حالی نے ہمیشہ قوم کی حالت پر نظمیں لکھیں 
10 اگست 2020 (18:45) 2020-08-10

راجا نیئر

کچھ کذب و افترا ہے کچھ کذبِ حق نُما ہے

یہ ہے بضاعت اپنی اور یہ ہے دفتر اپنا

ایک زمانہ تھا کہ شاعری اور عشق یا تعشق کو لازم وملزوم سمجھتے تھے اور ایسا سمجھنا کچھ بے وجہ نہ تھا۔ اوّل تو خود شعر کا حدوث ہی دُنیا میں اس جوش اور ولولے سے ہوا ہے جو عشق اور محبت کی بدولت انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے اور شعر کی ذات میں جو ایک آتش گیر مادہ ہے وہ بھی اپنے مشتعل ہونے میں کسی آگ  کا محتاج ہے۔ پھر قوم کا کلام بھی جہاں تک دیکھا گیا ہے اسی خیال کی تائید کرتا ہے۔ باایں ہمہ حداثتِ سن یہ کب اجازت دیتی تھی کہ شاہدِ رعنائے سخن کا نظارہ ایک پیرزال کی صورت میں کیا جائے اور شرابِ ارغوانی کی جگہ سرکہ بے نمک سے ضیافت طبع کی جائے۔ غرض کہ ایک مدت تک یہ حال رہا کہ عاشقانہ شعر کے سوا کوئی کلام پسند نہ آتا تھا بلکہ جس شعر میں یہ چاشنی نہ ہوتی تھی اس پر شعر کا اطلاق کرنے میں بھی مضائقہ ہوتا تھا۔ خود بھی جب کبھی یہ سودا اُچھلا، آنکھیں بند کیں اور اسی شارعِ عام پر پڑلیے جس پر راہگیروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ قافلے کے ساتھ راہ کی ہمواری اور رہ گزر کی فضا چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرنے کا کبھی خیال بھی نہ آیا مگر جب آفتابِ عمر نے پلٹا کھایا اور دن ڈھلنا شروع ہوا، وہ تمام سیمیائی جلوے جو خوابِ غفلت میں حقائق سے زیادہ دلفریب نظر آتے تھے، رفتہ رفتہ کافور ہونے لگے۔ غزل وتشبیب کی اُمنگ انفعال کے ساتھ بدل گئی اور جس شاعری پر ناز تھا اس سے شرم آنے لگی۔ ہرچند سمجھایا گیا کہ غزل کہنے کے دن اب آئے ہیں مگر یہی جواب دیا گیا کہ غزل کہنے کے دن اب گئے:

جو لوگ عاشقانہ گوئی کے چٹخارے سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ خون جہاں منہ کو لگا پھر ذرا مشکل سے چھٹتا ہے مگر زمانے کی ضرورتوں نے یہ سبق پڑھایا کہ دل فریب مگر نکمّی باتوں پر آفرین سننے سے دل شکن مگر کام کی باتوں پر نفرین سننی بہتر ہے اور حاکمِ وقت نے یہ حکم دیا کہ پروانہ وبلبل کی قسمت کو تو بہت روچکے کبھی اپنے حال پر بھی دو آنسو بہانے ضرور ہیں:

یکرہ بحالِ خویش ہم آخر تواں گریست

تا چند بر فلان و بہ بہماں گریستن

کچھ نظمیں قوم کی حالت پر لکھی گئیں، بعضوں نے پسند کیں اور بعضوں نے ناپسند، مگر چوٹ سب کے دل پر لگی۔ کہانی بے مزہ تھی مگر آپ بیتی اور باتیں اُوپری تھیں مگر پتے کی۔ جو نظمیں کسی قدر طولانی تھیں وہ تقریباً تمام چھپ چکی اور شائع ہوچکی ہیں۔ اب زیادہ تر کچھ بچے کھچے متفرق اور پراگندہ خیالات باقی ہیں جن میں سے کسی قدر قطعہ ورباعی کے لباس میں اور کچھ غزل کے روپ میں ظاہر کیے گئے ہیں۔ ان کے سوا چند ترکیب بند، ایک آدھ مسمط، کچھ قصیدے اور تاریخیں ہیں جن میں سے اکثر خاص طور پر وقتاً بعد وقتِ شائع ہوچکی ہیں لیکن مصنف کی طرف سے عام طور پر پبلک کی نذر نہیں ہوئیں۔ پہلا کلام جو عالمِ جہلم ونادانی یا خلاصہ زندگانی کی نشانی ہے وہ بھی کسی قدر تلف ہو جانے کے بعد جس قدر بچا ہے اب تک محفوظ ہے۔ انسان کی طبیعت کا مقتضا ہے کہ جو کام اس کی تھوڑی یا بہت کوشش سے سرانجام ہوتا ہے، عام اس سے کہ اچھا ہو یا بُرا اور پسند کے لائق ہو یا نہ ہو، وہ اس کو بڑے فخر کے ساتھ پبلک میں پیش کرنے کی جرأت کرتا ہے اور خاص وعام سے اپنی کوشش کی داد چاہتا ہے۔ جس فخر کے ساتھ وہ اعرابی جس نے کبھی آبِ شیریں کا مزہ نہ چکھا تھا، ایک کھاری پانی کے چشمے سے مشک بھر کر ہارون رشید کے دربار میں بطور سوغات کے لے گیا تھا، وہ اس فخر سے کچھ کم نہ تھا جو کولمبس امریکہ دریافت کر کے ازبلا کے دربار میں اپنے ساتھ لایا تھا پس یہ تمام مجموعہ جس میں کچھ نئے اور کچھ پُرانے خیالات شامل ہیں، محض ایک اُمید موہوم پر کہ دیکھئے مردود ہو یا مقبول، ملک کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور پہلے اس سے کہ کوئی ہم پر ہنسے، ہم اپنے دعوئوں پر آپ ہنستے ہیں۔

شاید ناظرین کو پچھلے زمانے کے خیالات میں پہلے زمانے کی بہ نسبت حقائق وواقعات کا کچھ زیادہ جلوہ نظر آئے اور جیسی کہ اُمید کی جاتی ہے ان خیالات کو سچی شاعری کا ایک نمونہ تصور کیا جائے مگر یہ بات کہ جیسے یہ خیالات کانوں کو سچے معلوم ہوتے ہیں، ایسے سچے دل سے بھی نکلے ہیں یا نہیں، خود ہم کو بھی معلوم نہیں، تابہ دیگراں چہ رسد۔ جیسا کام محض سچے جوش اور ولولے سے ہوتا ہے ویسا ہی بلکہ بعض اوقات اس سے بہتر محض شہرت اور ناموری کی خواہش، تحسین وآفرین کے لالچ، جلبِ منفعت کی توقع یا کم سے کم اپنا دل خوش کرنے کے خیال سے بھی ہو سکتا ہے اور خود کرنے والے کو اپنے کام کا منشا معلوم نہیں ہوتا لیکن اگرچہ ہم اس وقت نہ ہوں گے مگر زمانہ سچ اور جھوٹ کو اور دودھ پانی کو الگ کیے بغیر نہ رہے گا۔ سچ پھولے گا اور پھلے گا اور جھوٹ برسات کے سبزے کی طرح جلد نیست ونابود ہو جائے گا۔

وکم قد رأینا من فروع کثیرہ

تموت اذا لم تحیھن اصول

ناظرین کو معلوم رہے کہ جب کسی ملک یا قوم یا شخص کے خیالات بدلتے ہیں تو خیالات کے ساتھ طرزِبیان اور زبان نہیں بدلتی۔ گاڑی کی رفتار میں فرق آجاتا ہے مگر پہیہ اور دھرا باقی رہتا ہے۔ اسلام نے جاہلیت کے خیالات بہت کچھ بدل دیے تھے مگر اسلوبِ بیان میں مطلق فرق نہیں آیا۔ جو تشبیہیں اور استعارے پہلے مدح، ہجا، غزل اور تشبیب میں برتے جاتے تھے وہی اب توحید، مناجات، اخلاق اور موعظت میں استعمال ہونے لگے، خاص کر شعر میں اس بات کی اور بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ متاخرین قدیم شعرا کے بعض خیالات کی پیروی سے دستبردار ہو جائیں مگر ان کے طریقۂ بیان سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ جس طرح کسی غیرملک میں نئے وارد ہونے والے سیاح کو اس بات کی ضرورت ہے کہ ملک میں روشناس ہونے اور اہل ملک کے دل میں جگہ کرنے کے لیے اسی ملک کی زبان میں گفتگو کرنی سیکھے اور اپنی وضع، صورت اور لباس کی اجنبیت کو زبان کے اتحاد سے بالکل دور کر دے۔ اسی طرح نئے خیالات کے شاعر کو بھی سخت ضرورت ہے کہ طرزِبیان میں قدما کے طرزِبیان سے بہت دور نہ جاپڑے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے خیالات کو انہی پیرایوں میں ادا کرے جن سے لوگوں کے کان مانوس ہوں اور قدما کا دل سے شکرگزار ہو جو اس کے لیے ایسے منجھے ہوئے الفاظ ومحاورات وتشبیہات واستعارات وغیرہ کا ذخیرہ چھوڑ گئے۔

کچھ تعجب نہیں کہ اس مجموعے کو اور نیز ان نظموں کو جو پہلے شائع ہوچکی ہیں، دیکھ کر ناظرین کو یہ خیال پیدا ہو کہ ان میں نئی بات کون سی ہے؟ نہ خیالات ہی اچھوتے ہیں جو کسی کے ذہن میں نہ گزرے ہوں اور نہ طرزِبیان ہی میں کوئی ایسی جدت جس سے کبھی کان آشنا نہ ہوئے ہوں اور وہ یہ سمجھ کر بے اختیار پکار اُٹھیں کہ ھذا الذی رزقنا من قبل۔ پس ان کی خدمت میں عرض کیا جاتا ہے کہ بے شک طرزِ ادا میں جیسا کہ ابھی بیان ہوچکا، وہ بہت کم فرق پائیں گے مگر خیالات میں ذرا بھی غور فرمائیں گے تو ان کو ایک دوسرا عالم نظر آئے گا۔ وہ دیکھیں گے کہ گومحمل نہیں بدلے مگر محمل نشین بدل گئے ہیں اور گوپیالے دہی ہیں مگر شراب اور ہے۔

نئے خیالات سے ایسے خیالات ہرگز مراد نہیں ہیں جو کسی کے ذہن میں نہ گزرے ہوں یا کسی کے ذہن کی ان تک رسائی نہ ہوسکے بلکہ ایسے خیالات مراد ہیں جو شاعر وناشاعر کے دل میں ہمیشہ گزرتے ہیں اور ہروقت ان کے پیش نظر ہیں مگر اس وجہ سے کہ وہ ایسے پامال اور متبذل ہیں کہ ان کو حقیر سمجھ کر چھوڑ دیا گیا اور ان کی طرف بہت کم التفات کیا گیا اور پایہ شاعری کو ان سے وراء الورا سمجھا گیا ہے لیکن فی الحقیقت شاعری کا بھید انہی مبتذل خیالات میں چھپا ہوا تھا جو بسبب غایتِ ظہور کے لوگوں کی نظر سے مخفی تھا:

دیکھ اے بلبل ذرا گلبن کو آنکھیں کھول کر

پھول میں گر آن ہے کانٹے میں بھی اک شان ہے

انسان میں جیسا کہ ظاہر ہے، ہرگز یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کو عدم محض سے وجود میں لاسکے۔ اس کی بڑی دوڑ یہی ہے کہ وہ موجودات میں سے چند چیزوں کو ترکیب دے کر اس میں ایک نئی صورت پیدا کردے۔ پس جس طرح عمارت تیار کرنے میں معمار اینٹ، مٹی، چونے کا یا بڑھئی ایک تخت کے بنانے میں لکڑی اور لوہے کا محتاج ہے۔ اسی طرح ضرور ہے کہ شاعر بھی کسی شعر کے ترتیب دینے میں کسی ایسے مسالے کا محتاج ہو جو اینٹ اور مٹی یا لکڑی اور لوہے کی طرح نفس الامر میں موجود ہو۔ وہ مسالہ کیا ہے؟ یہی دُنیا کے حالات جو روزمرہ ہماری آنکھوں کے سامنے گزرتے ہیں، خواہ وہ انسان سے علاقہ رکھتے ہوں یا زمین، آسمان، چاند، سورج، پہاڑ اور دریا جیسی شاندار چیزوں سے یا مچھر، لکڑی اور بھنگے جیسی بے حقیقت چیزوں سے۔ پس جس شاعر نے ان حالات کو معمولی باتیں سمجھ کر چھوڑ دیا اور شعر کی بنیاد محض فرضی اور ناممکن باتوں پر رکھنی چاہی، اس کی مثال اس معمار کی سی ہوگی، جو عمارت بنانے کے لیے اینٹ اور مٹی کی کچھ ضرورت نہیں سمجھتا بلکہ ایسے مسالے کی ضرورت سمجھتا ہے جس سے عمارت تیار نہیں ہوسکتی:

ترسم نہ رہی بہ کعبہ اے اعرابی

کایں رہ کہ تو میروی بہ ترکستان است

الغرض جب سے شاعری کی لے کھلی، معمولی شکار چھوڑ کر عنقا کی گھات میں بیٹھنا اور زمین پر ساگ پات کے ہوتے آسمان سے نزولِ مائدہ کا انتظار کرنا چھوڑ دیا۔ زمانے کے حالات دیکھ کر جو کیفیتیں نفس پر طاری ہوتی رہیں اور جن واقعات کے سننے سے دل پر چوٹ لگتی رہی ان کو وقتاً فوقتاً اپنے سلیقے کے موافق شعر کا لباس پہناتے رہے۔ بعض خیالات بحسبِ ضرورتِ وقت، اقوال سلف یا حکایاتِ سلف سے اخذ کیے گئے۔ کہیں ان کو اپنے حال پر رہنے دیا اور کہیں اپنی طرف سے کچھ اضافہ کر کے اس کو ایک نئی صورت میں جلوہ گر کیا گیا۔ بعض قطعات ورباعیات میں اخلاقی مضامین کنایہ میں ادا کیے گئے ہیں جو شاید کہیں کہیں مطائبہ کی حد کو پہنچ گئے ہوں مگر انوری وسعدی وشفائی کے مطائبات کے آگے یقینا بے نمک معلوم ہوں گے۔ ریاومکرو سالوس وعجب وخودپسندی اور اس قسم کے اخلاق واعظ وزاہد وصوفی وشیخ وملا پر ڈھالے گئے نہ اس لیے کہ نعوذباللہ اس فرقہ علیا کی مذمت مقصود تھی بلکہ اس لیے کہ ان اخلاق کے بیان کرنے کا اس سے واضح تر کوئی عنوان نہ تھا۔ سیاہی کا دھبا جیسا اُجلے کپڑے پر صاف نمایاں ہوتا ہے، ایسا میلے کپڑے پر نہیں ہوتا۔ ظلم اور بے انصافی کے مرتکب اپنی اپنی طاقت کے موافق فقیر اور بادشاہ دونوں ہوتے ہیں مگر جب ظلم کو زیادہ ہولناک صورت میں دکھانا منظور ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ سلطنت کے لباس میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ریا وعجب وخودپسندی اگرچہ ہر فردِبشر میں کم وبیش پائی جاتی ہے مگر جب اس کو علم وزہد ومشیخت کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو وہ زیادہ تعجب انگیز اور ڈرائونی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے اور یہی شاعر کی علت غائی ہے۔ ایک شاعر جب اخلاقی مضامین بیان کرتا ہے تو اس کو بہ ضرورت اکثر نصیحت وپند کا پیرایہ اختیار کرنا پڑتا ہے اس لیے ہم کو بھی کہیں کہیں ناصح بننا پڑتا ہے مگر اصلی ناصح کی نصیحت اور شاعر کے ناصحانہ بیان میں بہت بڑا فرق ہے۔ اصلی ناصح خود بُرائیوں سے پاک ہو کر اوروں کو ان سے باز رہنے کی تاکید کرتا ہے مگر شاعر چونکہ بُرائیوں کی ہوبہو تصویر کھینچ دکھاتا اور گھر کے بھیدی کی طرح چھپے رستوں کے پترے کھولتا ہے اس لیے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ زیادہ تر اپنے ہی عیب اوروں پر دھر کر ظاہر کرتا ہے۔ ہر بدی اور گناہ کا نمونہ کم یا زیادہ، پوشیدہ یا علانیہ انسان کے نفس میں موجود ہے۔ پس اگر بدی یا گناہ کے متعلق کوئی پتے کی بات شاعر کے قلم سے مترشح ہو تو جاننا چاہیے کہ وہ اپنے ہی نفس کی چوریاں ظاہر کررہا ہے:

ہیں عاشقی کی گھاتیں معلوم اس کو ساری

حالی سے بدگمانی بے جا نہیں ہماری

٭٭٭


ای پیپر