Iftikhar Gilani, India, Columns, Atta-ur-Rahman
10 دسمبر 2020 (12:36) 2020-12-10

بھارت سے تعلق رکھنے والے ممتاز اخبار نویس اور کالم نگار افتخار گیلانی جنہیں اپنی آزاد روش اور بھارتی سیاست کے تہہ در تہہ چھپے ہوئے حقائق خاص طور پر ہندو حکمران ذہنیت کا پردہ چاک کرنے کی پاداش میں جیل کی سزا بھی بھگتنا پڑی ایک معاصر روزنامے کے اندر تازہ ترین کالم میں رقم طراز ہیں ’’تبدیلی مذہب کے قانون کو سخت بنانے کے ساتھ ساتھ اب ہندو قوم پرست بی جے پی کی قیادت والے صوبے یکے بعد دیگرے بین المذاہب شادیوں کو روکنے کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں… خاص طور پر اگر لڑکا مسلمان اور لڑکی ہندو ہو… اُترپردیش کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ہی ایک آرڈیننس منظور کیا اور پھر اڑتالیس گھنٹے کے اندر ہی اس کا اطلاق کر کے لکھنؤ میں ایک ایسی ہی شادی کو رکوا کر ایک مسلم نوجوان کو جیل بھجوا دیا… ایسی شادیوں کو ’’لو جہاد‘‘ کا نام دے کر مطعون کر دیا گیا ہے… بتایا جاتا ہے کہ مسلمان لڑکے ہندوئوں کے بھیس میں دیہاتوں اور قصبوں میں گھومتے رہتے ہیں اور لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنساتے ہیں… شادی کے بعد جب پتا چلتا ہے کہ لڑکا مسلمان ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے… پھر لڑکی کا زبردستی مذہب تبدیل کیا جاتا ہے… ایک تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ان کے ہاتھ تو ایک ریٹ لسٹ بھی لگی ہے جس کے تحت ایک برہمن لڑکی بھگانے اور مسلمان کرنے پر مسلم نوجوانوں کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں سے دس سے پندرہ لاکھ روپے دلائے جاتے ہیں… جبکہ دیگر ذاتوں کی لڑکیوں کے لئے سات سے دس لاکھ اور نچلی ذات یعنی دلت لڑکیوں کے لئے ریٹ پانچ لاکھ ہے‘‘… 

افتخار گیلانی کا یہ کالم پڑھ کر مجھے 1991 کا اپنا پہلا دورہ بھارت یاد آ گیا… تب وہاں 1980-81 کے اس واقعے کی یادیں تازہ تھیں جب جنوبی ہند میں ایک پورے کے پورے گائوں کی ہندو آبادی نے اسلام قبول کر لیا تھا… تب بی جے پی نہیں سیکولر کانگریس کی حکومت تھی لیکن امور مملکت پر ہندو ذہنیت کی کارفرمائی تھی… اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ پورے بھارت کی اکثریتی آبادی میں آگ سی بھڑک اٹھی… سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا… اس مرحلے پر بھارت کی مسلمان قیادت نے فیصلہ کیا آئندہ جو بھی ہندو مرد یا عورت اسلام قبول کرے اس کی تشہیر نہ ہونے دی جائے تاکہ متعصب ہندو ایسے لوگوں پر جینا حرام نہ کردیں… میں جون 1991 میں دہلی گیا… مقصد تو وہاں ہونے والے عام انتخابات کا جائزہ لینا اور اس عمل کا مشاہدہ کرنا تھا… لیکن وہاں کے خاص طور پر مسلمانوں کو درپیش سماجی اور دیگر مشکلات کے بارے میں آگہی حاصل کرنا بھی میرے پیش نظر تھا… اسی ضمن میں مجھے بتایا گیا کہ جامع مسجد دہلی میں تقریباً روزانہ ایک یا دو ہندو رضاکارانہ آ کر اسلام قبول کرتے ہیں… یہی کچھ حال بھارت میں پھیلی ہوئی دوسری مساجد اور اسلامی تبلیغی مراکز کا ہے… یہ بات ہر ایک کی زبان پر تھی کہ اسلام بھارت کے اندر سب سے زیادہ پھیلنے والا مذہب ہے… بھارت کے ہندو سیاستدانوں اور دانشوروں کے اندر سخت تشویش پائی جاتی تھی کہ مسلمانوں کی آبادی تناسب کے لحاظ سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں… ضبط ولادت کے اصولوں پر عمل نہیں کرتے… دوسرے غریب ہندوئوں کو مختلف ترغیبات دلا کر خاص طور پر خلیجی ریاستوں میں ملازمتوں اور بعداز موت جنت کی حوروں کا لالچ دے کر مسلمان بنایا جاتا ہے… میں نے اپنے قیام بھارت کے دوران مختلف سیاسی لیڈروں سے ملاقاتوں کے علاوہ دہلی، لکھنؤ اور علی گڑھ میں مسلمانوں کے اہم تعلیمی اور دینی مراکز میں بھی گیا… جامعہ ملّیہ دہلی مشہور یونیورسٹی ہے… تحریک خلافت کے زمانہ میں علی برادران مولانا ابوالکلام آزاد اور دیگر آزادی پسند رہنمائوں نے قائم کی تھی… ڈاکٹر ذاکر حسین جو بعد میں بھارت کے نائب صدر مقرر کئے اس کے پہلے وائس چانسلر تھے… ابھی پچھلے برس جب مسلمانوں کے خلاف شہریت کے امتیازی قانون پر جو زبردست مزاحمتی ردعمل دیکھنے کو ملا اس میں جامعہ ملّیہ کے طلبہ پیش پیش تھے… انہوں نے بھارتی پولیس کے مقابلے میں جرأت اور بہادری کی نئی مثالیں قائم کیں مسلمان 

طالبات نمبر لے گئیں… کئی ہفتوں تک خبروں کا موضوع بنے رہے… جون 1991 میں مجھے اسی جامعہ ملّیہ میں جانے اور وہاں کے کچھ اساتذہ اور طلبا و طالبات سے ملنے کا اتفاق ہوا… شعبہ اُردو کے سربراہ سے تبادلہ خیالات کے دوران میں نے ڈرتے ڈرتے ان کے سامنے ایک تجویز رکھنا چاہی اور عرض کیا اگر آپ میری بات کو مناسب سمجھیں تو شکرگزار ہوں گا… بصورت دیگر سن کرخاموشی اختیار کر لیجئے گا میں سمجھ جائوں گا آپ اسے مناسب خیال نہیں کرتے…  وہ بولے فرمایئے… میں نے کہا اگر ممکن ہو تو میری اکیلے میں یونیورسٹی کی ایسی طالبہ سے ملاقات کرا دیجئے جو سات پشتوں سے دہلی والی ہو… انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا  مقصد؟ میں نے کہا میں آج کی اکبری اور اصغری (ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں کے مشہور کردار) سے ملنا چاہتا ہوں اور جاننا چاہتا ہوں موجودہ حالات میں وہ کس نہج پر سوچتی ہیں اور ان کا طرز احساس کیا ہے… پروفیسر صاحب خاموشی سے اُٹھ کر دفتر سے باہر چلے گئے… کوئی دس منٹ بعد تشریف لائے تو ان کے ہمراہ ایک نوجوان مسلمان طالبہ تھی… مجھ سے کہا آپ اس سے باتیں کر لیجئے میں باہر چلا جاتا ہوں… میں نے اس طالبہ سے دہلی کے مسلمانوں کی خاندانی زندگیوں اور تقسیم کے بعد انہیں درپیش مختلف سوالات کئے وہ جواب دیتی رہی اثنائے گفتگو میں نے پوچھا یہ جو مسلمان لڑکیاں ہندو لڑکوں سے شادی کر لیتی ہیں… اس کی وجہ کیا ہے… اس نے کہا سبب اس کا ہمارے سماجی اور معاشی حالات ہیں… ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے مسلمان لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ پڑھ لکھ جاتی ہیں… گریجوایٹ اور پوسٹ گریجوایٹ کی ڈگریاں حاصل کر لیتی ہیں جبکہ مسلمان لڑکے زیادہ تر آزاد منش ہوتے ہیں تعلیم کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے اس لئے کئی مسلمان لڑکیاں اپنے ہم جماعت ہندو لڑکوں سے بیاہ رچا لیتی ہیں… اس طرح معاشی لحاظ سے بھی آسودہ ماحول میں چلی جاتی ہیں… اتنی بات کہہ کر اس نے کہا آپ نے اگلا سوال نہیں پوچھا… میں نے کہا بیٹی وہ کیا… اس نے جواب دیا جتنی تعداد میں مسلمان لڑکیاں ہندوئوں سے شادی کرتی ہیں کم و بیش اسی تناسب کے ساتھ ہندو خواتین بھی مسلمانوں کے ساتھ بیاہ کرتی ہیں… میں نے اظہار تعجب کیا… اس نے کہا یہ حقیقت ہے آپ کسی سے بھی دریافت کر لیجئے… میرے تجسس میں اضافہ ہو گیا… سبب جاننا چاہا… اس نے کہا ایک وجہ تو یہ ہے مسلمان لڑکے ذرا dashing قسم کے ہوتے ہیں کئی ہندو لڑکیوں کو ان کی ادائیں پسند آ جاتی ہیں اس لئے فریفتہ ہو جاتی ہیں… دوسری اور بڑی وجہ کیش یا بڑی رقوم کی ہوتی ہے… ہندوئوں کے یہاں لڑکا جتنا لائق ہو، اچھے عہدے پر فائز ہو اس کے والدین لڑکی والوں سے جہیز کے علاوہ اتنی بڑی نقد رقم بھی مانگتے ہیں اور یہ کئی کئی لاکھ تک پہنچ جاتی ہے جو ظاہر ہے غریب کیا نچلے متوسط لوگوں کے لئے بھی دنیا مشکل ہوتی ہے… مسلمانوں کے یہاں حسب توفیق جہیزتو لیا اور دیا جاتا ہے لیکن دلہے کو بڑی بڑی نقد رقوم دینے کا رواج نہیں… اس لئے جن ہندو لڑکیوں کے والدین اس کا اہتمام نہیں کر پاتے تو وہ غیرشادی شدہ رہنے کی بجائے مسلمان لڑکوں کے عقد میں چلی جاتی ہیں… ان کی معتد بہ تعداد مذہب بھی تبدیل کر لیتی ہے… اب جیسا کہ افتخار گیلانی نے اپنے کالم میں لکھا ہے اس قسم کے واقعات کو ہندو ’’لو جہاد‘‘ کا طعنہ بنا کر نفرت انگیز مہم چلا رہے ہیں تو ایسا وہ اپنے ملک اور سماج کے حالات اور تضادات سے زچ ہو کر کر رہے ہیں… انہیں اس صورت حال سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی… 

اگلے روز علی الصبح میری آنکھ ہی کھلی تھی کہ ہوٹل کے کمرے کے ٹیلیفون کی گھنٹی بجی… دوسری جانب ایک صاحب نے تعارف کرایا میں حکیم فلاح بول رہا ہوں کل جامعہ میں آپ نے میری بیٹی سے ملاقات کی تھی… کیا آپ آج میرے یہاں ناشتے پر آ سکیں گے… میں نے ہاں کر دی… انہوں نے گھر کا پتا بتایا… وہاں پہنچا… یہ صاحب دہلی کے حکیموں کے ایک خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اب بھی مطب کرتے تھے… انہوں نے لذیذ نہاری سے تواضع کی… صاحبزادی بھی آن بیٹھیں… حکیم صاحب بولے بیٹی نے مجھ سے آپ کے ساتھ ملاقات کا احوال بتایا… میرے اندر بھی آپ سے ملاقات کی خواہش پیدا ہوئی… ان کے ساتھ گھنٹہ بھر گفتگو ہوتی رہی… تقسیم کے بعد بھارت خاص طور پر دہلی میں رہ جانے والے خاندانوں پر کیا گزری… انہوں نے کس طرح اپنے آپ کو مشکل ترین حالات میں سنبھالا اس کے بارے میں خاصی معلومات حاصل ہوئیں…  اسی سفر بھارت کے دوران مجھے ایک دلچسپ مشاہدہ اس وقت ہوا جب میں ایک صبح رامپور سے لکھنؤ کی بس میں سوار ہوا… بس میں ہندوئوں کی ایک بارات بھی جا رہی تھی… مجھے ان کی رسوم جاننے میں دلچسپی پیدا ہوئی… دولہے کے بڑے بھائی سے کئی رسوم کے بارے میں پوچھتا رہا… اس نے مجھے لڑکی والوں کے گھر ساتھ چلنے کی دعوت بھی دی… لیکن میرا لکھنؤ میں کئی ملاقاتوں کے لئے وقت طے تھااس لئے معذرت کرنا پڑی… اثنائے گفتگو اچانک میری نظر پیتل کے ایک مٹکے پر پڑی جسے بہت سنبھال کر رکھا جا رہا تھا… میں نے پوچھا اس میں کیا ہے… جواب میں بتایا گیا اس برتن میں وہ پانی بھرا ہوا ہے جس سے صبح جب دلہے نے غسل کیا تھا تو اس کے جسم سے اترا… نالی میں بہہ جانے کی بجائے اسے محفوظ کر کے اس برتن میں ڈال دیا گیا ہے… اب ہم اسے دلہن کے گھر ساتھ لے جا رہے ہیں… وہاں پہلے دلہن کو لڑکے کے جسم سے اترے ہوئے (گندے) پانی سے نہلایا جائے گا… یوں دونوں ملاپ سے پہلے ایک ہو جائیں گے اور ان کی روحیںآپس میں مل جائیں گی… مجھے یہ سن کر کراہت محسوس ہوئی… خاموش ہو گیا… میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر دلہے کا بھائی مسکرادیئے… اس کے دو تین برس بعد میں نے سپیریئر یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کی طالبات کو پڑھاتے ہوئے یہ واقعہ سنایا اور کہا آپ خوش قسمت ہو کہ مسلمانوں کے 


ای پیپر