نوجوت سنگھ کا قادیانیوں سے خطاب
10 دسمبر 2019 2019-12-10

قارئین، اگر آپ کا تعلق تحریک انصاف سے ہے، یا آپ کی ہمدردی ریاست مدینہ کے حکمران سے ہے، تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، کہ میں اپنی زبان بندی کر کے تحریک انصاف کے منشور کے بارے میں کچھ نہیں کہونگا، کیونکہ تحریک انصاف کا منشور تو شاید کتابی شکل میں ہو، مثلاً ، وطن عزیز میں یکساں نظام تعلیم سائلین کو گھروں کی دہلیز پہ انصاف کی فراہمی میٹرک تک تعلیم مفت کر دینے کا وعدہ، بیرونی ملکوں سے امداد لینابند کر دینے کا اعلان، اور سابقہ حکومتوں کی طرح کشکول لے کر ملک ملک پھرنے کی بجائے پھانسی کا پھندہ لے کر مرجانے کی بات کرکے قوم کا دِل جیت لینا، نوکریوںاور گھر دینے کی باتیں تو اتنی زبان زد عام ہوگئی ہے، کہ اس پر مزید بات کرنا فضول ہے، آئی ایم ایف کے پاس تو بالکل ہی نہیں جائیں گے مسئلہ کشمیر کا سفیر بن کر پوری دنیا میں اس کو پھر سے زندہ کر دوں گا سبز پاسپورٹ یعنی پاکستان کے پاسپورٹ کی قدر اسقدر کر دوں گا کہ دنیا کے بیشتر ملکوں میں ویزے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی، اور نہ ہی اُنہیں امیگریشن کی قطار پہ کھڑا ہونا پڑے گا۔ ملک کو بہتر سالوں میں جن چوروں ، ڈاکوﺅں نے لوٹا ہے، اِس سے ایک ایک پائی وصول کروں گا۔

قارئین، ایک بات جو میرے ذہن میں آرہی ہے، کہ تحریک انصاف نے غالباً ایک ارب درخت لگانے کا وعدہ بھی کیا تھا ، مہم بھی شروع کی تھی، خیبر پختونخواہ میں اس کی ابتداءکی گئی تھی، ایک درخت لگانے کے لئے کم از کم دس پندرہ مرلہ فٹ جگہ تو ہونی چاہئے، اگر ایک ارب پندرہ مرلے فٹ، کو خیبر پختونخواہ کے پورے صوبے کے حدود اَربعہ سے ضرب دیں، تو اتنا رقبہ تو پورے صوبے کا ہی نہیں ہے، تو یہ اربوں درخت کیسے لگ گئے؟

یہ بھی وعدہ کیا گیا تھا، کہ پرائمری سکولوں اور نرسریوں میں بچوں کو مفت کتابیں ہی نہیں، خوراک بھی دی جائیگی۔ یہ بھی وعدہ قوم سے پورے وثوق سے کیا گیا تھا کہ بیرون وطن میرے منصب کے مطابق ، یعنی وزیر اعظم ایئر پورٹ پر آئے گا تو میں اُس ملک کا دورہ کروں گا، ورنہ اُس ملک کا دورہ نہیں کروں گا، اس وعدے پہ کتنا عمل درآمد ہوا ہے، یہ اب آپ نے خود دیکھ لیا ہے، یہ بھی وعدہ کیا گیا تھا، کہ عوام کا صرف علاج ہی مفت نہیں کیا جائے گا بلکہ دوائیاں بھی اُنہیں مفت حکومت دے گی، اگر میں نے حکومت کے انتخابی وعدے یاد کرانے شروع کر دیئے، تو ان صفحوں پہ پورا نہیں آئیگا۔ آپ تحریک انصاف کا خود چھپا ہوا ”انتخابی منشور“ پڑھ لیں، تو خدا کو حاضر ناظر جان کر کہیں کہ کتنے وعدوں پہ عمل ہوا ہے، اس لئے تو سید مظفر علی شاہ کہتے ہیں کہ

بے نواﺅں کو نوا دیتے ہیں

دینے والے اب عصا دیتے ہیں

سُوکھنے کے خوف سے سہمے ہوئے

یہ ہرے پتے ہوا دیتے ہیں

قارئین مجھے آج میرے دوست عصمت اللہ خان نیازی نے عمران خان نیازی کے دوست نوجوت سنگھ سدھو نے قادیانیوں سے اُن کی مسجد میں جو خطاب کیا اُس کی تقریر واٹس ایپ پر بھیجی ، اُ سے دیکھ کر تقریر آپ کو سنواتا ہوں، قادیانیوں نے اللہ اکبر، اللہ اکبر کے نعروں سے نوجوت سنگھ سدھوکا استقبال کیا، نوجوت سنگھ نے قادیانیوں کی عبادت گاہ میں اُن سے خطاب کیا، اُس کی تقریر سُن کر آپ بھی کچھ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور ہوں گے، نعرہ تکبیر کے نعروں میں قادیانیوں نے سدھو کو خطاب کیلئے بلایا، اور نعرے لگائے گورو نانک زندہ باد، گورو نانک زندہ باد، نوجوت سنگھ سدھو نے تقریر میں کہا کہ جو انسان پریم کی بھاشا بولتا ہے، اس کے آگے سر جھکا دینا چاہئے ، جو انسان بھائی چارے کی بولی بولتا ہے، اس کے آگے سرجھکا دینا چاہئے پھولوں کی خوشبو تو ہوا سے ، اور پریت نہیں جاتی من کی پریت بھی چاروں دیشاﺅں (دیش) میں پھیل جاتی ہے، آج پھیل گئی ہے، خوشبو ہواﺅں میں، ان کرموں کی ، میاں غلام احمد صاحب کے کرموں کی ، جنہوں نے اس دُنیا میں پیار بانٹا ہے، اس دوران نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی قادیانیوں کی آوازیں آتی ہیں اِس دنیا سے نفرت مٹانے کی کوشش کی ہے، مٹی کی ڈھیلوں سے کسی نے پوچھا ، کہ تجھ سے خوشبو کیوں آتی ہے، اُس نے جواب دیا، کہ شاید کسی نے گلابوں کا بیج پھینک دیا ہوگا اس لئے مجھ سے خوشبو آتی ہے۔ آج دنیا بھر سے اتنے گلاب ہیں یہاں، اِس لئے اتنی خوشبو اِس مٹی کے ڈھیلے سے لگی ہے،

مولانا فضل الرحمن کا تحفظ ختم نبوت مارچ سکھر سے خطاب کرتے ہوئے کہ کرتار پور راہداری کے بارے میں اپنا مفہوم اِس طرح سے بیان کیا آپ کاریڈور کھول رہے ہیں، پہلے تو یہ بتاﺅ، پہلے کوئی مودی سے سلام کرتا تھا، آپ مودی کا یار ہے، غدار ہے، غدار ہے، آج کشمیریوں کے خون کا سودا کر کے ، آپ مودی سرکاری کے ساتھ یہ راہداری کھول رہے ہو، پہلے تو اِس پہلو پہ غور کرنا ہے، ہندوستان کے ساتھ یہ پنگیں بڑھانے کا مقصد کیا ہے، دوسری بات یہ کہ یہ راہداری اِس کو کھولا کہاں جا رہا ہے، گورداس پور کے لئے، اور یہ سڑک کرتار پورسے گزر کر قادیان پر جا کر رکتا ہے، نام سکھوں کا لے رہے ہو، راستہ قادیانیوں کے لئے کھول رہے ہو، اور قادیانی اپنی خوشی کا اظہار کر چکے ہیں، کہ اب ربوہ میں اپنے جلسے میں شریک ہو سکیں گے، پاکستان میں کھلے بندوں راستے مہیا کرنا، اور نام لینا راہداری کا، اور فرنٹ پہ رکھنا سکھوں کو........ یہ چالیں نہیں چلیں گی، پاکستان کو اِسطرح نہیں چلنے دیا جائیگا، یہ سارا وہ مسئلہ ہے، مسئلہ صرف آسیہ کا نہیں ہے، مسئلہ اس ملک کی آزادی کا ہے، اسلامی نظریاتی شناخت کا ہے، جمہوریت کا ہے، اِس ملک کی اقتصادی آزادی کا ہے، اِس ملک کی دفاعی آزادی کا ہے، اِس ملک کی اصل آزادی وہی ہے، جب ہم اپنے فیصلے ایک آزاد قوم کی طرح اپنے فورم پر کر سکیں گے۔

قارئین، لفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید ناصر بتا رہے تھے کہ جب وہ چیئرمین متروکہ وقف املاک تھے تو انہوں نے بابا گورو نانک کی ساری جگہ پر خطیر رقم خرچ کر کے پختہ کرا دیا تھا، اور پھر یہ سوچ کر کہ ہم خود ایک غریب ملک کے باشندے ہیں ، اس پر مزید پیسہ نہیں لگانا چاہئے، اور آج اُن کی بات سچ ثابت ہوچکی ہے، کیونکہ ایک خبر کے مطابق اب پاکستان میں سکھ صرف تین چار سو روزانہ آتے ہیں، اس راہداری کی عسکری اور سیاسی اہمیت اپنی جگہ پر مگر تحفظات وطن کو سب سے پہلے مد نظر رکھنا چاہئے کیا کوئی مسلمان کافر کا استقبال نعرہ تکبیر سے کر سکتا ہے کیونکہ ایسا کرلینے کے بعد بھی سِکھ.... تو صرف سِکھ ہی رہیںگے۔

مگر یہ تو طے ہے کہ ہمیں سُکھ کی خبریں تب آئیں گی، جب ہم اللہ کی مانیں گے سِدھو کی مان کر تو ہم اپنی سُدھ بدھ ہی کھو بیٹھے ہیں۔


ای پیپر