Court, DJ Butt, Lahore jalsa, PML-N, PTI, Imran Khan
10 دسمبر 2020 (13:57) 2020-12-10

لاہور کی مقامی عدالت نے ڈی جے بٹ کی ضمانت منظور کرلی، عدالت نے ڈی جے بٹ کو پچاس ہزار کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

تفصیلات کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران ڈی جے بٹ کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی انتقام کا کیس ہے، 13 دسمبر کے جلسے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ میرے موکل پر جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ اُن پر لاگو ہی نہیں ہوتیں۔

ادھر رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جے بٹ کی آنکھیں بھر آئیں ، بولے ہمیں مزدوری کرنے دیں ہمارا کیا قصور ہے۔ مجھ سے ایسا سلوک ہو رہا ہے جیسے دہشت گردوں سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپیکر نہیں چلوانے تو حکومت قبضے میں لے لیں۔

لاہور جلسے کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ اگر 13 دسمبر کو جلسہ کی دعوت ملی تو ساونڈ سسٹم لگاوں گا، انہوں نے حکمران جماعت پر واضح کیا کہ میں مزدور ہوں سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں، اگر 13 دسمبر کے جلسے کے لیے اچھی آفر آٸی تو ضرور جاوں گا۔ ڈی جے بٹ نے کہا کہ میرے بچے فیس کا اور مالک مکان کرایہ کا پوچھیں تو کیا کہوں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور پولیس نے پاکستان ڈیمو کریٹک کے جلسے سے قبل ڈی جے بٹ کو گرفتار کرکے تھانہ ماڈل ٹاون منقتل کر دیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ڈی جے بٹ کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر گرفتار کیا گیا، جبکہ ن لیگ کا موقف تھا کہ تبدیلی سرکار نے ڈی جے بٹ کو اس لیے گرفتار کیا تاکہ وہ جلسے میں ساونڈ سسٹم نہ پہنچا سکے۔

واضح رہے کہ پی ڈی ایم کا جلسہ لاہور میں 13 دسمبر کو ہو گا جس کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں۔


ای پیپر