ہاکی کی دنیا کا ایک اور ستارہ اسد ملک ڈوب گیا 
10 اگست 2020 (18:41) 2020-08-10

مدثر نذر قریشی

پاکستان کی ہاکی ٹیم کو تین اولمپک گولڈ میڈل، چار عالمی کپ، تین چمپئنز ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ وہ دور تھا کہ پاکستان کی ٹیم اگر کوئی ٹورنامنٹ نہیں بھی جیتتی تھی تب بھی وکٹری سٹینڈ پر اس کی موجودگی طے سمجھی جاتی تھی۔لیکن اب یہ دور ہے کہ وکٹری سٹینڈ پر پہنچنا ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔اس لئے کہ اب وہ کھلاڑی، وہ کوچ اور وہ عزم اور محب الوطنی کے تقاضے نہیں رہے۔ جس دور میں پاکستان کی ہاکی ٹیم کا ڈنکا بجتا تھا ان میں سے بیشتر کھلاڑی اب اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔

 پاکستان میں ہاکی کے چند بہترین لیفٹ جن میں سے ایک اسد ملک تھے، جنھیں حریف ٹیموں کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، اب اس دنیا میں نہیں رہے۔   انہوں نے میکسیکو اولمپک میں گولڈ جبکہ ٹوکیو اولمپک اور میونخ اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کے لیے سلور میڈل جیتا تھا۔ اسد ملک کا تعلق ہاکی فیملی سے ہے ان کے چھوٹے بھائی سعید انور کے علاوہ بھتیجے انجم سعید اور نعیم امجد بھی اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ پاکستان کی واحد فیملی ہے جس کے 4 افراد نے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور اولمپئن پیر کو لاہور میں ٹریفک کے حادثے میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر78 سال تھی۔اسد ملک کے بیٹے ڈاکٹر نوید اسد کا کہنا ہے کہ وہ موٹرسائیکل پر سفر کر رہے تھے کہ کسی گاڑی نے ان کی موٹرسائیکل کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔ اس حادثے میں اسد ملک کی بیٹی بھی زخمی ہوئی ہیں۔

اسد ملک کا شمار پاکستان کے چند بہترین لیفٹ ان میں ہوتا ہے جو حریف ٹیموں کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھے جاتے تھے۔ اپنے ونگرز کے ساتھ ان کی ہم آہنگی دیکھنے والوں کو بہترین کھیل فراہم کرتی تھی۔ ان کے پاسز ساتھی کھلاڑیوں کو گول کرنے کے خوبصورت مواقع فراہم کرتے تھے۔اسد ملک نے نے اپنے بین الاقوامی کریئر کا آغاز دسمبر 1961 میں ملائیشیا کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا تھا۔ 1961 سے 1972 تک انھوں نے 121 بین الاقوامی میچز میں 41 گول کیے۔جب پاکستان نے 1971 میں اولین ہاکی ورلڈ کپ جیتا تو اس وقت وہ ٹیم کے نائب کپتان تھے۔

اسد ملک تین ایشین گیمز کھیلے جن میں پاکستان نے 1962 اور 1970 میں گولڈ میڈل جیتا جبکہ 1966 میں اس نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ ان تین مقابلوں میں اسد ملک کے آٹھ گول شامل تھے۔

اسد ملک نے تین اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ سنہ 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں پاکستانی ٹیم نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ ان مقابلوں میں اسد ملک نے دو گول کیے۔ وہ 1968 میں میکسیکو اولمپکس جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے بھی نائب کپتان تھے۔ ان مقابلوں میں ان کی کارکردگی قابل ذکر رہی تھی۔ انھوں نے پانچ گول کیے جو رشید جونیئر کے سات اور تنویر ڈار کے چھ گول کے بعد تیسرے نمبر پر تھے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف فائنل میچ میں پاکستان انہی کے ریورس فلک گول کے ذریعے اولمپک چیمپیئن بنا تھا۔پاکستان کے محکمہ ڈاک نے 1968 کے میکسیکو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے کے موقع پر ایک روپے مالیت کا خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا جس پر اسد ملک کی کھیلتے ہوئے تصویر تھی۔

یاد رہے کہ 14 فروری 1966 کو جب جنرل موسٰی نے کراچی کے ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم کا افتتاح کیا تو اس موقع پر کھیلے گئے میچ میں اسد ملک نے ہی کراچی کمبائنڈ کی طرف سے پاکستان ریسٹ الیون کے خلاف فیصلہ کن گول کیا تھا۔لیکن اسد ملک کے بین الاقوامی کیریئر کا اختتام بڑے افسوسناک انداز میں ہوا۔ 1972 کے میونخ اولمپکس میں وہ پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان تھے۔ مغربی جرمنی کے خلاف فائنل میں پاکستانی ٹیم کو امپائرنگ سے بڑی شکایت رہی اور فائنل ہارنے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے میڈلز لیتے وقت نامناسب انداز اختیار کیا جس پر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے اسد ملک سمیت دیگر 12 کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی عائد کر دی۔اسد ملک اس کے بعد دوبارہ پاکستان کی طرف سے نہیں کھیلے۔اسد ملک ایشیائی اور ورلڈ الیون میں بھی شامل رہے۔ وہ پاکستان اے ہاکی ٹیم کے کوچ اور انڈر 19 ٹیم کے منیجر بھی رہے۔ یاد رہے کہ سابق اولمپئن اور قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان و گول کیپر اورپاکستان کو 1994 کا ہاکی ورلڈ کپ جتوانے والے قومی ہیرو منصور احمد بھی گذشتہ سال دل کے عارضے کے سبب  12مئی 2018کو  خالق حقیقی سے جاملے تھے۔منصور احمد پاکستان کی جانب سے 338 انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں، انہوں نے 1986 سے 2000 کے دوران اپنے کیریئر میں 3 اولمپکس اور کئی ہائی پروفائل ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔منصور احمد ہی وہ کھلاڑی ہیں، جنہوں نے 24 سال قبل پاکستان کو چوتھی مرتبہ ہاکی کا عالمی چیمپیئن بنایا تھا۔ وہ 1994 کے ہاکی کے ورلڈکپ میں پاکستان کے ہیرو تصور کیے جاتے تھے جب کہ انہیں دنیا کے نمبر ون گول کیپر کا اعزاز بھی حاصل تھا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈئر (ر) خالد سجاد کھوکھر اور سیکرٹری اولمپیئن آصف باجوہ نے اسد ملک کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر