خوش رہنامیرے یار!
10 دسمبر 2020 2020-12-10

جانوروں اورپرندوں کے لیے یہ میرا مسلسل تیسرا کالم ہے، جانوروں اور پرندوں کے ساتھ محبت یااُن کے ساتھ ”حُسنِ سلوک“ کا جذبہ مجھے ورثے میں مِلا، میرے والدین صبح سویرے اُٹھ کر نماز فجر پڑھنے کے فوراً بعد گھرکے لان یا صحن میں ایک مخصوص جگہ پرچڑیوں، کبوتروں اور دوسرے پرندوں کو دانا ڈالتے تھے، کوﺅں اور چیلوں کے لیے الگ سے”خوراک“ ہوتی تھی، جوگھرکی چھت یا کسی اُونچی دیوار پر رکھ دی جاتی تھی، والد صاحب جب صبح کی سیر کے لیے جاتے کسی شاپر بیگ یا تھیلے میں چینی بھرکر لے جاتے ، یہ چینی وہ درختوں کے نیچے پھینک دیتے، دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں چیونٹیاں اُس چینی کے اردگرد اکٹھی ہوجاتیں اور اپنے اپنے حصے کا دانا منہ میں ڈال کر بکھر جاتیں، یا پھر کچھ چینی سے چمٹی رہتیں،.... بے شمار پرندوں اور جانوروں کے حوالے سے ایک اور بات یا اُن کی ایک اور ”خصوصیت“ جوخاص طورپر میں نے محسوس کی کہ بے شمار انسانوں کی طرح وہ لالچی یا ہوسی نہیں ہوتے، کسی پرندے یا جانورکا کوئی ”بینک اکاﺅنٹ“ نہیں ہوتا، کسی کی کوئی جاگیر کوئی پلاٹ کوئی زرعی زمین نہیں ہوتی، کوئی پلازہ، کوئی مارکیٹ کوئی کالونی کوئی ہاﺅسنگ سوسائٹی نہیں ہوتی، جہاں سے مِل گیا کھا لیا، جہاں جگہ ملی قیام کرلیا، ان جانوروں یاپرندوں نے ہماری طرح گندم یا چاولوں کے ذخیرے کے لیے”بھرولے“ نہیں بھرے ہوتے، نہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے فکرمند ہوتے ہیں، نہ ہی اُن کے لیے وہ حرام اکٹھا کرتے ہیں کہ دوسروں کے گھونسلوں سے اُٹھا اُٹھاکر اپنے گھونسلے بھرلیں، وہ ہم بے شمار انسانوں کی طرح جس تھالی میں کھاتے ہیں اُس میں سوراخ بھی نہیں کرتے، شیرجنگل کا بادشاہ ہوتا ہے، اُس کی بھوک جب مٹ جاتی ہے اُس کے آگے چاہے اُس کی کتنی ہی مرغوب غذا کیوں نہ ڈال دی جائے وہ نہیں کھاتا، ایک ہم انسان ہیں ہماری بھوک ہی ختم نہیں ہوتی، کسی نے کیا خوب کہا ہے”میں نے کم کھانے کی وجہ سے کسی کو مرتے نہیں دیکھا ، میں نے ہمیشہ زیادہ کھانے کی وجہ سے لوگوں کو بیمار ہوکر مرتے دیکھا “،.... مجھے اِس وقت ایک بہترین انسان ملک معراج خالد( سابق نگران وزیراعظم مرحوم) یاد آرہے ہیں، ایک بار میں نے ان سے پوچھا” ملک صاحب آپ پچاسی برس کے ہوگئے، آپ کو نظر کی عینک تک نہیں لگی، میں نے کبھی نہیں سنا آپ کبھی بیمار ہوئے، آپ کی اتنی اچھی صحت کاراز کیا ہے؟“....وہ مسکرائے اور بولے ”میری اتنی اچھی صحت کا راز یہ ہے میں نے ساری زندگی سب کچھ کھایا مگر کم کھایا“ ....پرندے اپنے گھونسلے بھی چھوٹے چھوٹے بناتے ہیں، اُن کی بے شمار خوبیاں اُنہیں بے شمار انسانوں سے ممتاز کرتی ہیں، یہ جو میں نے جانوروں اور پرندوں کے لالچی نہ ہونے کی بات کی ہے یہ میرے ذاتی مشاہدے کی بات ہے، 2011میں میری والدہ کا انتقال ہوا، وہ روزانہ صبح سویرے فجر کی نماز پڑھنے کے بعد گھرکے صحن یا لان میں پرندوں کو دانا ڈال کر اُن کے قریب ہی رکھی کرسی یا چارپائی پر بیٹھ کر قرآن پاک پڑھتی تھیں، یہ عمل برس ہا برس سے جاری تھا، ایک رات ہارٹ فیل ہونے کی وجہ سے اچانک اُن کا انتقال ہوگیا، رات گیارہ بجے اُن کا انتقال ہوا، اُن کے جنازہ اگلے روز اُٹھایا جانا تھا، اُن کی میت گھر کے لان میں رکھی ہوئی تھی، صبح فجر کی اذانوں کے ذرا بعد حسبِ معمول اُسی جگہ چڑیاں اور کبوتر اُترنے شروع ہوگئے جہاں امی اُن کے لیے دانا رکھتی تھیں، میں گھر کے اندر گیا اور ایک برتن میں دانا ڈال کر باہر ان پرندوں کو ڈال دیا، چند سیکنڈ بعد میں نے محسوس کیا پرندے دانا نہیں کھارہے ، اِس کے علاوہ وہ جو آوازیں نکال رہے ہیں وہ اُن کی روزانہ نکلنے والی آوازوں سے ذرا بلند ہیں، مجھے لگا امی کی میت کے قریب بیٹھی میری بہنوں و دیگر عزیزواقارب کی ”چیخ وپکار“ میں اِن پرندوں کی چیخ وپکاربھی شامل ہے، مجھے لگا یہ پرندے بھی اُسی طرح”بین“ ڈال رہے ہیں جس طرح میری بہنیں ڈال رہی تھیں، میں دیرتک اِن پرندوں کو دیکھتا رہا، اُن میں سے کوئی دانا نہیں کھارہا تھا، میں نے سوچا لان میں بے شمار خواتین بیٹھی ہیں، ہوسکتا ہے پرندے اُن کے ڈرسے دانا نہ چُگ رہے ہوں، میں اندر گیا اور مزید دانا لاکر کچھ دُور پھینک دیا۔ کوئی پرندہ وہاں نہیں گیا، کِسی نے دانا نہیں کھایا، .... تب پہلی بار مجھے احساس ہوا یہ پرندے دانے کے بھوکے نہیں ہیں، یہ محبت کے بھوکے ہیں، یہ جو آج اُن کی آوازیں اُن کی معمول کی آوازوں سے بلند ہیں یہ اصل میں اُن کے ”بین“ ہیںجو امی کے دنیا سے چلے جانے کے غم میں وہ بھی اُسی طرح ڈال رہے ہیں جس طرح امی کی میت کے قریب بیٹھی میری بہنیں اور دوسری عزیزائیں ڈال رہی ہیں، .... یہ تمام پرندے اُس وقت تک وہاں موجود رہے جب تک امی کا جنازہ نہیں اُٹھایا لیا گیا، ہم جب امی کا جنازہ اُٹھا رہے تھے میری نظریں مسلسل اِن پرندوں پر تھیں، میں نے دیکھا وہ بھی آہستہ آہستہ اُڑنا شروع ہوگئے ہیں۔ ہم جب امی کو دفنا کر گھرآئے سب پرندے جاچکے تھے، دانا ویسے کا ویسا پڑا تھا، یہ دانا سات یوم تک وہیں پڑا رہا، سات یوم تک روزانہ یہ پرندے اپنے مقررہ وقت پر اُترے، کچھ دیر وہاں رُکتے اور بغیر دانا چُگے وہاں سے اُڑ جاتے، آٹھویں روز اُنہوں نے اُس وقت دانا کھایا جب میں اور ابوجان اُن کے قریب ہی کُرسیوں پر بیٹھ کر ناشتہ کررہے تھے، .... یقین کریں میں نے یہ کوئی ”افسانوی داستان“ بیان نہیں کی۔ کسی ناول کے لیے یہ میری کوئی تخلیق نہیں ہے، یہ حقیقت ہے، ایک ناقابل یقین حقیقت جس کے بارے میں آج تک میں حیران ہوں اور سوچتا ہوں یہ کوئی خواب تو نہیں تھا ؟؟؟.... جیسا کہ کالم کے آغاز میں، میں نے عرض کیا جانوروں اور پرندوں کی محبت میں یہ مسلسل میرا تیسرا کالم ہے۔ اِس کا آغاز میں نے اسلام آباد کے چڑیا گھر سے ایک ہاتھی کی کمبوڈیا شفٹنگ سے کیا تھا، کمبوڈیا شفٹنگ کے بعد اُس ہاتھی کی ویڈیوز میں نے دیکھی ہیں، وہ اب وہاں بہت خوش ہے، یہاں وہ چڑیا گھر میں تھا، وہاں بھی وہ چڑیا گھر میں ہے مگر وہاں کے چڑیا گھر کی انتظامیہ اُس کے ساتھ شایدوہ بدسلوکی نہ کرے جو ہمارے چڑیا گھروں کی انتظامیہ جانوروں سے کرتی ہے، ہاتھی واحد جانور ہے جو چڑیا گھر کی رونق ہوتا ہے، لوگ بے شمار جانور گھروں میں رکھتے ہیں مگر ہاتھی گھروں میں نہیں رکھے جاتے، جس چڑیا گھر میں ہاتھی نہیں ہوتا اُسے چڑیا گھر نہیں کہا جاسکتا، مجھے یاد ہے بچپن میں ہم نے ایک انڈین فلم ”ہاتھی میرے ساتھی“ دیکھی تھی، اس فلم میں راجیش کھنہ ہیروتھا، اُس کا عشق ایک ہاتھی کے ساتھ دیکھایا گیا تھا، یہ اپنی طرز کی ایک انوکھی فلم تھی جس میں فلم کے ہیرو کا عشق کسی ہیروئین کے ساتھ نہیں ایک ہاتھی کے ساتھ تھا، یہ ویسا ہی عشق تھا جیسا ہماری رومانوی داستانوں ہیررانجھا، سسی پنوں، شیریں فرہاد، سوہنی مہینوال یا لیلیٰ مجنوں کا تھا، فلم کے ولن فلم کے ہیرو کا ہاتھی ماردیتے ہیں جس کے بعد ہیرو راجیش کھنہ شدید صدمے سے دوچار ہوجاتا ہے، یہ فلم دیکھنے کے بعد پہلی بار میرے اندر یہ احساس جاگا تھا کسی انسان کو کسی جانور کے ساتھ اِس قدر محبت بھی ہوسکتی ہے، میرے اِس احساس کو پختگی یا تقویت اپنی والدہ محترمہ کے انتقال پر ملی کہ پرندے کس طرح اُن کی وفات پر اُداس تھے، .... اسلام آباد کے علاقے مرغزارکے چڑیا گھر میں گزشتہ برسوں سے قیام پذیر ہاتھی کو جب کمبوڈیا شفٹ کیا جارہا تھا میرے کانوں میں فلم ”ہاتھی میرے ساتھی“ کا وہ نغمہ گونج رہا تھا جو فلم کے ہیرو راجیش کھنہ پر فلمایا گیا تھا، جسے محمدرفیع نے گایا تھا ”نفرت کی دنیا کو چھوڑ کر پیار کی دنیا میں خوش رہنا میرے یار“ .... 


ای پیپر