10 فروری 2019 2019-02-10

بندے نے جیل کو اپنا گھر بنا لیا، ہر وقت یہی سوچ دل و دماغ میں رچی بسی رہتی ہے کہ

آشیاں جل گیا گلستاں لٹ گیا

اس قفس سے نکل کر کہاں جائیں گے

اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے

اب رہائی ملے گی تو مرجائیں گے

اسپتال لے گئے تھے بصد اصرار واپس جیل آگئے، اتنے دن ہوگئے انسیت ہوگئی، اطمینان سے جیل کے اندر بیٹھے ہیں باہر ڈیل ڈھیل اور این آر او کی باتیں ہو رہی ہیں، بندے کی جان پر بنی ہے ’’لوک بھیڑے شک کردے‘‘ نیتوں پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، معائنہ کے لیے اسپتال لائے گئے تھے ڈاکٹروں نے کہا ’’میاں صاحب ٹینشن نہ لیں دل کا معاملہ ہے بڑے رسان سے جواب دیا ٹینشن دینے والوں کو بتائیں، ٹینشن تو ہوگی، بیماری دل کی علاج گردوں کا، بقول احسن اقبال معائنہ کرنے والوں میں ایک بھی ہارٹ اسپیشلسٹ نہیں اس کے باوجود رپورٹ دی گئی کہ دل کے مریض ہیں پتھری بھی ہے اسپتال ہی میں رکھا جائے، مگر جیل منتقل کردیے گئے،’’ یہی مرضی میرے صیاد کی ہے‘‘ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں، کتنے صدمے، کتنی سختیاں، برداشت کرے گا، مگر یہ تو ہونا تھا اوکھلی میں سردیا تو موصلوں کا کیا ڈر، مگر موصلوں نے تو خاصا خوفزدہ کردیا ہے ، دل کاعارضہ، گردے میں پتھری، پتھری کا علاج لال حویلی میں مقیم جن بھوت ہی کرسکتے ہیں، کیا ارادے ہیں خدا نہ کرے دشمنوں کے منہ میں ڈھیروں مٹی، محاورہ ہے کہ فلاں بڑا دل گردے کا آدمی ہے یہاں لوگ دل اور گردے دونوں کو ناکارہ بنانے پر تلے ہیں، جیل سے مانوس قیدی عام قیدی نہیں ساری سزاؤں سارے اقدامات اور ساری نا اہلیوں کے باوجود بڑا نام ہے نہ ہوتا تو ایک کروڑ 28 لاکھ ووٹ نہ ملتے، نا اہل تو کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ آج ہم کل تمہاری باری ہے، نا اہلی کے لیے ہاتھی گھوڑے نہیں لگانے پڑتے بس ایک اچھا سا مقدمہ، پندرہ دن کا ریمانڈ سینئر وزیر کی اکٹھی پانچ آف شور کمپنیاں نکل آئیں، ہاؤسنگ اسکینڈل بھی سامنے آگیا وہی الزام آمدن سے زیادہ اثاثے، اپنا بندہ ہے اس لیے بڑے وثوق سے کہا ان شاء اللہ با عزت بری ہو کر واپس آئے گا۔ ایام رفتہ میں کوئی بری ہوا ہے؟ کیا ڈھیل دی جائے گی یا صرف جرمانہ ہوگا؟ شک کی ہر جگہ گنجائش، کہا گیا کہ راستے کا پتھر تھا ہٹا دیا گیا اس کے باوجود ایک سینئر صحافی کا اصرار کہ مارچ تک وزیر اعلیٰ پنجاب رخصت کردیے گئے جائیں گے صحافی اپنے موقف پر قائم کہ میرے ذرائع پکے خبر سچی کون آئے گا کوئی بھی آجائے، شہباز شریف جیسا ہونا چاہیے، مقدمہ کی ابتدا ہوئی ہے مگر الرٹ جاری ایسا ویسا جیسا تیسا فیصلہ آگیا تو کیسے برداشت ہوگا، پہلے ہی ایک فیصلے کا صدمہ بھلائے نہیں بھولتا، کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں، یہی خاطر مدارتیں رہیں تو برا ہوگا کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا راہ راست پر آنا ہوگا راہ راست پر لانا ہوگا، بات سے بات نکلتی چلی گئی عرض کر رہے تھے کہ ایک عرصہ سے ڈیل ڈھیل اور این آر او کی بے ہنگم آوازیں سنائی دے رہی ہیں این آر او کون دے گا؟ کسی کو پتا نہیں، جن کو پتا نہیں وہی چیخ رہے ہیں، پرویز رشید نے کھلے بندوں کہا کہ شیخ رشید میں ہمت ہے تو این آر او دینے والے کا نام بتائیں، حکمرانوں نے تو کہہ دیا کہ ہم نہیں دیں گے ن لیگ والوں نے کہا آپ سے مانگ کون رہا ہے جو چیز آپ کے اختیار میں نہیں وہ کیسے دیں گے اسی بحث و مباحثہ میں 6 ماہ گزر گئے، جو کام کرنے کے ہیں وہ نہیں ہو رہے، جو بس میں نہیں ان پر واویلا، این آر او اگردینا ہے تواس پر کسی بھی لمحہ معلوم میں غور کرلیں گے کر رہے ہوں گے، پیپلز پارٹی کے چوہدری منظور کو جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے انہوں نے بڑے وثوق سے کہہ دیا کہ نواز شریف کو این آر او مل چکا، اسی ماہ بیرون ملک چلے جائیں گے۔

ڈیل ہوگی نہ ڈھیل بس این آر او مل گیا ایک محترم کا موقف ہے کہ ڈیل ڈھیل پلی بار گینگ پر ہوتی ہے پلی بارگینگ کا مطلب اعتراف جرم یہاں اب تک اعتراف جرم نہیں کیا گیا، کھل کر بار بار کہا کہ ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی شاید اسی لیے چار سال سے چیخ و پکار کے باوجود 300 ارب ڈالر میں سے 139 روپے کا ایک ڈالر بھی واپس نہیں لایا جاسکا،300 ارب ڈالر ہی بہت تھے کہ گزشتہ دنوں وزیر موصوف نے1500 ارب بتا دیے سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے جھٹ سے کہا انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ 1500 ارب میں کتنے صفر ہوتے ہیں، 6 ماہ گزر گئے کچھ تو واپس آجاتا، 6 ماہ میں اتنے قرضے تو نہ لینے پڑتے، ڈیل ڈھیل فضول آئیڈیا، ڈیل وہ نہیں کرینگے ’’ سبک سر بن کے کیوں پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو‘‘ ڈھیل عدالت سے ملے گی وہ بنیادی حق ہے، یار لوگوں کو مشغلہ ہاتھ آگیا جسے دیکھو ڈیل ڈھیل این آر او لیے بیٹھا ہے وزیر اعظم تردید کر رہے ہیں لوگ قسمیں کھا رہے ہیں، کون سچا کون جھوٹا، وقت آنے پر ہی پتا چلے گا وقت زیادہ دور نہیں، خورشید شاہ نے دو ماہ کا وقت دیا تھا چوہدری منظور نے اسے گھٹا کر پندرہ بیس دن کردیا، این آر او ہوگیا تو حکومت شہباز شریف کی طرح اس معاملہ پر بھی یوٹرن لے گی نواز شریف چار پانچ سال کے لیے علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے جائیں گے باہر بیٹھ کر علاج کرائیں گے علاج کریں گے، علاج ہوچکے گا تو واپس آجائیں گے اس عرصہ میں کھلاڑیوں کو اپنی مرضی کی پچ پر کھیلنے کا موقع دیا جائے گا کامیاب ہوگئے تو ٹھیک ورنہ جو اللہ کی مرضی، ابھی بھی سب کچھ اپنی مرضی کے مطابق ہو رہا ہے لیکن بد قسمتی سے معیشت سنبھالے نہیں سنبھل رہی 6 ماہ میں اوپر تلے 2 ارب 30 کروڑ کا قرضہ لے لیا ن لیگ کے بقول انہوں نے تو قرضے موٹرویز سی پیک اور بجلی کے کارخانوں پر لگائے میٹرو بسیں چلائیں اورنج ٹرین پر کروڑوں لگے ایئر پورٹس بنائیں 6 ماہ کے قرضے کہاں خرچ ہوئے صرف کمیٹیاں اور ٹاسک فورسز بنائی گئی ہیں ،کیا ساری رقم تنخواہوں میں چلی گئی ؟کمال ہے300 ارب واپس لانے کے لیے اربوں خرچ کردیے کیسی سادگی کون سی کفایت شعاری، رقم آرہی ہے رقم جا رہی ہے ملکی معیشت قابو میں نہیں آرہی، 200 معاشی ماہرین کہاں گئے، شور قیامت ہے کہ معیشت بے قابو ہے ملک میں کاروباری طبقے کا اعتماد 26 فیصد کمی سے منفی 12 ہوگیا، روپے کی قدر میں کمی، شرح سود میں روز افزوں اضافہ، ادائیگیوں کے توازن پر بڑھتا دباؤ اہم وجوہات قرار دی گئیں، اس پر عدم دلچسپی، اکیلے وزیر خزانہ کیا کریں گے ہر وزیر خزانہ دستیاب وسائل سے آگے چلتا ہے یہاں وسائل نایاب، لوگ پوچھنے میں حق بجانب کہ معاشی پالیسی کہاں ہے، خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں، مہنگائی میں 40 فیصد اضافہ، اشیائے صرف قابو سے باہر، بجلی گیس پانی سب ندارد ،کیا یہ لطیفہ نہیں جس گھر کا گیس کا بل پچھلے چالیس سالوں سے 2800 روپے ماہانہ آرہا تھا اسے دس ہزار کا بل موصول ہوا، کمال ہے اوپر والے لا علم متعلقہ وزیر نے ڈھٹائی سے کہہ دیا کہ 142 ارب کے ٹیکس عوام سے وصول کریں گے ایک غریب کے گھر میں گیس کنکشن نہیں اسے 78 ہزار کا بل تھما دیا گیا بندہ صدمہ سے ہوش و حواس کھو بیٹھا کیا ہو رہا ہے، کچھ نہیں، ڈیل ڈھیل این آر او کی باتیں ہو رہی ہیں این آر او اپنی مرضی، قومی مفاد، ذاتی مفاد، بیرونی اثر و رسوخ یا پھر بیرونی دباؤ پر ہوتا ہے ڈیل نہیں ہوتی، این آر او ہوگیا تو رسیاں ضرور ڈھیلی ہو جائیں گی نہ ہوا تو عدالت سے ڈھیل مل سکتی ہے رات دن گردش میں ہیں سات آسماں، ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گبھرائیں کیا فیصلہ زمین پر ہو یا آسمان پر مقدر ہے اللہ کے فیصلوں کو کون ٹال سکتا ہے، فیصلے ہوتے رہیں گے جو کام کرنے کے ہیں وہ توکیے جائیں تاکہ عوام الناس کا بھلا ہوسکے۔ گڈ گورننس کے لیے ضروری ہے کہ بوڑھے اور عمر رسیدہ وزیروں کو ہدایت کی جائے کہ وہ سیٹیاں نہ بجائیں اپنے محکمے کی ترقی کے لیے شب و روز محنت کریں۔ سیٹیاں جوانی میں اچھی لگتی ہیں بڑھاپے میں بجائی جائیں تو لوگ ہنستے ہیں۔


ای پیپر