نیچے وا لو ں کی کر پشن
10 فروری 2019 2019-02-10

ذرا ایک ایسی میز کا تصور کیجئے جس کا ہر پایہ اور ہر سائیڈ میرا مطلب ہے ہر چول ڈھیلی پڑ چکی ہو اور اس پہ بہت سی اشیاء پڑی ہوں۔ پھر اس پر مزید اشیاء دھری جارہی ہوں۔ جب تک وہ میز اپنی جگہ قائم ہوگی اشیاء کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ لیکن جیسے ہی کسی وجہ سے میز کو اپنی جگہ سے گھسیٹا جائے گا تو سب ہی اشیاء ایک دوسرے پہ گرتی پڑتی نیچے جاگریں گی اور ٹوٹ پھوٹ جائیں گی۔ کچھ ایسا ہی حال اس وقت اس ملک کا ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں۔ روزمرہ کی سی ڈگر پہ چلتی ہوئی زندگی سے تو ہمیں سب اچھا ہے کا احساس ہوتا ہے مگر جوں ہی ہمیں کسی قسم کے حادثاتی عمل سے گزرنا پڑے تو یک دم پوری پول پٹی کھل جاتی ہے۔ ملک کو اس حال پہ پہنچانے میں جہاں دوسرے بہت سے عوامل کا ہاتھ ہے وہاں کرپشن کا ہاتھ سب سے نمایاں ہے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک یہ ہمارے ر گ و پے میں سما چکی ہے۔ اوپر کے لوگوں کی کرپشن کا حال ہم اکثر و بیشتر پڑھتے رہتے ہیں لیکن نیچے کے طبقے کا حال بھی کچھ کم نہیں۔ ریڑھی بان، خوانچہ فروش، پرچون فروش، رکشہ ٹیکسی ڈرائیور، سبزی فروش، کلرک حضرات، راج مزدور غرضیکہ آپ جس بھی پیشہ ور پہ انگلی رکھ دیں وہ آپ کو کرپشن میں ملوث نظر آئے گا۔ سبزی کی مثال لے لیجئے۔ آپ کو منڈی میں ٹماٹر بیس روپے کلو دستیاب ہوں گے، تو کچھ ہی فاصلے کے بازار میں یہ آپ کو تیس روپے کلو ملیں گے۔ پھر آپ کے محلے کے بازار میں چالیس روپے کلو اور یوں ہوتے ہوتے آپ کی گلی میں ناجائز تجاوزات میں کھلی ہوئی سبزی کی دکان میں شاید ساٹھ روپے کلو ملیں گے۔ ایک پرانی دلیل ہے کہ چونکہ اوپر کا طبقہ کرپشن میں ناکوں ناک دھنسا ہوا ہے لہٰذا انچلی سطح پہ کرپشن ختم کرنے کے لیے پہلے اوپر کی سطح پہ ختم کرنا ہوگی۔ ایک حد تک تو یہ درست ہے لیکن اسے مسئلے کا حتمی حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ جس کا فلسفہ مذہبی ہے۔ یہاں مذہبی طور پر الہام کے زمرے میں بیان کے گئے گناہوں ہی کو قابل نفرت سمجھا جاتا ہے جبکہ قانونی جرم کے نتیجے میں ملنے والی سزا کو مجبوری کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم کسی بھی شہر کے روایتی بازاروں میں دیکھتے ہیں کہ پہلے تو دکاندار نے اپنی دکان کو اپنی حدود سے زیادہ فٹ پاتھ پر بڑھایا ہوگا، پھر اس کے بعد اس نے کرائے کے عوض کسی ٹھیلے والے کو اجازت دی ہوگی کہ وہ اپناٹھیلا لگائے۔ پھر اس کے بعد بے شک سڑک ’’نو پارکنگ‘‘ روڈ ہوگی۔ لیکن آگے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی قطار در قطار ہوگی۔ پھر بچے کھچے راستے پہ کوئی رکشہ سواریاں اتارنے یا لادنے کے لیے اچانک بریک لگا کر ٹریفک کو جام کرنے کا باعث بنے گا۔ یہ سب کچھ قانون کی نگاہ میں جرم ہے لیکن چونکہ ہمارے موجودہ دور کے گناہ اور ثواب کا فیصلہ کرنے والوں کے نزدیک یہ کسی گناہ کے زمرے میں نہیں آتا، لہٰذا معاشرے میں اسے قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض صورتوں میں یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ اس علاقے کی کاروباری یونین حقوق کی حفاظت کے طور پر ان سب قانون شکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ذمہ اٹھاتی ہے۔ چنانچہ اگر کبھی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھانا چاہتی ہیں تو اسے حکومت کی جانب سے کیا گیا ظلم کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہنگامے کیے جاتے ہیں، جلوس نکالے جاتے ہیں، ٹائر جلائے جاتے ہیں اور پھر بینر آویزاں کیے جاتے ہیں اس تحریر کے ساتھ ’’چھوٹے تاجروں پہ پولیس کا ظلم نامنظور۔‘‘

تو صاحبو یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے۔ البتہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ نچلی سطح کی اس کرپشن کااوپر کے طبقے یا اشرافیہ کی کرپشن سے کوئی خاص تعلق نہیں ۔ پاکستان میں مڈل کلاس اور اس سے نیچے کے ملازمین کی تنخواہیں یا آمدن پیسے کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے پہلے ہی کم ہیں۔ تاہم ماہوار آمدن یا تنخواہ کے طور پر جو کچھ اسے ملتا ہے اس کا بڑا حصہ چھوٹے طبقے کی کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے۔ جو پیسے کی غیر منصفانہ تقسیم کا میں ذکر کررہا ہوں اس کی وجہ اوپر کا طبقہ اور اشرافیہ کلاس ہے۔ لیکن اس وقت وہ ہمارا موضوعِ سخن نہیں۔ عام آدمی کی زندگی میں کرپشن کے نقصان کا آغاز علی الصبح دودھ کی خریداری سے شروع ہوجاتا ہے۔ اگر عوام میں سے کوئی تیس مارخان ایک لمبا فاصلہ طے کرنے کے بعد گوالے کے باڑے میں پہنچ کے اپنے سامنے دوہا ہوا دودھ لے آتا ہے تو حد یہ ہے کہ وہ بھی ناخالص ہوتا ہے۔ وہ یوں کہ وہ انجکشن جو بھینس کو مشکل زچگی کے دوران لگایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بھینس کے پٹھے کمزور پڑ کر زچگی کو سہل بنادیتے ہیں، دودھ دوہنے سے پہلے اسے لگادیا جاتا ہے۔ پٹھے کمزور پڑنے سے وہ دودھ جو ابھی پوری طرح تیار نہیں ہوا ہوتا باہر آجاتا ہے ۔ دودھ کی مقدار بڑھ جاتی ہے لیکن یہ دودھ انتہائی مضر صحت ہوتا ہے۔ دودھ کی خریداری کے بعد سبزی، گوشت کی خریداری کی باری آتی ہے۔ اول تو سبزی فروش نے سبزی آپ کے ہاتھ کی پہنچ سے دور رکھی ہوتی ہے۔ دوسرے اگر آپ کا ہاتھ وہاں پہنچ بھی جائے تو آپ کے ہاتھ سے زیادہ تیزی سے دکاندار کا ہاتھ چلے گا۔ نتیجتاً گھر آپ گلی سڑی سبزی ہی لے کر جائیں گے۔ خریدار کے لیے 'Right to Choose' کی اس اسلامی مملکت میں کوئی وقعت نہیں۔ پھر قصابوں کے پانی کی ملاوٹ سے گوشت کا وزن بڑھانے کے فن سے کون واقف نہیں۔ ایک دفعہ پھر تسلیم کرتا ہوں کہ اوپر کے طبقے یا اشرافیہ کی کرپشن کے مقابلے میں زیر بحث نچلے طبقے کی کرپشن معمولی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن اس کا سد باب بھی اس لیے ضروری ہے کہ اس کا بھی عام آدمی کے دل و دماغ پہ کم اثر نہیں پڑتا۔ کیا اس کو ختم کرنے کے لیے قانون کا سہارا کافی ہوگا؟ بدقسمتی سے اس کا جوا ب نفی میں ہے۔ قانون اس سلسلے میں اس وقت تک مؤثر نہیں ہوسکتا جب تک اسے پورے معاشرے یا ملک کو ایک آنکھ سے دیکھنے کا موقع فراہم نہ کیا جائے یہ موجودہ حالات میں انتہائی مشکل ہے۔ لہٰذا قانون کے علاوہ کوئی اور سہارا ڈھونڈنا پڑے گا۔ خوش قسمتی سے وہ سہارا اسلامی مملکت پاکستان میں موجود ہے۔ اور وہ ہے مذہبی اداروں کا سہارا۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں مذہب کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ یوں حل نہایت سادہ ہے۔ اس کے لیے عوام کے دلوں میں یہ بات بٹھانی پڑے گی کہ کرپشن محض جرم ہی نہیں، گناہ بھی ہے اور گناہ بھی گناہِ کبیرہ۔ مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کے خطیب حضرات اگر اپنی تقریر اور خطبہ میں لازماً کرپشن کو قابل ملامت قرار دیں تو گو وقت تو لگے گا لیکن مثبت نتائج ضرور حاصل ہوں گے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خطیب حضرات اور مولوی حضرات کو اس طرف کیسے مائل کیا جائے؟ اس کے لیے حکومت کو سرکاری سطح پہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ وہ یہ کہ خطیب اور مولوی حضرات کی اہمیت کو اس طرح تسلیم کیا جائے کہ ان کو بھی اپنی اہمیت کا احساس ہو۔ وہ اہمیت جن کی بنا پر وہ مثبت نتائج سامنے لاسکیں۔ پھر ان کی اعلیٰ پیمانے پر تربیت ہو۔ اس کے لییورکشاپس اور سیمینار کیئے جائیں اور انہیں معقول معاوضہ دیا جائے۔ معقول معاوضہ جو ان کا رہن سہن بدل سکے، جو ان کی اپنی ذاتی زندگی کی مشکلات کو کم کرسکے۔ پھر میڈیا کو بھی اس کارِ خیر کے لیے استعمال کیا جائے۔ مذہبی لحاظ سے مختلف مکتب فکر کے علماء کے ٹاک شوز کیے جائیں ۔ ایک مرتبہ عوام کو یہ باور کرانے میں کامیابی مل جاتی ہے کہ کرپشن ایک گناہِ کبیرہ ہے، تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ کچھ نہیں تو تین چوتھائی کرپشن کا نچلی سطح پہ خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔


ای پیپر