کیا چینی کا بحران میری وجہ سے ہوا ؟جہانگیر ترین سچ سامنے لے آئے
10 فروری 2020 (23:46) 2020-02-10

اسلام آباد:تحریک انصاف کے رہنماءجہانگیر ترین نے کہاہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ چینی کی قیمتیں بڑھنے سے فائدہ مجھے ہوا ، رواں اور پچھلے سال مجھے نقصان ہوا ہے ۔ مخالفین نے میرے خلاف بس کہانیاں پھیلائی ہوئی ہیں،گنے کی فی من قیمت بڑھنے کی وجہ سے چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا ، سستی چینی کے لئے چینی کی درآمد کی اجازت دی جائے اور اس پر ڈیوٹی ہٹائی جائے ،آئندہ 8 سے 9 ماہ میں گردشی قرضے کو صفر پر لے آئیں گے، گندم کی قیمتوں سے متعلق بدانتظامی کا اعتراف کرتا ہوں ، پنجاب میں گندم کی قیمت بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر سرحد بند کی گئی ، سپلائی رکنے سے صرف 6 روز تک آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔

پیرکو نجی ٹی وی سے گفتگو میں تحریک انصاف کے رہنماءجہانگیر ترین نے کہا ہے کہ یہ تاثر دینا غلط ہے کہ چینی کی قیمتیں بڑھنے سے مجھے فائدہ ہوا ہے ۔ مجھے پہلے سہ ماہی میں 137 ملین روپے کا فائدہ ہوا جب کہ دو سال پہلے مجھے 6 سو ملین کا فائدہ ہوا تھا ۔ اس سال اور پچھلے سال مجھے نقصان ہوا ہے ۔ مخالفین نے میرے خلاف بس کہانیاں پھیلائی ہوئی ہیں ۔ میں نے کبھی کسان کا حق نہیں مارا 180 روپے فی من گنے کی قیمت دی۔ گنے کی فی من قیمت بڑھنے کی وجہ سے چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا ۔ پہلے 180 روپے فی من گنا تھا اب 230 تک پہنچا ہوا ہے ۔ سیلز ٹیکس لگنے کی وجہ سے بھی چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا ۔ انہوں نے کہا ہے کہ چینی کی قیمت بڑھنے کا فائدہ کاشتکار کو ہوا ہے ۔ میرا اگلی سہ ماہی کا منافع سب دیکھ لیں گے ۔ میری عوامی کمپنی ہے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا ۔

انہوں نے کہا کہ سستی چینی کے لئے چینی کی درآمد کی اجازت دی جائے اور اس پر ڈیوٹی ہٹائی جائے ۔ چینی کی قیمت میں کمی آجائے گی ۔ 5 لاکھ ٹن چینی باہر سے منگوائی جائے ۔ چینی مارکیٹ مستحکم ہو جائے گی ۔ 5 سے 10 روپے اس پر سبسڈی دی جائے ۔ مہنگائی کم کرنے کے لئے 5 سے 10 ارب کوئی بڑی بات نہیں ۔آخری دو سال میں (ن) لیگ نے گیس بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، گزشتہ حکومت میں گردشی قرضے میں 38 ارب روپے ماہانہ اضافہ ہو رہا تھا ۔ نون لیگ کے دور میں گیس خسارہ 100 ارب روپے تھا ۔ پاور سیکٹر کا12 سے 13 ارب روپے کا گردشی قرضہ ہمیں ورثے میں ملا ۔ ہماری حکومت نے 115 ارب روپے کی بجلی چوری پکڑی ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو پلانٹس کی کیپسٹی پیمنٹ کی وجہ سے بجلی ٹیرف بڑھانا پڑا ۔آئندہ 8 سے 9 ماہ میں گردشی قرضے کو صفر پر لے آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ای سی سی نے جولائی میں گندم پر فوری پابندی لگا دی تھی ۔ اپریل، مئی جون میں صرف 70 ہزار گندم برآمد ہوئی تھی جب کہ گزشتہ سال اپریل میں بارش سے گندم کی 1.5 ملین ٹن فصل خراب ہوئی ۔2017-18 میں نون لیگ کی حکومت نے گندم ایکسپورٹ پر 38 ارب روپے کی سبسڈی دی تھی جب کہ پانچ سال میں گندم پر 67 ارب روپے سبسڈی دی۔

انہوں نے کہا کہ گندم کی قیمتوں سے متعلق بدانتظامی کا اعتراف کرتا ہوں ۔ پنجاب میں گندم کی قیمت بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر بارڈر سیل کیا گیا تھا ۔ سپلائی رکنے سے صرف 6 روز تک آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا آج پنجاب میں آٹا 40 روپے فی کلو کے ریٹ پر مل رہا ہے ۔ سندھ حکومت گندم کو فلور ملز تک نہیں پہنچا رہی ۔ سندھ میں گندم بحران پر ایف آئی اے کی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں ۔ 18 ویں ترمیم کے تحت خوراک زراعت کا محکمہ صوبوں کے پاس ہے ۔


ای پیپر