Plots, LDA, Johar Town, registration, land mafia, Lahore
10 دسمبر 2020 (13:07) 2020-12-10

لاہور ( احمد قریشی) ایل ڈی اے کی انوینٹری رپورٹ میں جوہر ٹاؤن کے متعدد پلاٹس کے اندراج نہ ہونے کا انکشاف، قبضہ مافیا متحرک ڈائریکٹر سٹیٹ ون سہولت کار ، 42 اے جوہر ٹاؤن کی بوگس فائل ضبط کرنے کی بجائے واپس کردی گئی، پلاٹ کی مالیت دس کروڑ روپے ہے، نئی فائل میں جعل سازی کے ذریعے مذکورہ پلاٹ الاٹ کروائے جانے کا امکان۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں جوہر ٹاؤن ، گلشن راوی، سبزاہ زار، ایل ڈی اے ایونیو ون سمیت ایل ڈی اے کی اپنی ہاؤسنگ سکیموں کے الاٹنمنٹ، ایگزمپشن کیسز کا ریکارڈ انوینٹری لسٹ میں ہوتا ہے ، جوہر ٹاؤن میں تقریبا ایل ڈی اے کے تین ہزار پلاٹ ہیں اور انکشاف ہوا ہے کہ متعدد پلاٹ ایل ڈی اے کی انوینٹری لسٹ میں شامل ہی نہیں ہیں جس کا بھرپور فائدہ قبضہ مافیا اٹھا رہا ہے اور اس میں ڈائریکٹر سٹیٹ ون جوہر ٹائون سبطین رضا قریشی لینڈ گریبرز کے سہولت کار ہیں۔

ذرائع نے نئی بات کو بتایا کہ سبطین رضا قریشی کے پاس بابر کھرل نامی شخص 42 اے جوہر ٹائون کی فائل لے کر آیا کہ یہ پلاٹ میری بیگم کے نام ٹرانسفر کروا دیں ، اس فائل میں چلان، مختیار عام ، گفٹ ڈیڈ نیز سبھی کاغذات لگے ہوئے تھے۔ مذکورہ ڈائریکٹر نے فائل چیک کرنے کے احکامات صادر کرتے ہوئے فائل شعبہ ٹائون پلاننگ، فنانس سمیت متعلقہ شعبوں میں بھجوا دی جس کے بعد معلوم ہوا کہ اس فائل کا کوئی ریکارڈ ایل ڈی اے کے پاس نہیں ہے۔ تمام متعلقہ شعبہ جات نے سپیشل رپورٹ پر تحریر کر دیا کہ یہ فائل بوگس ہے، جب ڈائریکٹر سٹیٹ ون کو پتا چلا تو انہوں نے فائل اپنے پاس منگوا کر بابر کھرل کو تھما دی کہ یہ فائل آپ لے جائیں۔

ایل ڈی اے کے تمام متعلقہ شعبوں میں فائل کی ریسونگ موجود ہے اب جبکہ سسٹم میں یہ فائل کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا شو ہو رہا تھا اور یہ کیس پنڈنگ تھا تو ایل ڈی اے پابند ہے کہ درخواست گزار کو جواب دیا جائے دو ماہ گزرنے کے بعد ایل ڈی اے نے بابر کھرل کو جواب دیا کہ آپ کی فائل بوگس ہے لہذا آپ کی درخواست پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔

ذرائع کے مطابق اس سارے ڈرامے کا مقصد یہ چیک کرنا تھا کہ آیا یہ پلاٹ کسی کو الاٹ تو نہیں ہوا ، اب جبکہ قیمتی پلاٹ کا ریکارڈ ایل ڈی اے میں نہیں نکلا تو اب اس پلاٹ کی دوبارہ فائل تیار کر کے جعلی سازی سے یہ پلاٹ متعلقہ ڈائریکٹر کی معاونت سے الاٹ کروائے جانے کا امکان ہے۔

بابر کھرل ایل ڈی اے کا سابق ملازم ہے اور کچھ عرصہ قبل نیب سے پلی بارگین کر کے رہا ہوا ہے ، نیب حکام نے جب اس کے گھر چھاپہ مارا تھا تب اس کے گھر سے تین کلو سونا برآمد ہوا تھا۔ خبر پر موقف لینے کیلئے ڈائریکٹر سٹیٹ ون سبطین رضا قریشی سے ان کے دفتر رابطہ کیا گیا تو پیغام ملا کہ وہ مصروف ہیں جبکہ ان کے موبائل پر کال کی گئی مگر انہوں نے کال سننا بھی گوارہ نہ کی۔


ای پیپر