پاکستان کے سمندر میں تیل ہے یانہیں!جانئے اصل خبر
10 اگست 2020 (18:31) 2020-08-10

انٹرویو: مقبول خان 

پاکستان میں آئل اینڈ گیس کے شعبے میں مہارت اور وسیع تجربہ رکھنے والے سید فراست شاہ کی شخصیت زندگی کے مختلف شعبوں پر محیط ہے، وہ گذشتہ دنوں ہی پی پی ایل سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ وہ صاحب کتاب ہونے کے ساتھ مترجم و مصنف بھی ہیں، اسلامی آثار قدیمہ سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں،اس حوالے سے ان کی متعدد ویڈیوز بھی یو ٹیوب پر دیکھی جاسکتی ہیں، سید فراست شاہ مذہبی اسکالر بھی ہیں، ٹی وی سے ان کے لیکچر نشر بھی ہوتے رہتے ہیں،ان کے آباؤ اجداد کا تعلق موجودہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا سے ہے، ان اجداد وہاں سے ہجرت کرکے حیدراباد دکن چلے گئے تھے، تقسیم ہند کے بعد ان کے خاندان نے پاکستان ہجرت کی، فراست شاہ نے پرائمری سے بی ایس سی تک تعلیم کراچی میں حاصل کی، مزید تعلیم کیلئے 1983  میںاسلام آباد چلے گئے ،جہاں جیو فزکس میں ماسٹرز کیا، 1991میں امریکا چلے گئے، جہاں1995 میںارضیاتی سائنس میں ڈگری حاصل کی، زمانہ طالب علمی وہ اسلامی جمعیت طلباء کی سر گرمیوں میں حصہ لیتے رہے، لیکن بقول ان کے وہ کبھی جمعیت کے رکن نہیں رہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے وہاں سے بہت کچھ سیکھا خصوصی طور پر ریلیشن شپ بلڈنگ کو سیکھا، گذشتہ دنوں فراست شاہ صاحب سے نئی بات کے سنڈے میگزین کیلئے شعبہ مارکیٹنگ کے خالد غوری کے توسط سے ایک ملاقات کی ، اور ان سے پاکستان میں آئل انڈ گیس کے شعبے، اور اسلامی آثار قدیمہ کے حوالے سے گفتگو کی جس کا احوال نئی بات سنڈے میگزین کے قارئین کی نذر ہے۔

آپ نے پی پی ایل کب جوائن کیا، اور وہاں سے کب ریٹائر ہوئے، نیز پی پی ایل میں ملازمت کا تجربہ کیسا رہا؟

فراست شاہ: پاکستان سے 19سال باہر رہا،1991میں پاکستان سے باہر چلاگیا تھا، 19سال بعد وطن واپس آیا، تو پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ سے 2010میں وابستہ ہوا، اور گذشتہ دنوں ہی وہاں سے ریٹائر ہوا ہوں، پی پی ایل میں ،چیف جیو فزیسٹ کے طور پر فرائض انجام دیتا رہا، جبکہ وہاں سے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر ریٹائر ہوا ہوں، پی پی ایل پاکستان کا ایک ایسا ادارہ ہے جو سرکاری ہونے کے باوجود نجی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے، اور مجھے یہاں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لئے بھر پور مواقع فراہم کئے گئے، اور مجھے بھی پیشہ وران ذمہ داریوں کی انجام دہی میں لطف آیا، اور میں نے بھی یہاں اپنے علم و ہنر کا بھر پور مظاہرہ کیا، پاکستان سے بیرون ملک جانے سے قبل میں 1985 سے 1991 آئل اینڈ گیس کمپنی سے وابستہ رہا، یہاں تیل و گیس کی تلاش کے شعبہ میں جیو فزیسٹ کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتا رہا، پھر بیرون ملک چلا گیا۔ 

پاکستان کے تیل و گیس کے شعبہ کی مجموعی صورتحال کیا ہے؟

فراست شاہ: پاکستان بنیادی طور پر گیس پیدا کرنے والا ملک ہے، ہمارے ملک میں 1952میں پہلی مرتبہ گیس دریافت ہوئی تھی، آنے والے دنوں میں گیس کے مزید ذخائر دریافت ہوئے، اس کے نتیجہ میں پاکستان میں گیس فراہمی کابڑا افرا اسٹرکچر قائم کیا گیا، اور گھروں تک گیس کو پہنچایا گیا،گیس فراہمی کا اتنا بڑا اسٹرکچر ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہے، پاکستان میں اس وقت گیس کی پیداوار چار بلین کیوبک فٹ ہے، جبکہ اس کی ضرورت اور طلب 8بلین کیوبک فٹ ہے، پاکستان کی آبادی کے لحاظ سے ملک کی مجموعی ضرورت 12بلین کیو بک فٹ ہے، جسے توانائی کے متبادل ذرائع سے پورا کیا جارہا ہے، بلوچستان صوبہ میں گیس کے کافی ذخائر ہیں، لیکن وہاں پر مختلف وجوہات کی بناء پر گیس کی تلاش کا اتنا کام نہیں ہوسکا جتنی وہاں گنجائش ہے۔ تیل کے شعبے میں پاکستان کی پوزیشن بہتر نہیں ہے۔ 

سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ گیس سندھ اور بلوچستان سے نکالی جاتی ہے، اس کے باوجود وفاق سندھ کو اس کی ضروریات کے مطابق گیس فراہم نہیں کرتا ہے، اس حوالے سے حقیقی صورتحال کیا ہے؟

فراست شاہ: یہ سوال تیل اور گیس کی تلاش سے متعلق ہے، یہ گیس کی صوبوں کو فراہمی کا معاملہ ہے، اور یہ سوال سیاسی ہے، اس کا بہتر جواب سیاستدان ہی دے سکتے ہیں،لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ تیل و گیس تلاش کر نے والی کمپنیوں کی یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ مقامی افراد کو روزگار فراہم کریں اور علاقہ کی سماجی بہبود کیلئے کام کریں۔

پاکستان کے سمندر میں گیس اور تیل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس حوالے سے کتنا کام ہوا ہے، اس حوالے سے کیا حقائق ہیں، نیز مستقبل میں سمندر میں گیس اور تیل کی تلاش کے کیا امکانات ہیں؟

فراست شاہ: یہ اہم سوال ہے، اور اس کے حقائق کا علم پاکستانیوں کو ہونا چاہئے، پاکستان کے سمندر میں تیل نہیں گیس کی تلاش کا ٹاسک تھا، اس منصوبہ میں دو پاکستانی کمپنیاں پی پی ایل اور او گی ڈی سی سمیت امریکی کمپنی اگزون اور اٹلی کی کمپنی ای این آئی شامل تھیں، چاروں کمپنیوں کا اس منصوبہ میں 25.25فیصد حصہ تھا، اس منصوبہ میں۔ میں پی پی ایل کی نمائندگی کر رہا تھا، ڈرلنگ کے وقت میں بذات خود بحری جہاز پر موجود تھا، جس کی وجہ سے تمام معلومات ملتی رہتی تھیں، سمندر کی 2000میٹر گہرائی میں 130کلو میٹر تک ڈرل کیا گیا،وزیر اعظم عمران خان بھی اس منصوبہ کو دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے یہ بات قبل از وقت کہہ دی تھی کہ اس منصوبہ کے ذخائر پچاس سال کیلئے کافی ہونگے، اس وقت تک ڈرل کی صورتحال امید افزا تھی، لیکن ذخائر کے ٹھوس شواہد نہیں ملے تھے، بڑا منصوبہ تھا ،اس لئے رسک لیا گیا، اس کا تخمینی بجٹ ایک سو ملین ڈالر کا تھا، لیکن بعض وجوہات کی بناء پر اس منصوبہ میں کامیابی نہ ہوسکی، اس شعبہ میں اب تک جو آف شور کام ہوا ہے، آف شور میں گیس اور تیل ملنے کے امکانات زیادہ ہیں، کم گہرے سمند میں کام کیا جائے تو مثبت نتائج کے امکانات ہیں، بھارت نے بھی اپنی حدود کے آف شور میں ڈسکوری کی ہے۔ 

پاکستان میں گیس اور پٹرول ایران سے اسمگل کی جاتی ہے، اس کے پاکستان کی آئل انڈسٹری پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں،نیز اسمگلنگ روکنے کیلئے کیا اقدامات کئے جائیں؟

فراست شاہ: ،،یہ حقیت ہے کہ مقامی ذرائع سے پاکستان کی مطلوبہ طلب پوری نہیں ہوتی ہے، لہٰذا پٹرول اور ڈیزل بر آمد بھی کیا جاتا ہے، بعض مقامات سے اسمگلنگ بھی ہورہی ہے، اس اسمگلنگ کا پاکستان کی آئل انڈسٹری پر براہ راست اثر تو نہیں پڑتا ہے، اسمگلنگ کی وجہ سے ٹیکس کا شعبہ کسی حدتک اثر انداز ہوسکتا ہے، اسمگلنگ روکنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ 

بلوچستان کی بندر گاہ گوادر پر سعودی آئل ریفائنری کیلئے جو کام کیا جارہا ہے، اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

فراست شاہ: ریفائنری کا شعبہ مختلف ہے، اس سے براہ راست ہمارا کوئی تعلق نہیںہے، اور نہ ہی اس کے ٹائم فریم کا علم ہے، لیکن اتنی معلومات ضرور ہیں، کہ اس پروجیکٹ پر کام  جاری ہے، اور کام آگے بھی بڑھ رہا ہے۔

اسلامی تاریخ سے متعلق آثار قدیمہ کے حوالے سے بھی کام کیا ہے، اس کی تفصیلات سے ہمارے قارئین کو آگاہ کریں؟

فراست شاہ: امریکا میں بارہ سال سے زائد قیام کیا، پھر نائجیریا، مصر ،متحدہ عرب امارات، عراق اور چین کا دورہ کیا، اور وہاں اسلامی تاریخ کے حوالے سے قدیم اور تاریخی عمارتوں کا جائزہ لیا۔ عراق میں کربلا، نجف، بغداد اور کوفہ بھی گیا، مدرسہ منتنصریہ اور مسجد خلفاء کے آثاربھی موجود ہے ، مسجد خلفاء اور مدرسہ کو ہلاکو خاں نے مسمار کردیا تھا، ہلاکو کی اہلیہ عیسائی تھی، اس کی فرمائش پر مسجد کے ساتھ ہلاکو نے گرجا گھر تعمیر کرایا تھا، تباہ کی گئی مسجد کو بعد ازاں بحال کر دیا گیا، چین کے دورے پر کتاب مشرق کو ذرا دیکھ بھی لکھی ہے، چین کا اسلام کے ساتھ تعلق پرانا ہے، وہاں کئی تاریخی مساجد ہیں، جو ایک تنظیم بحال کرا رہی ہے۔ 

امریکا میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کیا ہیں؟

فراست شاہ: امریکا میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل میں نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب عبداللہ آزاد ہے میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے، اس کتاب کے مطالعہ سے پاکستانیوں کو درپیش مسائل کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔ ویسے نائن الیون سے قبل تک امریکا میں پاکستانیوں کے لئے زیادہ مشکلات نہیں تھیں، موجودہ صدر ٹرمپ کے دور میں بلاشبہ پاکستانیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ 

آپ نے کئی کتابیں بھی لکی ہیں اور ترجمے بھی کئے ہیں، اس کی تفصیلات سے آگاہ کریں؟

فراست شاہ: امریکا سے پاکستان آنے کے بعد کتاب عبداللہ آزاد ہے، تحریر کی، اس سے پہلے سید مودودی کی کتاب الجہادکے ترجمے کو ایڈیٹ کیا، پاکستان آنے کے بعد حکیم نعیم الدین زبیری کی زیر نگرانی جمال الدین زرا بوزوکی شرح الاعبعین النوویۃ کا انگریزی سے دو جلدوں میں ترجمہ کیا ہے، جو پاکستان سے شائع بھی کیا جا چکا ہے۔ 

٭٭٭


ای پیپر