صوبائی خود مختاری کے نام پر بدمعاشی نہیں چلے گی :محمد علی درانی
10 اگست 2020 (18:25) 2020-08-10

کاشف سلیمان:

  محمد علی درانی نے اپنی سیاست کا آغاز اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا ،انہوں نے پاسبان کے نام سے تنظیم کی بنیاد رکھی بعد ازاں انہوںنے ملت پارٹی جوائن کر لی جو پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ (ق)میں ضم ہو گئی۔ محمد علی درانی مسلم لیگ (ق)کے دور حکومت میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے وہ 2003سے 2012تک ایوان بالا کے رکن رہے۔انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریارت ،وزیر مملکت برائے سپورٹس کلچر،امور نوجوانان اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر بھی فرائس سر انجام دیے۔آج کل وہ مسلم لیگ فنگشنل کے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ملکی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں موجودہ سیاسی حالات پران کا نقطہ نظر جانے کے لیے نئی بات نے ان سے تفصیلی گفتگو کی جو قارئین کی نظر ہے۔

محمد علی درانی نے 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر مناظرے کا چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ 18ترمیم کے حوالے سے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں کیونکہ یہ ترمیم متفقہ پاس نہیں ہوئی تھی صرف ایک ممبر نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور ووٹ نہیں دیا وہ میں تھا۔اس وقت میں سینٹ میں تھا اور میرا ایک اعتراض این ایف سی ایوارڈ پر اور دوسرا یحیٰ خان کی ترمیم بہاولپور صوبے سے متعلق اسے ختم نہ کرنے اور تیسرا پارٹیوں کے اندر کے انتظام پریعنی تین ایشوز پر میں نے اعتراض کیا تھا۔میں یہ سمجھتا ہوں این ایف سی ایوراڈکے نتیجے میں بے پناہ وسائل جو صوبوں کو ملتے ہیں وہ صوبائی سیکرٹریٹ یا صوبائی مرکز میں ختم ہو جاتے ہیں اور ان کا ضلعوں اور تحصیلوں تک ٹراسفرکا کوئی فارمولہ موجود نہیں ہے۔۔اتنی بڑی رقم لینے کے بعد آپ 80فیصد سے 82فیصد تک غیر ترقیاتی بجٹ بناتے ہیں اور سارا کچھ ایک شہر میں لگا دیتے ہیں جہاں وزیر اعلی کا کوئی رشتے دار پراپرٹی کا کوئی کام کرتا ہے، وہاں سڑکیں اور سکمیں بن جاتی ہیں، مطلب یہ ہے کہ اگر این ایف سی ایوارڈ نے عوام تک نہیں پہنچنا،صوبے تک فنڈز جانے کے بعد نیچے تک نہ بھیجنے کو صوبائی خود مختاری کا نام دیا گیا ہے، سندھ میں یہ ہوتا ہے پنجاب میں بھی یہی ہوتا ہے، پچھلے دس سالہ دور میں 70فیصد بجٹ ایک شہر میں لگتا رہا۔اس سلسلے میں بالکل کلیر رہنا چاہے، این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم اس وقت قبل قبول ہے، این ایف سی ایوارڈ کی موجودہ ریشو کو دیکھنا چاہیے، این ایف سی ایوارڈ بنیادی طور پر جس فارمولے کے تحت صوبوں کو ملتا ہے اسی فارمولے کے تحت تحصیل یونین کونسل اور ضلع تک جانا چاہے ،جتنی آبادی صوبے کی ہوتی ہے اتنا اس کو ملتا ہے تو جتنی آبادی ضلع کی ہے اس کو بھی تواتنا ملنا چاہے۔صوبائی حکومتیں بتائیں کے ان کے بجٹ کا کتنے فیصد این ایف سی ایوارڈہے اور کتنا وہ خود پیدا کرتے ہیں، یہاں تو 90فیصد این ایف سی ایوارڈ پر صوبے چل رہے ہیں۔اس لیے یہ کہنا کہ 18ویں ترمیم کو انگلی لگائی تو انگلی کاٹ دیں گے، اس کے بعد چھ ترامیم تو کر چکے ہیں، تو بات 18ویں تریم اور 19ویں ترمیم کی نہیں، بات یہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈکے جو وسائل ہیں وہ عوام تک نہیں پہنچ رہے اور عوام تک نہ پہنچانے کی جو معاشی دہشتگردی ہے اس کو علاقائی یا صوبائی سیاستدانوں نے اس کو صوبائی خود مختاری کا نام دے دیا ہے جو قابل قبول نہیں ہے۔ میرے شہر پر پیسے نہ لگیں اور اس کو صوبائی خود مختاری کہہ دیں یہ صوبائی خود مختاری نہیں صوبائی بدمعاشی ہے ،یہ آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔این ایف سی ایوارڈکے حساب سے بہاولپور کا 105ارب پچھلے ایک لمبے عرصے سے سالانہ بنتا تھااور پورے دس سال تک وزیر اعلی نے خود کہا کہ ہم نے 8 ارب تک ہر سال دیا ہے، اس کو آپ صوبائی خود مختاری کہیں گے یہ صوبائی خود مختاری نہیںہے یہ معاشی دہشتگردی ہے، پاکستانی عوام کے خلاف جو این ایف سی ایوارڈکی دھاندلی کی شکل میں کی جا رہی ہے اگر کسی نے اس پر مناظرہ کرنا ہو تو میں اس کے لیے تیار ہوں، عوام کی طرف سے۔

مسلم لیگیوں کے اتحاد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میرا یہ خیال ہے کہ مسلم لیگوں کے ورکر ز تو ایک جگہ اکٹھے ہو سکتے ہیں لیڈر نہیں، کیونکہ ان کے بچے ہیں، مطلب یہ جو بچہ پال سکیم ہے وہ اس وقت مسلم لیگوںاور پارٹیوں کے اندر اتحاد کے راستے میں حائل ہوتی ہے۔مسلم لیگوں کا ورکرفخر سے کہتا ہے کہ میں مسلم لیگی ہوں، اب پرابلم یہ ہے کہ جو لیڈر ہیں وہ کہتے ہیں ہم نے بچے پالنے ہیں، یہ جو بچہ پال سیاست ہے، اس بارے میںتمام لیڈروں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اگر وہ آج عوام کی سیاست کریں جس دن وہ نہیں ہوں گے دنیا میںعوام ان کے بچوںکی سیاست کرے گی لیکن جب وہ آج ہی بچے کو بغل میں لے کر کچھ بنانے کے لیے بھاگ پڑتے ہیں تو وہ اچھا نظر نہیں آتا۔ موجودہ سیاست پر اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو کورونا ہوا ہے اور اپوزیشن بھی کورونا کا شکار ہے، ہر کوئی اپنے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور عوام نان ڈیلیوری کے پریشر کی دجہ سے دباو میں ہے ،عوام اب صرف ایک چیز کا احتساب چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت کچھ نکال سکے ،الزامات کے احتساب کی عوام کو اب کوئی تمنا نہیں ہے ،الزام لگانے ،جیل میں بند کرنے یا بد کلامی کے احتساب سے آگے بڑھتے ہوئے عوام کو یہ بتانا چاہے کہ اتنا مال آگیا ہے اور ملک و قوم کے کے لیے آگے ہم یہ کر رہے ہیں۔

مرکز اور پنجاب کی حکومتوں کی کارکردگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ آج کی تاریخ میں صوبائی حکومت کا مقابلہ مرکزی حکومت سے کریں تو عثمان بزدار کی حکومت کوئی بری تو نہیں ہے ،چینی ،آٹا، بجلی، احتساب  سمیت دیگر معاملات کے حوالے سے مرکز سے بیانات کے علاوہ کچھ نہیں ہو رہا۔سردار عثمان بزدار کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ عام آدمی ہے جس کو وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلی پنجاب لگا دیا ہے پہلے دڈیرے اور جاگیردار بنا کرتے تھے اب ایک چھوٹا وڈیرہ بنایا گیا۔ڈیلوری کس کی ہے سیدھی سی بات ہے جو پرفارمنس مرکزی حکومت کی ہے وہ ہی پنجاب کی ہے اگر ان کی اچھی ہے تو ان کی بھی اچھی ہے ان کی بری ہے تو ان کی بھی بری ہے۔ 

محمد علی درانی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس وقت سیاست نہیں صرف تقاریر کر رہے ہیں میں نے بہت سی حکومتیں دیکھی ہیں کسی حکومت کو اچھا مشورہ دینا ہو تو میں کہوں گا بولنا بند کر دو ،کام کرنا شروع کر دو۔عمران خان اور ان کی حکومت کو مشورہ ہے ان کے خیرخواہ کے طور پر کہ وہ بولنا بند کر دیں بلکہ ٹیپ کا ایک رول منگوا لیں اور سارے وزیر وں کے منہ پر لگا دیں اور انہیں کہیں ہاتھ اور قلم کھلے رکھیں، جب عوام خوش ہوں گے تو جہاں سے گذروگے تمھارے نعرے لگے گے۔

محمد علی درانی نے کہا کہ وزیر اطلاعات کی ذمہ داری بڑی سادہ اور سپیس محدود ہوتی ہے۔وزیر اطلاعات نے سرکاری سچ ہی بولنا ہوتا ہے اس کی ڈیوٹی یہی ہے جو کابینہ میں فیصلہ ہو گا وہ وہی بتائے گا اپنے پاس سے تو کچھ نہیں کہہ سکتا۔اس وقت شبلی فراز وفاقی وزیر اطلاعات ہیں میں نے کسی کو بنانا ہوتو میں کہوں گا ان سے بہتر کوئی نہیں اب وہ ڈیلور کیا کر پائیں گے جو حکومت کرے گی وہی عوام کو بتائیں گے وہ اپنے آفس یا گھر میں بیٹھ کر الفاظ کی گولہ باری تو کر سکتے ہیں لیکن اقدامات تو نہیںکرسکتے۔جب حکومت کچھ نہیں کرتی تو نزلہ وزیر اطلاعات پر گرتا ہے کہ وہ دیکھیں ہمارے خلاف خبر لگ گی جب کچھ کریں گے نہیں تو خبر خلاف ہی لگے گی۔

 انہوں نے کہا کہ کورونا کے بعد سب سے پہلا قدم جو دنیا نے اٹھایا وہ وہاں کے ہائر ایجوکیشن کو تحفظ فراہم کرنا تھا جبکہ آج یہ حال ہے کہ ایک پیسہ ہم نے اپنی ہائر ایجوکیشن پر نہیں لگایا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ جتنے بچے ہائر ایجوکیشن میں پڑھتے ہیں انہیں فورا انٹرسٹ فری لون دینا چاہے یہ ان کا نعرہ تھا یہ جب بھی کوئی پراجیکٹ بنتا تھا یہ کہتے تھے ہیومن ڈیویلپمنٹ ،ہیلتھ اور ایجوکیشن پر تو کچھ نہیں لگا رہے اب یہ کچھ تو کرتے،ہماری بھی عزت ہے ،ہم جنہوں نے اس تمام تبدیلی کے پراسس کو سپورٹ کیا ہوا ہے وہ اپنے آپ کو بہت حقیر ،بے عزت محسوس کر رہے ہیں لوگ پوچھتے ہیں جو تبدیلی آنی ہے وہ یہ تبدیلی ہے جس کے نتیجے میں عوام کے لٹنے کا اور حکمرانوں کے شور کرنے کا عمل اکٹھا ہو رہا ہے۔ حکومت کو اس وقت عوام کے استحصال کو روکنا چاہے۔حکومت اگر ماں کی بجائے قصائی بن جائے تو پھر عوام لٹ جائیں گے اب یہ ہے کہ جو کوئی عوام کو لوٹتا ہے اس کے خلاف خبر لگتی ہے اقدام صرف عوام کے خلاف ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا، کہ کہتے ہیں کہ ہم نے چینی مافیا کے خلاف خبر لگائی لیکن چینی کی قیمت اتنی ہی ہے جتنی پہلی تھی اور 1985سے احتساب کرنے کی بات کا مطلب یہ ہے کہ احتساب بند۔

بیوروکریسی میں بار بار تبدلیوں کے حوالے سے محمد علی درانی نے کہا کہ ہر تین مہینے بعد افسر کو تبدیل کر دینا اور پھر کہنا تعاون نہیں ہو رہا اس کا تعاون سے تعلق نہیں بیوروکریسی کو ڈیلیور کرنے کے لیے سپیس چاہے ہوتی ہے اگر آپ ان کو سپیس بھی نہیں دیں گے اور آپ کو خود بھی پتہ نہیں ہو گا کہ آپ نے ان سے کیا کام لینا ہے تو پھر ٹرانسفر ہی ہو گی یا پھر ٹرانسفر کرنے والے لوگ پیسے پکڑ لیں گے ،اللہ کرے نہ پکڑ رہے ہوں، لیکن یہ ہے کہ عام کرپشن کا جو ریٹ ہے اس میں بہت اضافہ ہو گیا ہے اس کی وجہ سے عوام بہت تکلیف میں ہیں۔آئینی اعتبار سے دیکھیں تو حکومت  دو صوبے بنائے جائیں صوبہ بہاولپور کو بحال اور جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبہ بنائے۔پاکستان بننے کے بعدپنجاب میں8ڈویژن اور 18اضلاع بنے لیکن بہاولپور میں کوئی ایک ضلع نہیں بنا۔جنوبی پنجاب کی بات کریں تو میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ جنوبی پنجاب صوبہ نہیں بنے گا وہ اس لیے نہیں بنے گا کہ جنوبی پنجاب کے وڈیرے ،شوگر مافیاوہ جنوبی پنجاب کی محرومی دکھا کر مرکز اور صوبوں میں اپنے لیے وزارتیں اور مراعات لیتے ہیں یہ جو ملتان ،ڈی جی خان کے وڈیرے جو ہیں، ان کی مراعات اور شوگر ملیں ان کے تمام مفادات ہیں،یہ وزیر اعظم،صدر اور وزیر اعلی بھی بن جاتے ہیں، جنوبی پنجاب کی محرومی دکھا کر جب میں نے دو صوبوں کی بات کی تو انہوں نے مخالفت اس لیے کی کہ دو صوبے بنائیں گے تو بن جائیں گے، انہوں نے پنجاب اسمبلی کی متفقہ قراردادکی نفی کر دی میں آج پیشگوئی کر رہا ہوں یہ کسی صورت جنوبی پنجاب کو صوبہ نہیں بننے دیں گے الٹا اس کی جگہ جنوبی پنجاب میں ایک سیکرٹریٹ بنا دیں گے جس کے نتیجے میں سرخ فیتہ مزید تین سو کلو میٹر لمبا ہو جائے گا جو کام لاہور سے تین مہینے میں ہوتا تھا اب وہ تین مہینے میں ملتان یا بہاولپور سے ہو گا اور اس کے بعد پھر تین مہینے لاہور میں لگیں گے۔آپ بتائیں کیا چیف سیکرٹری کے اختیارات کوئی ایڈیشنل چیف سیکرٹری استعمال کر سکتا ہے ،کیا وزیر اعلی کے اختیارات کوئی اور استعمال کر سکتا ہے۔جو سمری وزیر اعلی کو جانی ہے اس کی منظوری کے بغیر کوئی کام ہو سکتاہے۔بیوروکریسی کا سرخ فیتہ لمبا کرنے کے بعد عوام کو تو بے وقوف بنایا ہوا ہے انہیں ایسے سمجھتے ہیں جیسے وہ جانور ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کر کے کہتا ہوں کہ بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبے بننے کے راستے میں وہاں کے وڈیرے اورشوگر مافیا حائل ہے۔وہ نہ کسی کو سیاست میں آگے آنے دیتے ہیں نہ عوام کے مسائل حل ہونے دیتے ہیں شوگر ملیں وہاں لگ جاتی ہیں لیکن وہاںسکول نہیں بنتے۔

٭٭٭


ای پیپر