فیض آباد دھرنہ عدالتی فیصلہ۔ چیدہ چیدہ نکات
10 فروری 2019 2019-02-10

اظہار رائے کی ازادی ، جلسہ کرنے یا احتجاج کرنے کی آزادی اسی وقت تک حاصل ہے۔ جب تک یہ دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثر نہ کرے یا ان بنیادی حقوق کو سلب نہ کرے۔آئین پاکستان ایک قانونی طور پر منتخب حکومت کو دھرنوں یا احتجاج سے ختم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ایسے احتجاج یا دھرنے کو ختم کرنے کا ریاست کو حق حاصل ہے۔آج کے بعد اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے خلاف مذہبی بنیادوں پر کوئی فتوی جاری کرتا ہے۔ جس سے اس کے مال و جان کو خطرہ ہو جائے۔ فتوی دینے والے اس شخص کے خلاف دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ مذہب کو نفرت اور تشدد کے لیے استعمال کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔آئین پاکستان کسی ادارے یا فرد کو مسیحا بننے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی ادارہ یا شخص خود کو مسیحا سمجھتا ہے۔ تو وہ فریب کا شکار ہے۔

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے کے نتیجے میں بننے والے جوڈیشل کمیشن نے فیصلہ دیا۔ 2013 کے الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوئی۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا۔ لیکن دھاندلی کے غلط ایشو پر دینے والے اس دھرنے پر کوئی معذرت بھی نہیں کی۔ جگہ کی صفائی کرنا تو دور کی بات تھی۔تحریک لبیک والوں کا یہ کہنا ایک مجرمانہ فعل تھا کہ اگر لوگ ان کے کہنے کے مطابق نہ چلے۔ تو خدا ان سے ناراض ہو جائے گا۔

شہریوں کی جان کا تحفظ، ان کی پراپرٹیز کا تحفظ اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ فیض آباد دھرنے میں ریاست اپنا یہ فرض نبھانے میں ناکام رہی۔ اور دھرنے والوں نے پورا ملک مفلوج کر دیا۔ اور شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کر لیے۔ اور ان کی جان و مال اور املاک کو نقصان پہنچایا۔تحریک لبیک کی حوصلہ افزائی اس بات سے بھی ہوئی کہ انہیں علم تھا۔ 12 مئی کے کراچی قتل عام کے ذمہ داروں کو سزا نہیں ہوئی۔ اور تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا اسلام آباد دھرنہ جوڈیشل کمیشن بنوانے میں کامیاب رہا حالانکہ اس جوڈیشل کمیشن نے ثابت کیا کہ 2013 کے انتخابات صاف شفاف اور غیر جانبدار تھے۔ اور یہ کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا موقف غلط تھا۔دھرنے کے دوران کچھ نجی ٹی وی چینلز اور اینکرز نے نفرت اور تشدد کو پروموٹ کیا۔ آئی ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں خاص طور پر چینل 92 کا ذکر کیا۔ جو دھرنے کو سپورٹ کر رہا تھا۔ اور دھرنے کے شرکاء کو کھانا مہیا کر رہا تھا۔ پیمرا ایسے نجی ٹی وی چینلز اور اینکرز کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں ناکام رہا۔کچھ اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز کو کام کرنے سے روکا گیا۔ خاص طور پر کنٹونمنٹ کے اندر ان اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز کو بند کر دیا گیا۔ پیمرا یہاں بھی کارروائی کرنے سے قاصر رہا۔ کسی ادارے یا شخص کو پریس کی آزادی اور نقل و حرکت پر سنسر شپ لگانے کی اجازت نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان تحریک لبیک کی فنڈنگ کے ملکی و غیرملکی ذرائع جاننے میں ناکام رہا اور لبیک کو ایک سیاسی پارٹی کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا یہ قدم غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔اگر مسلح افواج کا کوئی فرد سیاست میں حصہ لیتا ہے۔ یا میڈیا کو لے کر جوڑ توڑ کرتا ہے۔ وہ مسلح افواج کی سالمیت اور پیشہ ورانہ مہارت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ مسلح افواج ریاست کے تمام شہریوں کا مشترک اثاثہ ہے۔ اور کوئی باوردی اہلکار کسی ایک سیاسی پارٹی یا لیڈر کی عملی حمایت نہیں کر سکتا۔آئین پاکستان کے مطابق مسلح افواج وفاقی حکومت کی ڈائریکشن پر غیرملکی حملے یا جنگ کی دھمکی کے خلاف ملک کا دفاع کریں گی۔ یا قانون کے مطابق جب اندرون ملک ضرورت ہو، حکومت کے کہنے پر اس کی مدد کرے گی۔تمام خفیہ ایجنسیاں بشمول آئی ایس آئی، آی بی، ایم آئی اور آئی آیس پی آر اپنے مجوزہ مینڈیٹ سے تجاوز نہ کریں۔ یہ ایجنسیاں اظہار رائے، تقریر ، نجی ٹی وی چینلز پر سنسر شپ یا اخبارات کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی نہیں لگا سکتیں۔خفیہ ایجنسیاں ان قوتوں پر نظر رکھیں۔ جو ملکی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں اور جو شہریوں اور ریاست کی سکیورٹی کو تشدد کے ذریعے خطرے میں ڈالتے ہیں۔آئین پاکستان مسلح افواج کے افراد کو سیاست میں ملوث ہونے سے منع کرتا ہے۔ یہ عدالت مسلح افواج کے سربراہوں کو ہدایت جاری کرتی ہے۔ ان تمام باوردی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے جو سیاست میں ملوث پائے جاتے ہیں۔یہ عدالت ان تمام افراد پر مقدمہ قائم کرنے کی ہدایت جاری کرتی ہے۔ جو فیض آباد دھرنے میں شامل ہوئے، تشدد میں ملوث رہے اور شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچایا۔


ای پیپر