گیس کے بل اور صحت کارڈز
10 فروری 2019 2019-02-10

وزیر اعظم عمران خان نے کمال سادہ شخصیت پائی ہے۔ وہ اتنے سادہ ہیں کہ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ان کی حکومت کن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور ان کے نتیجے میں عام پاکستانی کن مشکلات سے دوچار ہیں۔ کبھی وہ ڈالر مہنگا کرنے کے فیصلے سے اظہار لا تعلقی کرتے ہیں تو کبھی گیس کے بل زیادہ آنے پر انکوائری کا حکم صادر فرماتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ ہر چیز کی قیمت میں اضافے کے بعد وزارت خزانہ ان کو یہی بتاتی ہے کہ اس اضافے کا غریب عوام پر خاص فرق نہیں پڑے گا ۔ جب بھی گیس ، بجلی اور پٹرول کے نرخ بڑھائے جاتے ہیں تو ساتھ ہی حکومتی وزراء یہ بیانات داغنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس اضافے کے نتیجے میں غریبوں پر خاص فرق نہیں پڑے گا ۔ اس سے ان کی مراد غالباً یہ ہوتی ہے کہ غریب آدمی اب اس قابل ہی نہیں رہے گا کہ وہ بجلی، گیس اور پٹرول کا زیادہ استعمال کر سکے لہٰذا کم استعمال کرنے کے نتیجے میں وہ زیادہ متاثر نہیں ہو گا ۔ بس اتنا ہی فرق پڑے گا کہ وہ گرمیوں میں بجلی کے پنکھے کی بجائے ہاتھ والا پنکھا استعمال کرے گا اور سردیوں میں ہیٹر جلانے کی بجائے اپنے اوپر ایک رضائی فالتو اوڑھے گا ۔ گیزر چلانا تو اس دور میں ویسے ہی عیاشی بن چکا ہے۔

اب گیس کے بلوں کو ہی لے لیجئے۔ وزیر اعظم عمران خان کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ ان کی حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اچھا خاصا اضافہ کیا تھا۔ جب گیس کی قیمت بڑھے گی تو بل بھی زیادہ آئیں گے۔ اس میں حیران ہونے والی کونسی بات ہے۔ در اصل گیس کی قیمتوں میں اضافے سے نچلا درمیانہ طبقہ اور درمیانہ طبقہ زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ان کی جیبوں پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔ جنہوں نے سردی سے بچنے کے لیے ہیٹر اور ٹھنڈے پانی سے بچنے کے لیے گیزر کی عیاشی کی اور یہ بھول گئے کہ حکومت تو پہلے ہی گیس مہنگی کر چکی ہے تو انہیں گیس کے بلوں نے ویسا ہی جھٹکا دیا جیسا کہ عمومی طور پر بجلی کے بل مئی سے ستمبر تک دیتے ہیں۔اچھا ہوتا اگر وزیر اعظم انکوائری سے پہلے وزیر خزانہ اسد عمر سے پوچھ لیتے جو کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سر براہ بھی ہیں اور ایسے تمام فیصلوں میں شریک رہتے ہیں کہ گیس کے بل اتنے زیادہ کیوں آئے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی پوچھ لیتے کہ یہ اضافہ ان کی حکومت کے دور میں ہوا ہے یا یہ کارنامہ پچھلی حکومت نے انجام دیا تھا ۔ تاکہ پچھلی حکومتوں کے گناہوں کی فہرست میں ایک اور گناہ کا اضافہ ہو جاتا۔تحریک انصاف کی حکومت نے گیس کی کھپت کے لحاظ سے سات درجے بنا کر گیس کی قیمتوں میں 10 فیصد سے لے کر 143 فیصد اضافہ کیا تھا ۔ اب گیس کے بلوں کے نتیجے میں سامنے آنے والے رد عمل کے جواب میں حکومتی زعما ایک بار پھر قربانی کے بکروں کی تلاش میں ہیں تاکہ ان پر ذمہ داری ڈال کر خود کو معصوم ثابت کرسکیں۔ اگر عمران خان کو ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے تو وہ ان افراد کو بلا لیں جنہوں نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فارمولا طے کیا تھا ۔ اس صورت حال کے ذمہ دار حکومت کے اندر براجمان ہیں انہیں باہر تلاش نہ کریں۔یہ بات سب جانتے ہیں کہ سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔ اس وقت وہ گھریلو صارفین جو کہ 300 کیوبک میٹر سے زیادہ گیس استعمال کر رہے ہیں وہ اتنی ہی قیمت ادا کر رہے ہیں جتنی کہ صنعت کار اپنی صنعتوں کے لیے ادا کر رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ٹیرف پر غور کرے تاکہ گیس کے 6.40 (64 لاکھ) صارفین کو ریلیف مل سکے۔ اس وقت جو صارفین 100 کیوبک میٹر تک گیس استعمال کر رہے ہیں وہ 314.67 ( MMBTU ) قیمت ادا کر رہے ہیں۔زیادہ بلوں کی وجہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ اس پر نظر ثانی کر لیجئے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔تحریک انصاف کی حکومت کا یہ موقف درست ہے کہ مسلم لیگ ن نے 5 سالوں میں گیس کی قیمتیں زیادہ نہیں بڑھائیں جس کی وجہ سے گیس کمپنیوں کا خسارہ 197 ارب تک جا پہنچا ۔ مگر اس خسارے کو بتدریج کم کیا جا سکتا تھا۔ گیس کی چوری روک کر آمدن میں اضافہ ممکن تھا ۔ مگر اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیا ۔ اب دوسرے معاملے کی طرف آتے ہیں جس کا تعلق صحت کی پالیسیوں سے ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے انصاف صحت کارڈ کے بڑے پیمانے پر اجراء کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملک بھر کے لاکھوں غریب خاندانوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ اس سے پہلے تحریک انصاف کی KPK کی صوبائی حکومت KPK میں اور مسلم لیگ ن کی حکومت مرکز اور پنجاب میں اس سکیم کا اجراء کر چکی تھیں۔ صحت کارڈ سے یقیناًان غریب خاندانوں کو فائدہ ہو گا جو کہ غربت کی وجہ سے علاج کی سہولت سے محروم تھے۔کوئی بھی ایسی پالیسی جس سے غریب محنت کش عوام کو فائدہ پہنچے۔ اس کی مخالفت تو نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی ان کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی سوچ کی حمایت کی جا سکتی ہے۔ اس سہولت سے جتنے بھی خاندان فائدہ اٹھائیں گے ان کے لیے آسانی پیدا ہو گی ۔مگر صحت کارڈز تمام شہریوں کو صحت اور علاج کی مفت سہولت کی فراہمی کا نعم البدل تو ہر گز نہیں ہے ۔ پاکستان کا آئین ہر شہری کو تعلیم اور صحت کی سہولیات کی لازمی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے۔ 1973 ء کے آئین کے تحت صحت اور تعلیم کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ صحت کارڈ جیسی اسکیموں کا اجراء در اصل اس ذمہ داری سے فرار کے مترادف ہے۔ حکومت سرکاری ہسپتالوں نجی شعبے سے صحت کی سہولیات کی فراہمی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ اس سکیم کے تحت جہاں غریب خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا وہیں پر انشورنس کمپنیوں اور نجی ہسپتالوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ اس سکیم کے تحت علاج کی زیادہ سے زیادہ حد سات لاکھ بیس ہزار روپے مقرر کی گئی ہے مگر یہ واضح نہیں ہے کہ اگر کیس کے علاج پر اس سے زیادہ پیسے خرچ ہوں گے تو وہ کون ادا کرے گا ۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اگر کوئی سرکاری ہسپتال سے علاج کراتا ہے تو وہ بھی اس کارڈ کے ذریعے ہی ادائیگی کرے گا ۔ صحت کارڈ کی فراہمی اچھا اقدام ہے مگر پاکستان کو یونیورسل ہیلتھ سروس کی ضرورت ہے۔ جس کے تحت ہر شہری کو مفت علاج اور صحت کی سہولت میسر آئے۔


ای پیپر