مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک اور متنازعہ بل منظور کر لیا
10 دسمبر 2019 (17:15) 2019-12-10

اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ متنازع بل آر ایس ایس کے ہندو راشٹرا ڈیزائن کا ایک حصہ ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں مسلم مخالف متنازع بل پیش کرنے اور اسے منظور کیے جانے پر سیکڑوں لوگ سراپا احتجاج ہیں کیونکہ اس بل کے تحت بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والی غیر مسلم اقلیت بھارت میں شہریت حاصل کرسکے گی۔

اس معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک ٹوئٹ کی اور کہا کہ ہم لوک سبھا میں متنازع شہریت سے متعلق قانون سازی کی شدید مذمت کرتے ہیں جس میں انسانی حقوق کے تمام قوانین اور پاکستان کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ توسیع پسندی دراصل آر ایس ایس کے ہندو راشٹرا ڈیزائن کا ایک حصہ ہے جس کو فاشسٹ مودی سرکار نے پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایوان زیریں میں شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) متعارف کرایا تھا۔اس مجوزہ قانون پر بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے احتجاج کیا، جس کے تحت پہلی مرتبہ مذہب کی بنیاد پر بھارتی شہریت دینے کے لیے ایک قانونی راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔مذکورہ بل مودی سرکار نے پہلی مرتبہ 2016 میں پیش کیا تھا تاہم احتجاج اور اتحادیوں کی جانب سے دستبرداری کے بعد معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔


ای پیپر