اب تو ہر پاکستانی کی یہ خواہش ہے کہ کاش کوئی تو امریکی صدر ’’صاحب انصاف‘‘ ہو جو غرور، طاقت اور مفادات کی عینک چند لمحے اتار کے دیکھے کہ پاکستان نے روزِ اوّل سے یعنی تقریباً سات عشروں سے اپنے قومی مفادات کو امریکی مفادات کی خاطر کیسے کیسے قربان کیا ہے اور ہمیشہ ان کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔ لیکن جانی و مالی قربانیوں کے باوجود ہمیں وہ مقام نہیں ملا جو ملنا چاہئے تھا جبکہ نائن الیون کے بعد پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بھی رہا ہے بلکہ جب امریکہ کے موجودہ صدر مسٹر جوبائیڈن مسٹر اوباما کے ساتھ بطور نائب صدر کام کر رہے تھے تو یہ بات بھی ریکارڈ پے ہے کہ جس طرح امریکی صدر منتخب ہونے پر میں نے بذریعہ ای میل انہیں دلی مبارکباد دیتے ہوئے اپنے خیالات پیش کئے، ان دنوں بھی نہ صرف اپنے شعور کا دکھ بیان کیا تھا بلکہ پاکستان کے دورے کی بھی خواہش کا اظہار کیا 

تھا کیونکہ ان دنوں بھی امریکی بغل بچہ بھارت اپنی چادر سے باہر پائوں پھیلاتے ہوئے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر رہا تھا۔ اب جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی دن دیہاڑے خصوصی حیثیت ہی ختم کر دی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس مسئلہ پر پاک و ہند کے درمیان 1965ء اور 1971ء میں دو خونی جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔دوسری طرف دَرپردہ ڈپلومیسی سے بھارت کے سابق وزیراعظم جناب من موہن سنگھ اور پاکستانی صدر جناب پرویز مشرف کے درمیان چار نکاتی فارمولے پے سمجھوتہ بھی ہو چکا تھا جو نہ جانے کیسے کالے کوٹ کی سازش کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد بھی متعدد مخلصانہ کاوشیں کی گئیں لیکن ٹیڑھی انگلی سیدھی نہ ہو سکی جبکہ آج نہیں تو کل دونوں ممالک کو نتیجہ خیز مذاکرات کرنے ہی ہوں گے۔ بہرحال جناب عمران خان نے حلف اٹھاتے ہی نہ صرف مودی کو ’’امن کی آشا‘‘ کے لئے کھلے عام دعوت دی مگر بات نہ بنی تو پھر ایک طرف سکھوں کے مقدس گردوارہ کرتار پور صاحب کی تعمیر اور دوسری طرف کشمیریوں کی آزادی کے لئے عملاً آواز لگا دی ایسی بلند آواز، جس نے پوری دنیا جگا دی۔ اب عالمی طاقت کا اولین فرض ہے کہ وہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی مشکلات کا ازالہ کرے تاکہ دنیا میں کہیں بھی آمریت، سامراجیت، گھمنڈ اور جنگی جنوں انسانی حقوق کو پامال نہ کر سکے اور نہ امن پسند معاشرے، ملک، جمہوری روایات لہولہان ہو سکیں۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہو چکا ہے۔ پورا بھارت سراپا احتجاج ہے۔ اس کے اندرونی حالات اس کے قابو سے باہر ہیں۔ جن سے مجبور ہو کر وہ کوئی ’’مِس ایڈونچر‘‘ کر سکتا ہے، لیکن جس طرح پاکستان کی چاک و چوبند افواج اور تاریخی ہیرو جنرل قمر جاوید باجوہ نے پلوامہ واقعہ کے بعد بھارتی جنون کے جواب کے لئے جوہری فیصلے ترتیب دیئے اور مؤثر جنگی حکمت عملی سے 27 فروری کو اپنے دشمن کا غرور خاک میں ملایا تھا۔ پی ٹی آئی حکومت اور اپوزیشن کا بھی قومی فرض ہے کہ وہ سرحدات پے خطرات کا ادراک کریں۔ باہمی نفاق ترک کریں اور یک زبان ہو کر نہ صرف اپنے اندرونی حالات بلکہ بیرونی سطح پر بھی بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تعلقات میں توازن پیدا کرے اور اپنی معاشی بدحالی کو ختم کرنے کے لئے ’’سی پیک‘‘ جیسے عظیم منصوبے متعارف کروائے اور امریکہ کے ساتھ ساتھ اپنے حقیقی ’’سٹرٹیجک پارٹنر‘‘ پر خصوصی دھیان دے اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ان سے برابری کے تعلقات قائم کرے۔ اس کا واحد حل اسی میں پوشیدہ ہے کہ ہم خود کو سیاسی محاذ آرائی سے دور رکھیں اور متحد و منظم ہو کر خود کو معاشی طور پر مضبوط کریں۔ کسی خونی انقلاب کی بجائے صنعتی و سبز انقلاب برپا کریں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ کثیرالجہتی تعلقات میں بھی نئی تاریخ رقم کریں۔ کسی سیانے نے کہا تھا خود کو عقلمند سمجھنا چھوڑ دو، بہت کچھ سیکھ جائو گے؟۔


ای پیپر