Dr. Azhar Waheed columns,urdu columns,epaper
10 فروری 2021 (11:44) 2021-02-10

یہ تحریر گزشتہ سے پیوستہ ہے۔ گزشتہ ہفتے اسکول اور مسجد کے لیے زمین ’’وقف الی اللہ‘‘ کرنے کے لیے صرف فرد نکلوائی جا سکی، معلوم ہوا کہ جمعہ کے روز تحصیلدار کے روبرو بیانات نہیں ہوتے، اس کے لیے پھر آنا پڑے گا۔ چنانچہ ملک ثنا اللہ کھوکھر ایڈوکیٹ نے گزشتہ کل ‘ یعنی پیر کے دن کا وقت لے لیا اور ہمیں کال کر دی کہ تحصیل دار سیٹ پر موجود ہیں، انتقال کے لیے بیانات ریکارڈ ہورہے ہیں، آپ لوگ تین بجے سے پہلے پہنچ جائیں ۔ تین بجے سہ پہر کا وقت ذہن میں رکھ کر دوستوں کو فون کر دیا کہ یہاں کلینک پر ایک بجے تک سب لوگ پہنچ جائیں تاکہ ہم اڑھائی بجے تک قصور پہنچ سکیں، ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے۔ابھی دوست احباب کلینک پر پہنچے ہی تھے اور قہوے کی چسکیاں لے رہے تھے کہ دوبارہ فون آگیا ‘ جلدی پہنچیں‘ آج دو بجے وقت ختم ہو جائے گا۔ جائے ماندن نہ پائے رفتن کے مصداق عجب مخمصے میں گرفتار ہو گئے۔ سب دوست اپنے کام کاج چھوڑ کر یہاں پہنچے ہیں اور اگر وہاں وقت پر نہ پہنچ سکے تو ان کا بھی وقت ضائع، کیونکہ آدھے گھنٹے میں پہنچنا تقریباً ناممکن ٹھہرا۔ ہمت ِ مرداں مددِ خدا، ہمت باندھی اور کہہ دیا کہ ہم پہنچ رہے ہیں۔ بلال صاحب کے ڈرائیور کی منت سماجت کی ، کسی طرح بھی ممکن ہو‘ ہمیں دو بجے سے پہلے پہنچا دے، یہ دن ضائع نہ ہو۔ وہ دائیں بائیں سے ٹریفک کاٹتا ہوا کسی طور ہمیں پانچ منٹ پہلے پہنچانے میں کامیاب ہوگیا۔ جس مالک کی زمین ہے‘ وقت بھی اُسی کا ہے۔یہ وقت کی بساط بھی اُسی کی بچھائی ہوئی ہے…وہ جس پر چاہے ‘اپنی زمین دراز کرے اور جس پر چاہے وقت کا سایہ فراخ کرے۔ وقت کی مہلت ختم ہو جائے تو زمین پڑی کی پڑی ، صلاحت سب دھری کی دھری رہ جاتی ہے… زمین ِ وجود پر وقت کی طنابیں منقطع ہو جائیں تو خیام ِ زیست زمین پر آن گرتا ہے۔

تمہید حسبِ معمول طویل بلکہ طویل ترہوگئی۔ اصل کہانی یہ تھی کہ مجھے یہ فکر تھا‘ کسی طرح کلینک کے اوقات ضائع نہ کیے جائیں، وقف الی اللہ کے لیے صرف مالکان کو بھیج دیا جائے ‘ وہ بیانات دیں اور اللہ اللہ خیر صلا۔ گواہوں کو بھی بھیجنے کی چنداں ضرورت نہیں، انہیں بھی اپنے اپنے کام کرنے دیا جائے۔ دستاویز کی تیاری میں برادرم محمد یوسف واصفی اور سید عامر علی بخاری کے نام دستاویز میں بطور گواہ لکھے گئے تھے… لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ملک صاحب کا فون آگیا کہ گواہان کا موجود ہونا ضروری ہے۔ ملک صاحب کے اِس فقرے نے جہانِ معانی کا ایک دَر کھول دیا۔اچھا ؟ گواہان کی موجودگی ضروری ہوتی ہے؟ لیجیے ! فنا بقا کا ایک دیرینہ مسئلہ ہو گیا۔ انسان فانی ہے یا باقی ؟ 

وہ کون سے انسان ہیں ‘ فنا کے گھاٹ اترتے ہیں اور وہ کون ہیں ‘ جو بقا کے اعراف میں منظر نشیں ہوتے ہیں۔ اللہ اللہ!! ’’ کل شئیً ھالک الا وجہہ‘‘… ہر شئے کو ہلاکت ہے مگر اُس کا چہرہ !!… وہ کون سا چہرہ ہے ‘ جو فنا کے دیس میں بقا کا سفیر ہے، جس بھی زاویے میں ہے ‘ ازل سے ابد تک محیط ہے۔ 

بہرطور اس فقیر کا گواہان کو بھیج کر خود خانہ نشیں ہونے کا پروگرام تھا۔پھر یوں ہوا کہ قہوے کے دوران ہی میں گواہان کی چستی دیکھ کر مدعی کی سستی نے بھی ایک انگڑائی لی اور یہ فقیراچانک کلینک مختصر کرنے کے بعد خود بھی ساتھ جانے کے لیے تیار ہوگیا۔ وہاں پہنچے تومعلوم ہوا کہ سب کا پہنچنا بہت ضروری تھا، وہاں کاغذات میں موصوف نے اس فقیر کا نام بطوربطور نمائندہ مجاز منجانب حقیقت اولیٰ لکھوا دیا تھا!! حاضری ضروری ٹھہری!! یہاں بھی دستخط کرتے ہوئے گنجینہ معانی کا ایک دَر کھلا۔ انسان یونہی خلیفۃ اللہ نہیں بنا۔فرشتوں نے اعتراض کیا… فرشتہ صفت لوگ آج بھی عظمتِ آدم دبے لفظوں میں انکار کرتے ہیں… آدم بنی آدم سمیت کوتاہیوں ، غفلتوں اور غلطیوں کے باوصف نیابت کی عطا کے سزاوار ٹھہرے! ابن ِ آدم یہاں اپنے مالک کے بی ہاف behalf پر فیصلے کرے گا… عمدہ اور بہترین فیصلے… اور اپنے فیصلوں اور ارادوں کے درمیان ہی میں معرفت خداوندی کے لیے درکار شعور کی پرورش ہوتی چلی جائے گی۔ اب انسان کو ہدایت بھی اللہ کے بی ہاف پر انسان سے ملے گی… اللہ کے نمائندے سے ملے گی۔’’ الھادی‘‘ نے ہدایت کے لیے ہادی مقرر کر دیے گئے ہیں… خلیفۃ اللہ کا انکار اب خلیفہ مقرر کرنے والی ذات کا انکار سمجھا جائے گا… ابلیس کی روش واضح ہوگئی !!

’’گواہان کی موجودگی ضروری ہے‘‘… عجب بات ہے کوئی مقدمہ گواہوں کے بغیر کھڑا نہیں ہوتا۔ گواہ یعنی شاہد … جمع جس کی شاہدین ہے… شاہد کہتے ہی اُسے ہیں جو عینی شاہد ہو۔ شہادت کا کم از کم معیار عینی شہادت ہے۔ شاہد جب عینی شہادت کا رتبہ حاصل کر لیتا ہے… تو امر ہو جاتا ہے، اسے مردہ گمان بھی تصور نہیں کیا جا سکتا… معرفت کے مقدمے کی دستاویزمیں اس کا نام بطور گواہ ہمیشہ کے لیے منسلک کر لیا جاتا ہے۔بقا کے منظر کے شاہدین بھی بقا کے اعراف نشین ہوتے ہیں۔ مقدمہ گواہوں کے بیانات پر کھڑا ہوتا ہے، اگراپنی معرفت کا مقدمہ کھڑا کرنے والا خود مالک الملک ہو تو وہ اپنے گواہوںکو کیسے ضائع ہونے دے گا؟ گواہوں کی عظمت و عفت کی حفاظت اب اس کائناتی ریاست کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ روایت بیانات پر قائم ہوتی ہے، کوئی ایک راوی بھی عینی شہادت کی سند فراہم نہ کر سکے تو روایت کمزور تصور ہوتی ہے۔ اس لیے سلسلہ در سلسلہ ایک روایت ہے جو ثقہ راویوں اور عینی شاہدوں کے بیانات پر قائم ہے۔ اس میں نقب لگانے والا ابلیسی قوتوں کا وکیل سمجھا جائے گا۔ 

وہ ذات کوئی کام گواہوں کے بغیر نہیں کرتی۔ وہ ہر جگہ شاہدین کھڑے کرتی ہے۔ روزِ الست سے لے کر میثاق النبیین تک ہر جگہ وہ شاہدین کو گواہ ٹھہراتی ہے۔وہ اپنے اور اپنے رسولؐ کے درمیان فرشتوں کو ، جبریل کو گواہ بناتی ہے… یہاں تک کہ’’ شھد شاھد بینی وبینکم‘‘… کہہ کر وہ ایک ذات کو شاہداول قرار دیتی ہے … اسے ہدایت ہو معرفت کی حجت بنا دیتی ہے… ایمان اور نفاق کے درمیان قطعی حجت!! ایمان اور کفر کے درمیان حجت رسالت ہے اور ایمان اور نفاق کے درمیان حجت ولایت ہے۔ رسالت ِ آخریں کو شہر علم کہا گیا اور ولایت اُولیٰ کو دَرِ علم قرار دیا گیا۔ولایت کا سلسلہ‘ سلسلہ در سلسلہ قائم ہے…جب تک کہ قیامت کی حجت قائم نہیں ہو جاتی۔

کسی نے کہا‘ صوفیا کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ملتا۔ قرآن میں غوطہ زن بندۂ مومن صوفیا کے لیے جن اصطلاحات کوقرآنی صفحات میں موجود پاتا ہے ‘ وہ ’’اہلِ ذکر‘‘ ہے… جس کردار کا ذکر موجود پاتا ہے‘ وہ عباد الرحمٰن کی صورت میں سورت فرقان میں موجود ہے… وہ مخلصین ، شاہدین اور صادقین کی صورت میں جابجا موجود ہے…’’ کونو مع الصادقین‘‘ صادقین میں سے ہونے کا حکم موجود ہے۔ بہرطور ناموں میں الجھنا کسی طور درست نہیں۔ گلاب سرتاپا بے غرض ہوتا ہے ، لاکھ کانٹوں میں گھرا ہو‘ اسے خوشبو دینے سے غرض ہوتی ہے… خواہ کسی نام سے پکارا جائے ‘ افکار و کردار کی دنیا میں وہ گلاب ہی کہلائے گا۔ 

الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا 

غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے 

روزِ محشر اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ ہم ہر قوم میں سے ایک گواہ کھڑا کریں اور پھر اِن سب گواہوں پر آپﷺ کو گواہ بنائیں گے۔ سبحان اللہ ! سبحان اللہ!! اَزل سے لے کر ابد تک گواہی کے لیے جس ذاتِ اقدس و اطہر کو مقرر کیا گیا ‘ اُس کی شان یہ ہے کہ وہ صادق اور امین ہیں۔ شاہد کے لیے صادق اور امین ہونا کتنا ضروری ہے ‘ یہ بات کسی دانا سے پوشیدہ نہیں۔ حق کی گواہی اُسی کی قبول ہوگی جو اُس شاہدِ اوّل و آخر کی صداقت کی گواہی دے گا… بصورت ِ افکار ، بصورت ِ اقرار… اور بصورتِ کردار!! ہم ایسے عاصی اور وعدہ شکن اس قابل کہاں؟… لیکن درخواست پیش کرنے میں کیا حرج ہے… اُس بارگاہِ ذوالجلال کے حضور‘ عاجزانہ درخواست…اس ذات کے حضور جو دلوں کے بھیدجانتا ہے…جو علیم بذات الصدور بھی ہے ، ستار العیوب بھی اورپھر غفار الذنوب بھی …دست بستہ درخواست بوواسطہ رسولِ آخر الزماںؐ بوسیلہ شاہدِ اوّل کن فکاں… بس بادیدۂ نم یہی قرآنی دعا ’’فاکتبنا مع الشّاھدین‘‘… پس ہمیں شاہدین میں سے لکھ لے!!


ای پیپر