PDM, political movements, PTI government, Imran Khan, Lahore jalsa
10 دسمبر 2020 (12:31) 2020-12-10

دسمبر کا مہینہ عام طور پر سردیوں کے موسم کو انجوائے کرنے کا مہینہ ہے جس میں رومانوی شاعری ابھرتی ہے مگر اس سال کا دسمبر بڑا مختلف ہے ایک تو پوری دنیا کرونا کی لپیٹ میں ہے جس نے دنیا کی معیشت اور معاشرت کو تہہ و بالا کر دیا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی سپر پاور امریکا کا صدر ٹرمپ اپنی نوکری بچانے میںمحض اس لئے کامیاب نہ ہوسکا کہ اس کی کرونا کنٹرول پالیسی ناکام ہو چکی تھی۔ 

اس وقت پاکستان کی قومی سیاست کے بالاخانوں میں سوال یہ نہیں ہے کہ ہمارا گردشی قرضہ جسے گزشتہ حکومت نے ایک موقع پر 500 ارب سے صفر کر دیا تھا موجودہ دور میں تاریخ کی بلند ترین سطح 2200 ارب روپے کو عبور کر چکا ہے۔ نہ ہی یہ سوال ہے کہ ہمارا سٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس جو گزشتہ حکومت میں 50 ہزار کا ہدف عبور کر گیا تھا حالیہ سال 40 ہزار سے بھی نیچے گر گیا تھا جو اس وقت بھی 40-42کے قریب ہے۔ فوڈ انفلیشن یا غذائی اجناس کی قیمتوں کو آگ لگنا بھی اس وقت ہمارا قومی موضوع نہیں ہے۔ پچھلے 4 ماہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کے بجائے منافع میں آیا ہے تو اس کے تکنیکی نقصانات کا بھی اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کی گئی کہ آپ خام مال باہر سے امپورٹ نہیں کریں گے تو ترقی کا پہیہ کیسے چلے گا۔ یہاں تو اس بات پر بھی کسی کے رونگٹے کھڑے نہیں ہو رہے کہ LNG گیس کی بروقت خریداری میں تاخیر اور بعد ازاں زائد قیمت پر خریداری کی وجہ سے ملکی معیشت کو کتنے ملین ڈالر کا نقصان ہوا جس کی ذمہ داری کس پر ہے۔ اس وقت حکومت کو صرف ایک مسئلہ در پیش ہے کہ پی ڈی ایم کی لاہور ریلی سے کیسے بچنا ہے اور اپوزیشن کو جلسہ سے کیسے روکنا ہے۔ 

لاہور کو پاکستان کا سیاسی و ثقافتی دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ یہاں سے جیتنے والی پارٹی ہی ملک میں حکومت بنانے کی اہل سمجھی جاتی ہے مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے لاہور پر پاکستان مسلم لیگ ن کا قبضہ ہے۔ ن لیگ کی مقبولیت کو یہاں سے کم کرنا ممکن نہیں ہے۔ پی ڈی ایم کا لاہور میں مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا مقصد دراصل ن لیگ کے مضبوط stronghold کا فائدہ اٹھانا ہے۔ اس جلسے نے میاں نواز شریف کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ اس جلسے کے بعد طاقت کے مراکز میں نواز شریف کی ریٹنگ کا از سر نو تعین کیا جائے گا جو بظاہر اس وقت گزشتہ الیکشن کے مقابلے پہلے سے اوپر چلی گئی ہے۔ اس کی شاید ایک وجہ تو موجودہ حکومت کی مایوس کن کارکردگی اور ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ 

وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان خاصا معنی خیز ہے کہ حکومت جاتی ہے تو جائے میں سمجھوتا نہیں کروں گا۔ انہوںنے یہ بھی کہا ہے کہ اپوزیشن جتنے مرضی جلسے کرے حکومت کو فرق نہیں پڑتا۔ عمران خان کا مائنڈ سیٹ سمجھنے کے لیے آپ مذکورہ بالا دونوں فقروں سے نہیں کا لفظ ہٹا دیں تو آپ کو پوری بات سمجھ آ جائے گی کہ حکومتی بوکھلاہٹ اس وقت اپنے نقطہ عروج پر ہے۔ وزیراعظم سمجھوتا نہیں کروں گا اور فرق نہیں پڑتا جیسی اصطلاحیں استعمال کر کے بظاہر نارمل نظر آنے کی کوشش کر رہے ہیں اگر وہ اندر سے نارمل ہوتے تو گزشتہ ہفتے چودھری برادران کے گھر کبھی نہ جاتے جنہیں وہ ماضی میں ڈاکو کہا کرتے تھے۔ چودھری برادران کو منانے کی کوشش اورتنہائی میں ملاقات ان کی بوکھلاہٹ کی غمازی کرتی ہے۔ باقی وہ اٹھتے بیٹھتے کہتے ہیں کہ NRO نہیں دوں گا حالانکہ نواز شریف کو باہر بھجوانے میں ان کی رضا مندی شامل تھی اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ نواز شریف کے جانے کے بعد وہ سکون سے حکومت کر سکیں گے لیکن یہ ان کی سیاست اور ویژن ہے کہ وہ اپنی ساری توانائی عوامی مسائل کے حل پر صرف کرنے کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ محاذ آرائی پر خرچ کر رہے ہیں۔ ان کی سیاست یہ نہیں ہے کہ فوڈ پرائس کم کی جائے بلکہ انہیں یہ فکر ہے کہ جلسے میں کرسیاں اور لاؤڈ سپیکر کرائے پر دینے والوں کو پکڑاجائے۔ 

مریم نواز کے جلسوں اور لاہور میں ہونے والی میٹنگز اور تیاریوں نے بتا دیا ہے کہ عوام اب بھی ان کے ساتھ ہیں بلکہ تحریک انصاف کے اکتائے ہوئے ووٹر واپس ن لیگ کا رخ کر چکے ہیں۔ حکومت کو ملتان میں جلسے میں رکاوٹیں ڈالنے سے جس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا، وہ غلطیاں لاہور میں نہیں دہرائی جائیں گی۔ 

اسی دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیرول پر رہائی کے دوران یہ تاثر دیا گیا کہ شہباز شریف اور مریم نواز ایک پیج پر نہیں ہیں ۔ شہباز شریف قومی مفاہمت کی بات کرتے ہیں اور ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں جبکہ مریم نواز حکومت سے ٹکرانا چاہتی ہیں کیونکہ وہ نواز شریف کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ میڈیا میں بھی دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں زیر گردش ہیں۔ یہ اصل میں حکومت کی اس کمزور پالیسی کا حصہ ہے کہ جب انہیں روکا نہ جا سکے تو ان کے درمیان اختلافات پیدا کر کے Divide & Rule کی پالیسی اپنائی جائے۔

پاکستان کی موجودہ صورت حال کے ساتھ خارجہ امور بھی منسلک ہیں۔ 2018ء میں برسراقتدار آتے ہی عمران خان کو سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ، قطر، چین سب دوست ممالک کی طرف سے زرمبادلہ کی کمی پوری کرنے کے لیے رقم دی گئی تھی اس کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ بھی کیا جس میں انہوں نے خود کو سعودی عرب میں مقیم پاکستانی محنت کشوں کا سفیر قرار دیا مگر بعد کے حالات بہت بدل چکے ہیں۔ راحیل شریف کی سعودی فوج اتحاد کی سربراہی سے سبکدوشی کی خبریں ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے معاملات پر سعودیہ اور امارات پاکستان سے الگ تھلگ نظرآتے ہیں یہاں تک کہ اس ہفتے انڈین آرمی چیف نے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے۔ کسی سطح پر یہ سوچا جا رہا ہے کہ پاکستان کی پرانی قیادت زیادہ قابل بھروسہ ہوا کرتی تھی۔ یہ صورت حال ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے کسی طور صحت مند نہیں ہے۔ اس وقت خاموش سفارتکاری میں Lobbying اور Counter Lobbying اپنے عروج پر ہیں جس میں عمران خان کے مقابلے میں نواز شریف کا پلہ بھاری ہے۔ 

سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔ نواز شریف ہر دفعہ اقتدار میںا ٓتے ہیں تو نئے حالات اور نئی عسکری قیادت ان کے ساتھ ہوتی ہے ۔ یہ الگ بات کہ حالات یکساں نہیں رہتے لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے اور اسے معاشرتی اور عوامی حقائق کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ عمران خان کو لائے جانے کی وجہ یہ تھی کہ عوام کی رائے بڑی تیزی سے عمران خان کی حمایت میں ابھر رہی تھی جو اسے نجات دہندہ سمجھتے تھے اب جبکہ عوام کو پتہ چل چکا ہے کہ ’’اے دل کے ولولو! شب وعدہ فریب ہے‘‘ تو عمران خان کے لانے والوں کے لیے بھی کسی نہ کسی مرحلے پر اپنی رائے سے رجوع کرنے کا وقت آ سکتا ہے اور ایسی صورت میں پھر سجدۂ سہو واجب ہو جائے گا۔ 

بات پی ڈی ایم کے جلسے کی ہو رہی تھی قرائن یہ بتاتے ہیں کہ یہ جلسہ میاں نواز شریف کی جسٹس بحالی تحریک میں کاروان کی شکل میں گوجرانوالہ روانگی کا ریکارڈ توڑ دے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ PDM والے اس میں توسیع کرتے ہوئے اسے دھرنے میں تبدیل کر دیں اس جلسے کے بعد حکمرانی کے سارے فریق اپنی اپنی پوزیشن کا جائزہ لیں 


ای پیپر