لاہور ہائیکورٹ نے حکومت سے جواب طلب کر لیا
10 فروری 2020 (14:42) 2020-02-10

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار کے لاہور میں گھر کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے 10 روز میں پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا۔ پیر کو لاہور ہائی کورٹ میں مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

 جسٹس شاہد بلال حسن نے اسحاق ڈار کی تبسم ڈار کی درخواست پر سماعت کی۔اسحاق ڈار کی اہلیہ نے درخواست میں موقف اپنایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رہائش گاہ کی نیلامی کے خلاف حکم امتناع جاری کررکھا ہے، حکومت پنجاب نے گھر کو غیر قانونی طور پر پناہ گاہ میں تبدیل کیا، حکومت کا یہ اقدام آئین اور قانون کے خلاف ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ پنجاب حکومت نے ہائیکورٹ کے حکم کی بھی خلاف ورزی کی ہے، حکومت لیگی رہنماوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے لہذا عدالت حکومت پنجاب کے اقدام کو کالعدم قرار دے ۔بعد ازاں عدالت نے مذکورہ درخواست پر سماعت کے بعد اسحاق ڈار کے گھر کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کیخلاف حکم امتناعی جاری کردیا اور صوبائی حکومت سے دس روز میں جواب طلب کرلیا۔


ای پیپر