سحرقریب ہے، تاروں کا حال کیا ہوگا
10 دسمبر 2020 2020-12-10

قارئین محترم، یہ شعر ایسا پُرمغزاور ذومعنی ہے، کہ اس کے معنی اور مفہوم اور تشریح وجود میں اسرار ورموزکے نت نئے درواکردیتی ہے، اور جتنا جتنا زیادہ اس پر غورکریں، تو توں توں اس کے کیف آفریں، حقیقی ومجازی مطالب، اجر کا روپ دھارتے نظرآتے ہیں، چند دن قبل یہ شعر سننے کا موقعہ ملا۔ دراصل میں نصرت فتح علی خان کا ایک پرانا انٹرویو سُن رہا تھا، جو پاکستان ٹیلی ویژن سے دکھایا جارہا تھا، اتنا لمبا عرصہ پاکستان ٹی وی سے خبریں پڑھنے کی وجہ سے میرا ایک تعلق خاص چونکہ اس ادارے سے ہے تو یک بار یاد ماضی کے حسین مواقع یکے بعد دیگرے دماغ ودل میں آنے کے بعد اب قرطاس ابیض پہ لفظوں کے روپ دھارنے لگے ہیں، اور میں نے سوچنا شروع کردیا، تو خلیل جبران کا ایک قول ذہن میں آیا، کہ کسی کو یادرکھنا بھی ملاقات کی ایک شکل ہوتا ہے، اور بھلا دنیا تجردکی ایک صورت ہوتا ہے ”تجرد“ کا مطلب ہوتا ہے، تنہائی، خلوث گزینی، اکیلا رہنا، دنیا ترک کردینا شادی نہ کرنا، خداگواہ ہے، اس ضمن میں ، میں شیخ رشید کا نام نہیں لینا چاہتا تھا، مگر ہم وطنوں کو مثال دینا بہت ضروری تھا، تاکہ اُنہیں حضرت علامہ اقبالؒ کے تجرد کے بارے میں اور ذکروفکر کے حوالے سے آسانی سے سمجھ آسکے، علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں ،

مقامِ ذکر کمالات رومی وعطارؒ

مقامِ فکر مقالات بوعلی سینا

مقامِ فکر ہے پیمائش زمان ومکاں

 مقامِ ذکر ہے سبحان ربی الاعلیٰ 

بہرحال یادماضی کے حوالے سے خاص طورپر میں پاکستان ٹیلی وژن پہ ان دوستوں، احبابوں اور مہربانوں کا نام لینا چاہتا ہوں، جن سے نہ صرف میری بے تکلفی تھی، بلکہ چند ایک کے ساتھ لطیفے بازی بھی تھی اور ایک آدھ سے سلام دعا، ان دوستوں کے نام لکھنے سے آپ کو بخوبی سمجھ آجائے گی کہ میری بے تکلفی کس سے تھی، اور رشتہ احترام وادب کس کے ساتھ تھا، وہاں میری ملاقاتیں اکثر راہداری میں ہوجایا کرتی تھیں، مثلاً امجد اسلام امجد، عطاءالحق قاسمی، دلدار پرویز بھٹی، رفیق احمد وڑائچ، عزیزی سہیل احمد، فردوس جمال، جناب اشفاق احمد خان(تلقین شاہ) ہدایت اللہ،جناب حفیظ تائبؒ، حیدرعباس مرحوم، ثریا خانم،عابد کاشمیری، ایوب خاور، عارفہ صدیقی، اورنگ زیب لغاری، طارق عزیز، عظمیٰ گیلانی، اعظم خورشید، طلعت صدیقی، صبافیصل، شبنم مجید، حفیظ طاہر، نورالحسن، جمیل فخری، عابد علی، نصرت ٹھاکر، شفیق احمد، فرزانہ تھیم، وغیرہ وغیرہ ان گنت نام اگر لکھنا شروع کروں، تو کالم ہی ختم ہوجائے گا، مگر میں اس وقت صرف اور صرف نصرت فتح علی خان کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں، چونکہ میری جناب رفیق احمد وڑائچ جنرل منیجر پاکستان ٹیلی ویژن سے بہت زیادہ دوستی اور بھائی چارہ تھا، حتیٰ کہ انہوں نے اپنے سیکرٹری شکیل احمد کو کہہ دیا تھا کہ نواز خان جب بھی میرے پاس ملنے آئیں، انہیں فوراً میرے کمرے میں بھیج دیا کرو، چاہے ، میں میٹنگ میں بھی ہوں، تو ان کو اندر کمرے میں بھیج دیا کرو، اور ان کے لیے کرسی بھی لگوادیا کرو، ان کے ساتھ ملاقاتوں کے درمیان اکثر کئی دفعہ ہوا، کہ نصرت فتح علی خان ان کے پاس بیٹھے ہوتے تھے، حتیٰ کہ گھنٹوں وہ ان کے کمرے میں موجود رہتے۔ ایک دفعہ میں نے ان سے استفسارکیاکہ نصرت فتح علی خان کو آپ سے کیا کام ہے، میں ایک بات بتاتا چلوں، کہ رفیق احمد وڑائچ صرف جنرل منیجر ہی نہیں تھے، وہ خود بہت ہی اچھے گلوکار تھے، اور ان کے بعد میں آنے والے اعظم خورشید بھی جن کا تعلق میرے آبائی شہر سے تھا، ان کی دوستی میرے ساتھ اس لیے تھی کہ وہ میرے بھائی اور بہنوئی کے ساتھ بھی خاصے دوستانہ مراسم رکھتے تھے۔ 

بہرحال میں ذکرکررہا تھا، نصرت فتح علی خان کے بارے میں، کہ وہ اتنی دیر کے لیے آپ کے دفتر میں براجمان رہتے ہیں، تو انہوں نے جومجھے جواب دیا، وہ حیران کن تھا، کہنے لگا، آپ کہتے ہیں گھنٹوں بیٹھارہتا ہے، اس شخص کو میں حیران ہوں بلکہ پریشان ہوں کہ یہ شخص میرے دفتر کا دروازہ کھلتے ہی کمرے میں گھس جاتا ہے، اور جب تک میں شام کو کمرہ بند نہیں کرالیتا یہ بیٹھا رہتا ہے، میں حیران اس لیے ہوں کہ اتنا زیادہ وزن والا شخص گھنٹوں بلاتوقف گا سکتا ہے، اور اس کو گائیکی کا اتنا زیادہ شوق ہے کہ اس کے پاس سوزوکی وین ہے جس میں اس نے آلات موسیقی اس لیے نصب کرائے ہیں تاکہ وہ وقت ضائع نہ کرے، حتیٰ کہ گھر سے اگر باہر بھی نکلے تو گاڑی میں بیٹھے بیٹھے وہ دھنیں ترتیب دیتا رہے، اور وقت ضائع نہ ہو، اور جب تک نصرت فتح علی خان سنوانہ لے اسے چین نہیں آتا، اس کا شوق اور جنون دیکھ کر لگتا ہے کہ ایک دن وہ گائیکی میں اپنا نام پیدا کرے گا، اس میں جوخاص بات میری سمجھ سے باہر ہے وہ یہ ہے کہ اتنا موٹا ہونے کے باوجود اس کی سانس بالکل نہیں اکھڑتی، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں رچاﺅ پیدا ہوتا جاتا ہے، قارئین اب میں قوالی کے بارے میں اپنے نظریات کے بجائے برصغیر میں لاکھوں کافروں کو مسلمان بنانے والے مفکر اور مذہبی وروحانی بزرگ حضرت عثمان علی ہجویریؒ کے فرمودات پہ اکتفاکرتا ہوں، کہ قوالی کا وہ کلام جس کو سن کر آپ کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے محبوب حضرت محمد یاد آجائیں، تو وہ سننی جائز ہے، اور جو کلام سن کر آپ کو ان سے دورکردے، خواہ وہ وجد ہی کیوں نہ ہو، وہ نہیں سننا چاہیے، قارئین میراخیال ہے کہ نعت شریف میں بھی انہیں اصول وضوابط کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ میں نے ایک دفعہ نصرت فتح علی خان سے ان کے والد محترم فتح علی خان کے بارے میں ذکر کیا کہ انہوں نے قوالی کے میدان میں پورے برصغیر میں ایک تہلکہ مچا دیا تھا، اور اس وقت ان کا کوئی دوسرا ثانی نہیں تھا، آپ ان کے کلام اور ادائیگی طرزپہ زیادہ توجہ نہیں دیتے، تو انہوں نے کہا کہ میں تو ان کی تقلید کرتا ہوں، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ چونکہ وقت کے تقاضے بہت مختلف ہوگئے ہیں لوگوں کے پاس وقت کم ہے، ان کی ایک ایک قوالی ساری ساری رات جاری رہتی تھی،          (قارئین میراکالم بھی ابھی جاری ہے)


ای پیپر