The government is not going, Prime Minister
10 دسمبر 2020 (17:52) 2020-12-10

اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کورونا کی حالیہ صورتحال کا بحیثیت قوم مقابلہ کرنا ہے،احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر کورونا کیسز میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے ،احتیاط نہ کی گئی تو حالات خراب ہو سکتے ہیں ۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا 64 فیصد ملتان میں اس وقت کورونا مریضوں کے بستر بھرے ہوئے ہیں،40 فیصد پشاور میں کورونا مریضوں کے بستر بھرے ہوئے ہیں،اسلام آباد میں 50 فیصد کے قریب کورونا مریضوں کے بستر بھرے ہوئے ہیں،جہاں لوگ زیادہ جمع ہوتے ہیں کورونا وہاں تیزی سے پھیلتا ہے،ملک میں اس وقت اوسطاً 40 فیصد  بیڈز کورونا کی وجہ سے بھرے ہیں،۔

وزیر اعظم نے کہا عوام کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں، منہ پر ماسک پہننے سے کورونا منہ میں داخل نہیں ہوتا،جلسے جلوسوں سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، حکومت نہیں جانے والی،اس وقت ضرورت عوام کو کورونا سے بچانے کی ہے،جلسے جلوس 2،3 ماہ بعد کرلیں تاکہ لوگوں کی جان خطرے سے بچائی جاسکے،اسکولز ،ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کو کورونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے بند کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا اس وقت اپوزیشن جماعتوں کی وجہ سے حالات انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر سکتی ہے ،علما اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں  ایک جانب مساجد میں ایس او پیز ہیں تو دوسری طرف جلسے جلوس ہو رہے ہیں،دنیا میںحالات تیزی سے  بدل رہے ہیں ،انگلینڈ میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے،لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاڑی دار مزدور طبقہ زیادہ متاثر ہوتا ہے،کورونا کی پہلی لہر کیخلاف قوم نے ایس او پیز پر بھرپور عمل کیا تھا، اس وجہ سے پاکستان نے کورونا پر قابو پایا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کورونا کی دوسری لہر بہت زیادہ خطرناک ہے، اس وقت احتیاط کی ضرورت ہے،کورونا میں اضافے سے اسپتالوں اور ڈاکٹرز پر پریشر بڑھے گا،عوام سے اپیل ہے وہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں،سردی سے  بچیں اور دوسروں کوبھی  بچائیں،اسی میں سب کی بھلائی ہے،جلسے جلوس کرنے سے اجتناب کریں اور عوام کو محفوظ بنائیں،جلسےجلوسوں میں لوگوں نے ماسک نہیں پہنے ہوتے،اس وجہ سے کورونا کا پھیلاؤ تیزی سے ہوتا ہے۔


ای پیپر