Dr. Zahid Munir Amir columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
10 فروری 2021 (11:51) 2021-02-10

(گزشتہ سے پیوستہ)قرآن کریم میں اہل کتاب کو جو دعوت دی گئی ہے اگراسے پیش نظررکھیں تو وہ لوگ جو وطن سے باہرہیں اپنے طرزفکروعمل سے یہ بات واضح کرسکتے ہیں کہ آپ جس خیال اور نظریے کے حامل ہیں وہ انسان دوستی کا خیال اور نظریہ ہے اور جدید زندگی نے جو چیلنجز انسان اور انسانیت کے سامنے پیش کیے ہیں آسمانی مذاہب کے پیروکار مل کر ان کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔آپ یہ بتاسکتے ہیں کہ غیرملکی میڈیا کی جانب سے پاکستان کی جو تصویرپیش کی جاتی ہے وہ حقیقی تصویرنہیں ہے ۔پاکستان میں انسانیت کے لیے سوچنے والے افراداور اداروں کی کمی نہیں۔ یہاں غیرمسلموں کو عدالتوں کے جج بلکہ چیف جسٹس تک بنایا جاتا ہے۔ غیرمسلموں کے ناموں سے مقامات کو منسوب کیاجاتاہے۔ ان کا احترام کیاجاتاہے ان پر تحقیق کی جاتی ہے، کتابیں لکھی جاتی ہیں، انھیں سراہا جاتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ آپ کو ایساکیاکرناہے کہ آپ اجنبی تہذیب میں رہ کربھی اپنی تہذیب کی حفاظت کرسکیں ۔آپ کے بچے جدید تعلیم حاصل کریں کہ اس کے سوا تو بقاکا سوال پیداہوجائے گا لیکن آپ یہ تو کرسکتے ہیں کہ اپنے بچوں کو اپنی تہذیب سے جدانہ ہونے دیں ۔اپنے گھروں کاماحول وہی رکھیں ،اپنے گھروں میں ان اقدار وروایات کو قائم رکھیں جن میں آپ کی جڑیں ہیں ۔ایسی کتابوں اورایسے موضوعات کو زندہ رکھیںجن سے آپ کے بچے اپنے علوم اور اپنی اقدارسے جڑے رہیں۔دیارِغیرمیں اپنی معاشرت کو زندہ رکھنے کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ لوگوںکی رہائشیں ایک دوسرے کے قریب ہوں اور آپ کا اپنی کمیونٹی سے میل ملاپ ہوتارہے ۔قربِ مکان کی بھی بہ ہر حال ایک اہمیت ہوتی ہے ۔آپ کے بچے پاکستانی ماحول کے پروردہ بچوں سے ملتے رہیں گے تو اس میل جول کے بھی اثرات ہوں گے ۔ بچے، جدید تہذیب کے مثبت 

پہلووں کوضرور قبول کریں لیکن اس کے ساتھ اپنی تہذیب کے حسن کو آمیز کریں یوں کہ پاکستان آنے کی صورت میں بھی اور یہاں رہنے کی صورت میں بھی وہ ایک امتزاجی شخصیت کے حامل بن چکے ہوں۔

علامہ اقبال نے اپنے بیٹے کے نام نظم میں جس خیال کا اظہار کیا تھا وہ بے جا نہیں تھا کہ وہ یورپ میں رہ کر گئے تھے۔انھوںنے کہا تھا   ؎

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی رہے تری بے داغ

ان کی رائے میں تو نطشے جیسا فلسفی بھی اپنی طینت کی پاکیزگی کے باوصف لذّتِ گنہ کے لیے ترستا رہا تو یہ جو دعاہے اس کے قبول ہونے کے لیے مجھے اقبال ہی کاایک اور شعر یاد آتاہے۔ جاویدنامہ کے آخرمیں انھوںنے ’’سخنی بہ نژادِ نو‘‘ کے عنوان سے جو بے مثال نظم لکھی ہے اس میں کہاہے   ؎ 

سرّدیں صدقِ مقال، اکلِ حلال

خلوت و جلوت تماشای جمال

دین کا رازاور صداقتِ قول کی حقیقت، حلال روزی میں پوشیدہ ہے۔ جسے یہ میسرہے وہ خلوت ہویاجلوت ،ذاتِ باری تعالیٰ کا مشاہدہ کرسکتاہے، اس سے منسلک ہوسکتاہے ۔جس کے خاکی بدن کی تشکیل اکلِ حلال سے ہوئی ہے ،اس کی روح میں پاکیزگی ہوتی ہے اوراور اگر روح میں پاکیزگی نہ ہو تو… 

رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید

ضمیرِپاک و خیالِ بلند وذوقِ لطیف

وہ پاک ضمیرسے بھی محروم ہوتاہے اس کے ذہن میں بلند خیالات بھی نہیں آتے وہ حسنِ ذوق سے بھی محروم ہوجاتاہے تو دیکھ لیجیے کہ یہ کتنی اہم بات ہے ۔

 زندگی میں کسی ایسی شخصیت کی تلاش بھی کرنی چاہیے جسے آپ اپنے سامنے ماڈل کے طورپر رکھ سکیں۔ جب بھی آپ کو کسی دوراہے کا سامنا ہوتو آپ تصور کیجیے کہ یہ دوراہا اگر اس شخصیت کو درپیش ہوتاتو وہ کس راہ کا انتخاب کرتی ۔اور اگر وہ شخصیت آپ کے ماحول میں موجودبھی ہے تو سونے پر سہاگہ پھرتو آپ کوبراہِ راست استفادے کی نعمت بھی میسر ہو سکتی ہے ۔تو ایسی شخصیتوں کی تلاش بھی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ہے ۔دنیاایسی شخصیتوں سے خالی نہیں،ایسی شخصیتیں موجودہوتی ہیں بس انھیں تلاش کرنا پڑتاہے …

ایک اور شے جو آپ کی تہذیب کی بقاکی ضامن ہے وہ آپ کی زبان ہے ۔آپ اپنے گھروں میں اپنی زبان کو زندہ رکھیں ۔زبان میں پوری تہذیب ہوتی ہے ،زبان آپ کو اپنی تاریخ سے، روایت سے، جدانہیں ہونے دیتی ۔زبان گئی، اس کا رسم خط گیا تو سمجھ لیجیے سب کچھ گیا ۔ہمیں اور ہمارے بچوں کویہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ مطالبہء پاکستان کی بنیاد زبان ہی تھی اور زبان کا جھگڑارسم الخط کے اختلاف سے شروع ہواتھا۔آپ اپنی نئی نسلوں کواپنی زبان سے جدانہ ہونے دیں۔ اس کے لٹریچرسے جدانہ ہونے دیں ،اس کے رسمِ خط سے جدانہ ہونے دیں۔معلوم نہیں کہ میری یہ گزارشات آپ کو کس حد تک اپیل کرتی ہیں لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ دیارغیر میں حب ِوطن کا جذبہ خاصاقوی ہوجایاکرتاہے اگر آپ کے اندر یہ قوی جذبہ موجودہے تو پھر آپ ضرور ان گزارشات پر غور کریں گے ۔کھانے کی اس محفل کی مناسبت سے مجھے اکبرالہ آبادی کایہ شعریاد آرہاہے کہ     ؎ 

رزولیوشن کی شورش ہے مگر اس کا اثر غائب 

پلیٹوں کی صداسنتاہوں اور کھانانہیں آتا

کھانا آچکاہے اس لیے میں اپنی گفتگو ختم کرتاہوں اور یہ اختتام اکبر ہی کے ان شعروں پر ہوگا، جن میں انھوںنے گویا آپ ہی سے خطاب کیاہے ……

تم شوق سے کالج میں پڑھو پارک میں پھولو

جائزہے  غباروں  پہ چڑھو ،چرخ  پہ جھولو

لیکن  یہ  سخن  بندئہ عاجز  کا  رہے  یا  د

اللہ  کو  اور  اپنی  حقیقت  کو نہ  بھولو


ای پیپر