جانے والے پھر نہیں آتے!
10 دسمبر 2019 2019-12-10

میں کچھ دِنوں کے لئے ” کاروبار سیاست و غلاظت سے الگ ہو کر کچھ بڑے لوگوں پر لکھنا چاہتا ہوں۔ ایک درویش صفت ریٹائرڈ دانشور پولیس آفسر شیخ اسرار احمد بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ابھی نیو کاسل برطانیہ میں مقیم ممتاز لکھاری پروفیسر طارق احمد کی موت کا زخم ہرا ہے۔ وہ پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے تھے، مستقل طور پر برطانیہ شفٹ ہونے کا فیصلہ ممکن ہے اسی محبت کے نتیجے میں ہی اُنہوں نے کیا ہو۔ آپ جب کسی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں، اور اُس سے دور ہو جاتے ہیں تو محبت میں کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اُن کی جاندار تحریریں پڑھ کر دِل میں حسرت پیدا ہوتی تھی کاش ہم بھی اُن جیسا لکھ سکتے یا سوچ سکتے۔ ایسے لوگوں کے چلے جانے کا زخم ہمیشہ ہرا رہتا ہے۔ کبھی نہیں بھرتا۔ شیخ اسرار احمد ریٹائرڈ ہونے کے بعد گوشہ نشین ہوگئے تھے جبکہ اُن کی شہرت ایسے محفل باز شخص کی تھی وہ جس محفل میں ہو محفل کو چار چاند لگ جاتے۔ چند برس قبل میں نے اپنے گھر میں ایک ایماندار اور شاندار پولیس افسر جناب ناصر درانی کو کھانے پر بلایا، شیخ اسرار صاحب کو فون کیا۔ انہیں دعوت دی، کہنے لگے ” تم جتنا اصرار کر رہے ہو مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے۔ میں ابھی ریٹائرنہیں ہوا“.... پھر وہ تشریف لے آئے۔ زبردست محفل جمی۔ میرے گھر کے لان میں سردی بڑھتی جا رہی تھی اور شرکاءمحفل کی طلب اور خواہش بھی بڑھتی جا رہی تھی کہ وہ شیخ اسرار احمد کی چٹ پٹی باتیں سنتے رہیں۔ اب بہت عرصے سے اُن سے رابطہ نہیں تھا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ہم جو اخلاقی اعتبار سے اور دیگر کئی حوالوں سے کمزور ہوتے جا رہے ہیں اُس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو ہم نے اچھے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا ہے۔ یا شاید ہماری بے شمار خرابیوں کے باعث اب اچھے لوگ خود ہی ہمیں نہیں ملتے۔ چند ماہ پہلے پروفیسر طارق احمد لاہور آئے۔ وہ ہمیشہ پاکستان آکر خود مجھ سے رابطہ کرتے تھے۔ اِس بار مگر اُن کا فون نہیں آیا۔ نہ ہی وہ خود آئے۔ وہ جب بھی آتے اُن کے ہاتھوں میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی تحفہ ہوتا جو وہ اِس یقین دہانی کے ساتھ میرے سپرد کرتے کہ یہ تحفہ وہ برطانیہ سے ہی لائے ہیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے بیرون ملک سے ہمارے چاہنے والے ہمارے لئے جو تحائف وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ اُنہوں نے پاکستان سے ہی خریدے ہوتے ہیں۔ مجھے اِس حوالے سے ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ ایک بار مرحوم دلدار پرویز بھٹی امریکہ سے آئے، میں نے اُ نہیں ویلکم بیک کہنے کے لئے فون کیا‘ فرمانے لگے” میں زرا شاپنگ کر رہا ہوں، تھوڑی دیر تک تمہیں کال کرتا ہوں“۔ میں نے عرض کیا” بھائی جان تھوڑی دیر پہلے ہی آپ امریکہ سے آئے ہیں اور فوراً ہی شاپنگ کے لئے نکل پڑے ہیں‘ کچھ آرام کر لیتے“.... وہ بولے ” یار آپ لوگوں کے لئے امریکہ سے جو تحفے لیکر آیا ہوں وہ لبرٹی مارکیٹ سے خریدنے آیا ہوں“۔ مجھے اُن کی بات سُن کر بہت ہنسی آئی۔ اُن کی بے شمار باتیں اب بھی ہمیں ہنساتی ہیں، پر اُن کی یاد ہمیں.... ”یقین آتا نہیں اب ملے گا یار تجھ جیسا.... کہاں سے ڈھونڈ کے لائیں گے ہم دلدار تجھ جیسا“.... میں پروفیسر طارق احمد کی بات کر رہا تھا۔ وہ بھی دلدار بھٹی جیسی خصوصیات کے مالک تھے۔ دونوں انگریزی زبان و ادب کے اُستاد تھے۔ دونوں اُردو زبان میں کالم لکھتے تھے۔ اور دوستیاں نبھانے میں دونوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ پروفیسر طارق احمد جب بھی برطانیہ سے پاکستان آتے۔ اور ملنے آتے کوئی نہ کوئی خوشبو، کوئی نہ کوئی کتاب یا اِس ٹائپ کی کوئی نہ کوئی چیز اُن کے ہاتھوں میں ہوتی۔ میں بھی جب اُ نہیں رخصت کرتا ایسا ہی کوئی نہ کوئی تحفہ اُن کی خدمت میں پیش کرتا۔ اِس پر بڑے پیار سے وہ میری طرف دیکھتے اور کہتے ” بٹ جی ہن تُسی بدلہ لا رئے او“.... جواباً میں اُن سے کہتا ” تے ہور میں کپڑے لاواں؟“۔ اِس پر ایک زبردست قہقہہ وہ لگاتے اور فرماتے ” تُسی ودھ او پاجی“ میں آگے سے ہاتھ جوڑ دیتا۔ اِن دوستوں کے حوالے سے یادوں کی ایک ” بارات “ ہے جو ، اب روز کِسی نہ کسی ” جنازے “ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔.... کل میں شیخ اسرار احمد کے جنازے میں شرکت کے بعد گھر واپس آیا۔ میں نے اپنے اکلوتے بیٹے راحیل بٹ سے کہا ” بیٹا بڑے

لوگوں سے ملا کرو“.... میں نے اُسے بتایا” ہم جب سٹوڈنٹ تھے ہم اپنے ملک کے ممتاز صوفی دانشور اشفاق احمد سے ملنے اُن کے گھر واقع ماڈل ٹاﺅن (داستان سرائے) جایا کرتا تھا۔ وہاں ہم اپنی آپابانو قدسیہ سے بھی ملتے۔ وہ ہمیں مزے مزے کے قِصے سناتیں۔ اُن میں ایک سبق ہوتا۔ ہم ان سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے۔ ہم ملک کے ممتاز شاعر، کالم نویس اور بیسیوں خوبصورت کتابوں کے مصنف جناب احمد ندیم قاسمی کے پاس جی او آر ون میں واقع کلب روڈ پر اُن کے دفتر (مجلس ترقی ادب ) جاتے۔ وہاں بے شمار ادیبوں شاعروں اور دانشوروں سے ہماری ملاقات ہوتی۔ قاسمی صاحب بھی مزے مزے کی باتیں سناتے۔ ایسی محفل جمتی کوئی وہاں سے اٹھنے کا نام نہ لیتا، جب تک قاسمی صاحب خود نہ اُٹھ جاتے۔ ہم شادمان ٹو میں واقع ایک اور بڑے انسان، کمال کے لکھاری، آواز دوست کے مصنف جناب مختار مسعود کے گھر جاتے۔ ہم نے اُن سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ سید ضمیر جعفری ، مشتاق احمد یوسفی، قدرت اللہ شہاب، منشا یادکی محفلوں کو بھی بہت انجوائے کای۔ میں شاید پہلے بھی اپنے کالم میں بتا چکا ہوں میرے کالم کا مستقل عنوان ”حسبِ توفیق “ مشتاق احمد یوسفی صاحب کا بخشا ہوا ہے۔ لاہور سے نوائے وقت کے فیملی میگزین کا آغاز ہوا۔ پہلے شمارے میں سید ضمیر جعفری صاحب نے ”توفیقات“ کے عنوان سے مجھ پر باقاعدہ ایک کالم لکھا۔ وہ ” فیملی میگزین میں ہفتہ وار کالم “ ضمیر حاضر ضمیر غائب“ کے عنوان سے لکھتے تھے۔ اِس کالم کے لئے فیملی میگزین کے ایڈیٹر ممتاز شاعر بزرگ صحافی علی سفیان آفاقی صاحب نے بہت اصرار کر کے اُ نہیں راضی کیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم ” فیملی میگزین “ اب شائع ہوتا ہے یا ”وقت نیوز“ کی طرح وہ بھی مجید نظامی صاحب کے پاس چلے گیا ہے، پر ایک وقت تھا جب جنگ کے اخبار جہاں اور نوائے وقت کے ”فیملی میگیزن “ کا طوطی بولتا تھا۔ ایک بار حسن بھائی (حسن نثار) نے مجھے بتایا تھا” اُن کا روزنامہ جنگ میں چھپنے والا کالم اتنا مقبول نہیں ہوتا جتنا ” اخبارِ جہاں “ میں شائع ہونے والا ہفتہ وار کالم ہوتا ہے۔ حسن نثار صاحب کا ہر کالم ہی پڑھنے کے لائق ہوتا ہے مگر جو کالم وہ اپنے کسی مرحوم دوستوں کی یاد میں یا ” مرحوم زمانوں“ کی یاد میں لکھتے ہیں وہ تڑپا کر رکھ دیتے ہیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر