Former PM, Nawaz Sharif, Begum Shamim Akhtar, death
10 دسمبر 2020 (12:05) 2020-12-10

پاکستان مسلم لیگ (ن )کے قائد محمد نواز شریف ، صدر مسلم لیگ (ن) و اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف کی والدہ، مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی دادی محترمہ بیگم شمیم اختر لند ن میں انتقال کر گئی، مرحومہ کی عمر تقریباً90 سال تھی و ہ اپنے بڑے بیٹے محمد نواز شریف کے ساتھ لندن ایوان فیلڈ کے فلیٹس میں رہائش پذیر تھیں اُن کی نماز جنازہ لندن میں پڑھائی گئی جس میں کورونا وائرس کے باعث صرف خاندان کے افراد نے ایس او پیز کے تحت شرکت کی لاہور رائیونڈ میں شریف میڈیکل سٹی گراؤنڈ میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں پورے ملک سے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور بیگم شمیم اختر کو اپنے شوہر میاں محمد شریف کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ محمد نواز شریف علاج کے سلسلے میں لند ن میں مقیم تھے اُن کی والدہ شمیم اختر بیٹے سے ملاقات کیلئے لند ن گئی تھیں تینوں بیٹوں میں والدہ محمد نواز شریف سے بہت زیادہ پیار کرتی تھی اور بڑے بیٹے محمد نواز شریف کی خوش قسمتی تھی کہ ماں نے آخری ایام اُن کے ساتھ گزارے اور بیٹے نے اپنے ماں کی تیمارداری کی، محمد نواز شریف کو اپنی پیاری ماں بہت زیادہ عزیز تھی جب وہ جیل میں بیمار ہوئے لیکن علاج معالجے کے باوجود وہ صحت یاب نہیں ہو رہے تھے، ملک کی بعض قوتوں کی خواہش تھیں کہ محمد نواز شریف علاج کیلئے بیرونی ملک جائے لیکن خاندان اور مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنمائوں کے کہنے کے باوجود محمد نواز شریف باہر جانے کیلئے تیار نہیں تھے جس کے بعد اُن قوتوں نے اُن کی ماں شمیم اختر سے رابطہ کیا کہ اپنے بیٹے کو بیرونی ملک علاج کرنے کیلئے قائل کریں فرمانبردار بیٹا محمد نواز شریف اپنی ماں کے کہنے پر علاج کیلئے بیرونی ملک چلا گیا ۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو شمیم اختر کی انتقال کی اطلاع جیل میں دی گئی محمد شہباز شریف اپنی والدہ کے انتقال کی خبر سنتے ہی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور رونے لگے، مسلم لیگ (ن) کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری عطاء اللہ تارڑ نے دونوں رہنمائوں کی 15 روز کیلئے پیرول پر رہائی کیلئے درخواست دی لیکن حکومت نے اُنہیں 5 روزہ پیرول پر رہا کردیا ۔بعد ازاں  عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے پنجاب حکومت کو درخواست لکھی گئی کہ پیرول میں مزید توسیع کی جائے، پہلے حکومت نے توسیع کی درخواست مسترد کی تاہم بعد میں پیرول میں 2دن کی توسیع کی گئی۔ شریف خاندان کی والدہ گھریلو ، نیک اور عبادت گزار خاتون تھیں، وہ نماز فجر کے بعد باقاعدگی سے تلاوت قرآن پاک کیا کرتی تھیں انہوں نے کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا تھا اپنے خاوند میاں محمد شریف کی وفات کے بعد مرحومہ نے خاندان کو متحد رکھا اور محمد شہباز شریف کو ہمیشہ نصیحت کرتی تھی کہ اپنے بڑے بھائی محمد نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑنا محمد شہباز شریف نے اپنی ماں کی نصیحت پر عمل کیا انہیں کئی بار اپنے بھائی کا ساتھ چھوڑنے کی صورت میں اقتدار کی پیش کش بھی کی گئی ، وفادار بھائی نے جیل جانے کو ترجیح دی لیکن اپنے بھائی کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔جب ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے1999 میں محمد نواز شریف کی منتخب حکومت کا خاتمہ کیا اور اُنہیں خاندان کے ساتھ سعودی عرب جلا وطن کیا، سعودی عرب جدہ میں جلا وطنی کے دوران فرمانبردار بیٹے محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف ویل چیئر خود پکڑ کر کے والدہ کو حرم شریف لے جاتے تھے اسی طرح حج اور عمر ے کے دوران بھی دونوں بیٹے وہیل چیئر پر اپنی ماں کو لے کے جاتے تھے میاں محمد شریف مرحوم اور شمیم اختر مرحومہ جب کھانا کھاتے تھے تو ان کا چھوٹا بیٹا عباس شریف اُن کے پیچھے کھڑا ہوتا تھا اور ان کے حکم کا انتظار کرتا، تمام بیٹے کھانا کھانے سے قبل اپنی والدہ کے ہاتھ چھومتے تھے، محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف بھی دن رات ماں کی خدمت کرتے تھے بیگم شمیم اختر نے اپنے بیٹوں کی تربیت اسلامی شعائر کے مطابق کی تھی محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف گھر سے نکلتے وقت ماں کے پاس جاتے تھے اُن کی خیریت دریافت کرنے کے بعد اُن سے اجازت اور دُعا لیتے تھے اُن کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہیں رکھتے تھے ۔

ایک کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتی ہے، بیوی نیک ہو شوہر کی فرمانبردار ہو یہ زندگی میں بڑی نعمت ہوتی ہیں، میاں محمد شریف پاکستان کے کامیاب صنعت کار تھے 1970 میں بھٹو کے دورِ حکومت نے اُن کے کارخانے قومیالئے گئے لیکن جب 1979 میں تباہ حال اتفاق فائونڈری واپس ملی تو محنت کی عظمت پر یقین رکھنے والے میاں محمد شریف نے دن رات محنت کر کے چند ہی برس میں اس ادارے کو دوبارہ منافع بخش بنایا اور ہزاروں خاندانوں کو روزگاردیا مشکل ترین وقت میں بیگم شمیم اختر اپنے خاوند میاں محمد شریف کو صبر کی تلقین کرتی تھی اوراُن کو حوصلہ دیتی تھی بیگم شمیم اختر کی پرورش اور تربیت کا نتیجہ تھا کہ بڑا بیٹا محمد نواز شریف پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم اور دوسرا بیٹا محمد شہباز شریف تین مرتبہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے منصب پر فائز رہے محمد نواز شریف نے اپنے دورِ اقتدار میں ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے اقدامات اُٹھائے تھے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا ملک سے غربت کا خاتمہ کیا موٹرویز کا جال بچھایا انرجی بحران ختم کیا روزگار کے مواقع پیدا کئے ملک میں امن قائم کیا کراچی کی رونقیں بحال کیں محمد شہباز شریف نے بھی تین مرتبہ وزرات اعلیٰ کے دوران عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات اُٹھائے غربت کے خاتمے کیلئے پنجاب میں صنعتی زون قائم کیے تعلیم میں بڑی انقلابی تبدیلیاں کیں، غریبوں کیلئے دانش ماڈل سکول قائم کئے لیپ ٹاپ سکیم شروع کی پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کا عظیم الشان طبی منصوبہ بنایا عوام کو سفر اور جدید سہولیات سے آراستہ کیلئے میٹرو اور اورنج لائن ٹرین کے تحفے دیے عوام آج بھی محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف کے دورِ اقتدار کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں آخر میں قارئین محترم اللہ تعالیٰ سے 


ای پیپر