آزادیوں کے راہی‘ افضل گورو اور مقبول بٹ شہید
10 فروری 2019 2019-02-10

مقبوضہ کشمیر میں 9فروری کو افضل گوروکے یوم شہادت پر ہڑتال اور مظاہرے کئے گئے جبکہ آج 11 فروری کو مقبول بٹ کا یوم شہادت منایاجارہا ہے۔ اس موقع پر حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک کی اپیل پر مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر بھارتی فوج نے سری نگرسمیت دیگر حساس علاقوں میں ہر طرف رکاوٹیں کھڑی کر کے کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر دی ہیں ۔ اسی طرح حریت قائدین نظربند اور جیلوں میں ڈال دیے گئے ہیں تاکہ وہ احتجاجی مظاہروں کی قیادت نہ کر سکیں۔ بھارتی فوج ایسے مذموم ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کو ہراساں کرنے کی کوششیں کر رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس قوم میں شہید مقبول بٹ اور شہید افضل گورو جیسے جیالے تختہ دار کو خوشی سے چوم لیں اس قوم کو بندوق اورطاقت کے بل پر زیر کرنا یا غلام بنانا ممکن نہیں۔1947سے کشمیری قوم پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، کشمیریوں کی مبنی برحق جدوجہد کو دبانے کیلئے سامراجی اور آمریت پر مبنی حربے آزمائے گئے۔9 فروری 2013کو رات کے اندھیرے میں تمام مسلمہ انسانی اقدار ، عدل و انصاف کے تقاضوں اور انسانی جذبوں اور رشتوں کو بڑی بے دردی سے پامال کرکے جس طرح ایک کشمیری سپوت محمد افضل گورو کو تختہ دار پر لٹکایا گیا اس سے بھارت سرکار نے دنیا کو پیغام دیا کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر کچھ بھی کر گزرنے سے دریغ نہیں کرتی ۔ افضل کی پھانسی کو انصاف پسند حلقوں نے عدالتی قتل قرا ر دیا ۔ گواہوں کی عدم دستیابی کے باوجود افضل گورو شہید کا ٹرائل کیا گیا اور ایسے جرم میں سزا دی گئی جس سے ا سکا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس انسانیت سوز واقعہ سے بھارتی عدلیہ اورنام نہاد جمہوریت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہو گیا۔ افضل کو بھارتی سپریم کورٹ نے 2004 میں پھانسی کی سزا سنائی۔ انہیں اکتوبر 2006 میں پھانسی دی جانی تھی تاہم رحم کی اپیل دائر کیے جانے کی وجہ سے ان کی سزا پر عمل درآمدموخرکر دیا گیا تاہم 2013ء میں انہیں انتہائی رازداری سے پھانسی دے دی گئی۔ افضل گورو مقبوضہ کشمیر کے قصبے سوپور کے متوسط خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ دوران تعلیم انہیں سکول میں بھارتی یوم آزادی کی پریڈ کی قیادت کے لیے چنا جاتا تھا۔ ایف اے کرنے کے بعدکشمیر میں بھارتی مظالم اپنی آنکھوں سے دیکھے توآزادی پسندوں سے رابطہ کیا۔خاص طور پر سری نگرمیں بھارتی فوج کے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کے افسوسناک واقعہ سے انہیں شدیدصدمہ پہنچا جس کے بعد انہوں نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کر لی۔کچھ عرصہ بعد انہوں نے عسکریت پسندی چھوڑ کر پرامن زندگی کا آغاز کیا۔ اس دوران انہوں نے اکنامکس میں ڈگری لینے کے بعد دہلی میں بینک آف امریکا میں نوکری کی۔ انیس سو اٹھانوے میں شادی کے بعد افضل گورو نے میڈیسن کمپنی کے ساتھ کاروبار شروع کر دیالیکن بھارتی فورسز کویہ بات بھی برداشت نہ ہوئی اورسال دو ہزار میں بھارتی فوج نے انہیں پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا اور بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعہ نے ان کے دل میں بھارت کے خلاف مزید نفرت پیدا کر دی۔

بھارتی پارلیمنٹ حملہ کیس میں کشمیری نوجوان محمد افضل گورو کے لیے پھانسی سے دو روز قبل ہی تہاڑ جیل میں قبر تیار کر لی گئی تھی جہاں انہیں لحد میں اتار کر سپرد خاک کیا گیا۔ جس وقت انہیں پھانسی دی جارہی تھی وہاں ایک ڈاکٹر، ایک مجسٹریٹ اور جیل حکام کے چند افسران سمیت دیگر عملہ موجود تھا۔ جیل ذرائع کے مطابق پھانسی کے وقت شہید کشمیر بالکل پرسکون تھے اور آخری لمحات پر انہوں نے انتہائی صبروتحمل کا مظاہرہ کیا۔ جس وقت انہیں پھانسی دی جانی تھی اس سے قبل رات بھر وہ عبادت کرتے رہے۔ اپنے آخری خط میں انہوں نے اہل خانہ کو یہ لکھا کہ ان کی پھانسی پر افسوس کا اظہار کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے مقام پر شکر ادا کیا جائے۔ بھارتی ظلم و زیادتی کا عالم یہ ہے کہ پھانسی سے پہلے نہ توشہید افضل کی ان کے اہل خانہ سے ملاقات کروائی گئی اور نہ ہی انہیں اس بات کی اطلاع دی گئی۔ خود بھارتی جسٹس نے کہاکہ افضل کیخلاف پارلیمنٹ پر حملہ کے کوئی واضح ثبوت نہیں ہیں تاہم ہندوستانی قوم کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ افضل گورو شہید کی طرح مقبول بٹ کو بھی فروری کے مہینہ میں گیارہ تاریخ کو پھانسی دی گئی جس پرماہ فروری کو خاص طورپر جدوجہد آزادی کے حوالہ سے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ مقبول بٹ بچپن سے ہی سماجی اونچ نیچ کیخلاف تھے۔ ان کے حوالہ سے ایک واقعہ بہت معروف ہے کہ بچپن میں انہیں اسکول میں ہونے والی تقریب میں میڈل دیا جانا تھا۔ وہ سکول پہنچے تو امیر اور غریب طلباء کے والدین کیلئے الگ الگ نشستیں لگائی گئی تھیں تاہم انہوں نے اس وقت تک اپنا انعام وصول کرنے سے انکار کر دیا او رکہاکہ جب تک سب کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جائے گا وہ اپنا انعام وصول نہیں کریں گے جس پر سکول انتظامیہ کو ان کی بات تسلیم کرنا پڑی اور سب کیلئے کرسیاں ایک ساتھ لگائی گئیں۔ اس کے بعد کشمیر میں یہ پرانی چلی آنے والی یہ روایت ٹوٹ گئی اور ہر سال اس بات کا خاص خیال رکھا جانے لگا کہ کسی کے ساتھ کوئی خصوصی برتاؤ نہ کیا جائے۔ سکول اور کالج میں انہیں قریب سے دیکھنے والے اساتذہ کا کہنا تھا کہ یہ شخص زندہ رہا تو ایک دن بہت بڑا آدمی بنے گااور نمایاں طور پر ترقی کرے گا۔ مقبول بٹ شہید کو ان کی خدمات کی بنا پرکشمیر میں بابائے قوم کہاجاتا ہے۔ وہ بی اے تک مقبوضہ کشمیر میں پڑھتے رہے جبکہ1958ء میں وہ اپنے چچا کے ساتھ پاکستان آئے اور پشاور میں سکونت اختیار کرتے ہوئے اردو ادب میں ماسٹر کیا اور ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ 1961ء میں انہوں نے پشاور سے کشمیری مہاجرین کی نشست پر الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی ۔ بعد ازاں مقبول بٹ شہید 10جون 1966ء کو واپس مقبوضہ کشمیر چلے گئے۔ مقبول بٹ شہید نے تحریک آزادی کے حوالہ سے خفیہ سرگرمیاں شروع کر دی تھیں جن کا علم ہونے پر بھارتی فورسز نے انہیں گرفتار کیااور بغاوت کا مقدمہ بنا کر سری نگر کی سنٹرل جیل میں قید کر دیا گیا۔ مقبول بٹ فلسطین اور ویت نام کی تحریک آزادی سے بہت متاثر تھے اور انہی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی تربیت کر رہے تھے۔ اگست1968ء میں کشمیر ہائی کورٹ کی طرف سے انہیں بغاوت کے مقدمہ میں سزائے موت سنائی گئی تاہم دسمبر 1968ء میں وہ جیل کی دیواروں میں شگاف ڈال کر فرار ہو گئے او رایک مرتبہ پھر آزاد کشمیر آگئے۔ ان کی جدوجہد آزادی کا بے مثال جذبہ دیکھ کرکشمیری و پاکستانی قوم نے ان کی بھرپور حمایت کی۔1976ء میں مقبول بٹ شہید دوبارہ کشمیر چلے گئے جہاں انہیں ایک مرتبہ پھر گرفتار کر کے پرانے مقدمہ کی فائل کھول دی گئی ۔ اس لحاظ سے مہاجرین میں سے تحریک آزادی میں حصہ لینے کیلئے دوبارہ واپس جانے والے چند ایک گنے چنے لوگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بہرحال ہندوستانی سپریم کورٹ نے بھی کشمیر ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھااور پھر 11فروری 1984ء کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔دیکھا جائے تو افضل گورو اور مقبول بٹ شہید منزل آزادی کے دو ایسے راہی تھی جن کی لازوال قربانیوں کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔ کشمیری قوم آج بھی اپنے ان شہداء سے اس قدر محبت رکھتی ہے کہ ہر سال فروری میں پوری کشمیری قوم جہاں مساجد میں تقریبات منعقد کر کے خصوصی طور پر دعائیں کرتی ہے وہیں پورے کشمیر میں ہڑتال کی جاتی ہے اور احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کرکے غاصب بھارتی ظلم و بربریت کیخلاف آواز بلند کر کے شہداء کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کیا جاتا ہے۔ دونوں شہداء کشمیری عوام کے عظیم قائد تھے جنہوں نے کشمیری عوام کی آزادی کی خاطر سرجھکانے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی۔آج مقبوضہ اور آزاد کشمیر سمیت پوری دنیا میں ان کی یاد میں خصوصی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔حریت قائدین کا یہ کہنا درست ہے کہ افضل گورو اور مقبول بٹ شہید شہدائے اسلام اور ہمارے قومی ہیرو ہیں جنہوں نے بھارتی قبضے سے آزادی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ جموں کشمیر کے عوام ہر صورت ان کے مشن کو جاری رکھیں گے۔حقیقت ہے کہ پاکستان جسے کشمیری قوم اپنا سب سے بڑا محسن اور وکیل سمجھتی ہے اسے چاہیے کہ وہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا کھل کر ساتھ دے۔تحریک آزادی میں ان کی بھرپور مددوحمایت کرنا ہم سب کا فرض بھی ہے اور قرض بھی۔شہداء کی لہو سے روشن ہونے والے چراغوں کو بجھانا ممکن نہیں ہے۔ وہ وقت قریب ہے کہ جب بھارت کو اپنی آٹھ لاکھ فوج کشمیر سے نکالنا پڑے گی اور مظلوم کشمیری قوم آزاد فضا میں سانس لے سکے گی۔


ای پیپر