کشمیر، پاکستان اور مریم نواز
10 اگست 2019 2019-08-10

ایک پرانے شناسا کافی دنوں کے بعدملاقات کے لیے دفتر تشریف لائے… داخل ہوتے ہی سوال پھینک مارا جنگ ہوگی یا نہیں… میں نے جواب دیا نہیں ہو رہی… کہنے لگے کیسے نہیں ہو رہی کیا تمہیں حالات کی سنگینی کا اندازہ ہے… مودی نے شبخون مارکر کشمیر ہڑپ کر لیا ہے… یہ صرف وادی کے عوام کا مسئلہ نہیں اہل پاکستان کے لیے بھی جینے مرنے کا سوال ہے… پہلے ہماری شہ رگ پر قبضہ تھا اب بھارت گردن مروڑنے پر آ گیا ہے، ہم کیسے برداشت کر سکتے ہیں…دوسری جانب مودی اور اس کی سرکار والوں پر بھی جنگی جنون سوار ہے… اس عالم میں جنگ آج یا کل کیونکر نہیں ہو رہے گی میں نے عرض کیا بھارت نے جنگ لڑے بغیر اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے اس نے کشمیر کو لقمہ تر کی مانند یوں ہضم کر لیا ہے کہ ڈکار لینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کر رہا… جنگ کرنے کی حماقت کیوں کرے گا… انہوں نے پوچھا کیا ہم چپ کر کے بیٹھے رہیں گے؟ میں نے کہا ہماری جانب سے سفارتی سطح پر بہت آوازیں بلند کی جا رہی ہیں لیکن دو بہ دو جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں… ویسے بھی ہماری حالت یہ ہے بھارت کے ساتھ جنگ کو آپشن سمجھنا کب کا ترک کر چکے ہیں پارلیمنٹ کے اجلاس میں شہباز شریف کے ایک جملے کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تو کیا میں بھارت پر حملہ کر دوں… گویا حکمرانوں کے نزدیک بھارت کے ساتھ جنگ چھیڑنا حماقت سے کم نہیں… میرا دوست بولا مقبوضہ کشمیر کو وہاں کے باسیوں کے لیے جو جہنم زار میں تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ہے ہر مقام پر کرفیو ہے… انسانی حقوق کی پامالی معمولی بات ہے… ظلم و ستم کی بارش ہو رہی ہے … بھارتی فوج پہلے سات لاکھ کے قریب تھی، اب مزید دستے بھیج دیئے گئے ہیں… کیا اس صورت حال کو دیکھ کر جو کشمیری ہماری جانب بستے ہیں سب کچھ برداشت کر پائیں گے بے اختیار ہو کر اپنے بھائی بندوں کی مدد کے لیے لائن آف کنٹرول کے پار جانے کی کوشش نہیں کریں گے… میں نے جواب دیا ان کے دل بلاشبہ زخمی ہیں اور ہم اہل پاکستان کے دماغ بھی پھٹے جا رہے ہیں لیکن ہماری حکومت پر FATF کا اتنا شدید دباؤ ہے کہ وہ خود کسی ایک آدمی کو ادھر سے اُدھر نہیں جانے دے گی… مبادا اس پر حرف آ جائے اور آئندہ ماہ نومبر میں موجودہ گرے لسٹ سے نکل کر بلیک لسٹ کی اندھی گھاٹی میں جا گرنے کے امکان میں جو کمی واقع ہوئی ہے، دوبارہ اس کی زد میں آجائیں … اس لیے ریاست اور حکومت دونوں کی بھرپور کوشش ہو گی کہ ہماری جانب کے کسی مجاہد کے اعلانیہ یا غیر اعلانیہ طو رپر ادھر جا نکلنے کا الزام نہ لگنے پائے … لہٰذا جنگ ہو گی نہ پہلے کی مانند جہادی سرگرمیوں کے زور پکڑنے کا امکان پایا جاتا ہے… یارِ دیرینہ نے مزید سوال کیا ہم اپنے اصولی مؤقف کا جھنڈا سر بلند کر کے سفارتی اور عالمی سطح پر بھارت کا گھیرا تو تنگ کر سکتے ہیں کیونکہ اب جو اس کی جانب سے بد عہدی کی انتہا کر دی گئی ہے ، ایک ایسے خطے کو جس کے متنازع ہونے پر بین الاقوامی قانون کی مہر ثبت ہے ، سلامتی کونسل کی قرار دادیں اس کی توثیق کرتی ہیں ، اُسے دن دہاڑے دبوچ کر اپنے ملک کے اندر ضم کر دینا آسان نہیں جبکہ اس اقدام کے ساتھ شملہ معاہدہ بھی غیر مؤثر (irrelevant) ہو کر رہ گیا ہے اور دو طرفیت (Bilateralism) جس کی بھارت ہر موقع پر آڑ لیتا تھا ہوا میں تحلیل ہو گئی ہے… اس صورت میں کیا اس کے پاس سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے فرار کی کوئی راہ رہ گئی ہے… میں نے کہا آپ ٹھیک کہتے ہیں بظاہر کوئی راستہ نہیں بچا لیکن ہم جو مدّعی ہیںکامیابی کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑنے کی اہلیت سے عاری نظر آتے ہیں… پوچھا وہ کیسے؟… میں نے کہا ماسوائے چین سلامتی کونسل کے کسی مستقل رکن نے ہمارا ساتھ دینے کی حامی نہیں بھری… وہ سب کے سب بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں… ان میں سے ایک بھی انکار کر دے تو قرار داد منظور نہیں ہو سکتی اس پر ویٹو کا ٹھپہ لگ جاتا ہے… ہم میں کسی ایک پر اصولی یا اخلاقی دباؤ ڈالنے کی سکت نہیں … معاشی اور اقتصادی لحاظ سے اتنے کمزور ہیں کہ ایک ایک ڈالر کی خاطر قرض کی بھیک مانگتے ہیں… آئی ایم ایف کے شکنجے میں سر دے رکھا ہے… معیشت ہماری اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے… بھارت ان جھمیلوں سے آزاد ہے…اسے مقابلتاً بہت زیادہ اقتصادی آزادی اور مضبوطی حاصل ہے جو ہمارے نصیب میں نہیں… بین الاقوامی سیاست میں اصولوں کا پرچار تو بہت کیا جاتا ہے لیکن در حقیقت یہ مفادات کی دنیا ہے… اکثر و پیشتر اہم ممالک کے بھارت کے ساتھ ہمارے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرے مفادات وابستہ ہیں… یہاں تک کہ آپ نے دیکھا نہیں… سعودی عرب بھی تقریباً خاموش ہے… متحدہ عرب امارات نے اس موقع پر بھارت نوازی میں حد عبور کر دی ہے… بقیہ عرب دنیا میں سے کسی کو ہماری پروا نہیں… وزیراعظم عمران خان نے ملائیشیا کے مہاتیر محمد کو فون کیا انہوں نے ہوں ہاں کر دی… ترکی کے طیب اردوان نے البتہ ہمارا حوصلہ بڑھایا ہے لیکن ترکی اور چین ہمارے ساتھ آن کھڑے بھی ہوں تو بھارت کا کچھ نہیں بگڑے گا، اس لیے سفارتی محاذ پر ہماری جانب سے جو تھوڑی بہت صدائے احتجاج بلند کی جا رہی ہے اور دنیا کی توجہات اس جانب مبذول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، اس سے زیادہ فرق پڑنے والا نہیں… میرے دوست کا سوال تھا یہ جو 22جولائی کو وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی حامی بھری تھی کیا اس سے فائدہ اٹھا کر ہم بذریعہ واشنگٹن بھارت کو معقولیت کی راہ اختیار کرنے اور تنازع کشمیر پر وہاں کی عوام کی خواہشات کے مطابق حل نکالنے پر مجبور نہیں کر سکتے… میرا جواب تھا امریکی صدر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش ابھی تک معمابنی ہوئی ہے… ہم اس پر خوش تو بہت ہوئے لیکن اب جو حالات نے ایک دم پلٹا کھایا ہے اس کے تناظر میں معلوم ہوتا ہے امریکہ پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے… اسے ہم سے افغانستان سے دنیا کو شکست کا داغ دکھائے بغیر آبرو مندی کے ساتھ نکل جانے کے لیے تعاون درکار ہے… لہٰذا ہماری جانب کشمیر کا پتا پھینک دیا… دوسری طرف وہ بھارت کو بھی ناراض نہیں کر سکتا… بھارت کو چونکہ ملک افغاناں کے حوالے سے کوئی کردار نہیں مل رہا… لہٰذا اسے خاموشی کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر کے دو ٹکڑے کر کے پوری کی پوری کا گھونٹ پی لینے کی مہلت دے دی گئی… اب جو پاکستان نے ردعمل دکھایا ہے اور امریکہ کو ہماری ضرورت بھی ہے… لہٰذا ثالثی کی پیشکش رو بہ عمل لائی جائے گی اور ہم سے کہا جائے گا گلگت اور بلتستان کا اسی طرح انضمام کر لو جس طرح بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کا کیا ہے… نئی دہلی والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا … آزاد کشمیر بھی پورے کا پورا اپنے وفاق میں شامل کر لو اور تم دونوں ملک لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کر لو… میں نہیں کہتا کہ لازماً اسی طرح ہو کر رہے گا لیکن بھارت اگر امریکہ کی جانب سے کسی قسم کی ثالثی پرآمادہ ہوا تو اس کی شرائط یہی ہوں گی… کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں ان خطوط پر غیر اعلانیہ مفاہمت ہو چکی ہے لیکن اگر ان کی بات کو تسلیم نہ بھی کیا جائے تو بھارت اس سے زیادہ کسی چیز پر آمادہ نہ ہو گا اور امریکہ اس سے زیادہ ثالثی کرنے پر تیار نہ ہو گا… آخری سوال میرے مہمان نے یہ اٹھایا کیا کشمیری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غلام بن جائیں گے… میں نے کہا ہرگز نہیں… قدرت کا بھی ایک اصول انصاف ہے… مکافات عمل جلوہ دکھائے گا… حق کشمیریوں کے ساتھ ہے ان کا جذبۂ آزادی بھارت کی جانب سے اس حد تک سفاکی اور ریاستی جبر و تشدد کی انتہا کے باوجود ٹھنڈا پڑنے کا نام نہیں لے رہا… اس کی توانائی میں کمی نہیں آ رہی… وہ ایک دن اپنا حق ضرور لے کر رہیں گے… آزادی کی صبح دنیا کی اس حسین ترین وادی پر بھی طلوع ہو گی… لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم جو ان کا بہت بڑا سہارا تھے اپنی ناقابل بیان داخلی کمزوریوں اور سخت تضادات کی وجہ سے در پیش حالات کے اند ران کی بہت زیادہ مدد کرنے کے قابل نہیں رہے…

یہ موقع غیر معمولی درجے کے قومی اتحاد کے مظاہرے کا تھا…سیاستدانوں کے یکجا ہو جانے کا تھا… ان کی قیادت میں زبردست اور بے پناہ قسم کے عوامی مظاہروں کا تھاتاکہ مظلوم و مقہور کشمیریوں کو پیغام جاتا کہ ہم ان کی خاطر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں… بھارت کو بھی معلوم ہو جاتا کہ پاکستان اس کے مقابلے میں جغرافیائی لحاظ سے چھوٹا ملک سہی لیکن اپنے اصولی مؤقف اور نہایت درجہ جاندار اتحاد و اتفاق کی بنا پر ہر طرح کی ٹکر لے سکتا ہے اور بڑی سے بڑی آزمائش پرپورا اترنے کی غیر معمولی صلاحیت سے مالا مال ہے… مگر حالت ہماری یہ ہے کہ پارلیمنٹ ہماری کا مشترکہ اجلاس ہوا پہلے تو وزیراعظم بہادر اعلان کے باوجود ایوان کے اندر آنے سے گھبراتے رہے … اس دوران قرارداد جو سرکار کی جانب سے پیش کی گئی اس کے لفظ لفظ سے بزدلی ٹپک رہی تھی… اپوزیشن کی ترمیمات نے متن میں جان پیدا کی… پیر فقیر مان کر جناب وزیراعظم قدم رنجا ہوئے …پھسپھسی تقریر کر ڈالی… اپوزیشن کی جانب سے دشمن کے عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا گیا… اگلے روز قرار داد بھی متفقہ طور پر منظور ہو گئی لیکن فیصلہ سازی کا کام کسی اور جگہ بیٹھ کر کیا گیا… قومی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس ہوا، عسکری اور سول قیادتیں آمنے سامنے بیٹھیں… چند ایسے فیصلے ہوئے جن کا بھارت بہت زیادہ اثر قبول کرتا نظر نہیں آ رہا… سفیر واپس بلا لیے گئے ہیں لیکن سفارت خانے بقیہ عملے سمیت اسی طرح موجود ہیں… باہمی تجارت بند کر دی گئی ہے… لیکن پاکستان کے راستے بھارت کی افغانستان کے ساتھ تجارت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی… سمجھوتہ ایکسپریس پر پابندی لگا دی گئی ہے… یہ کام پہلے بھی کئی مرتبہ ہو چکا ہے… بھارتیوںکو پروا نہیں ہوتی… انہوں نے تو ایک مرتبہ یہ گاڑی جلا بھی ڈالی تھی… کئی مسافر ہلاک ہوئے تاہم اس تمام تر کارگزری نے اس بات کو ایک مرتبہ پھر الم نشرح کر دیا ہے کہ پارلیمنٹ کی حیثیت زیادہ سے زیادہ رسمی قرار دادیں منظور کرنے کے ایوان کی ہے… اصل فیصلے متوازی اجلاسوں میں ہوتے ہیں… جہاں حکم ان کا چلتا ہے جنہیں آئین منتخب پارلیمنٹ کے ماتحت بتاتا ہے… یہ دو رنگی کیا بھارت کو ہم سے کیوں خوفزدہ کرے گی؟ البتہ ہمارے طریقے حکمرانی کے کھوکھلے پن کو زیادہ عیاں کر دیتی ہے مگر معاملہ اسی پر موقوف نہیں کرپشن کے الزامات کی آڑ میں مخالف سیاستدانوں کی پکڑ دھکڑ کا جو سلسلہ جاری ہے، اس نے داخلی اتحاد کی جڑوں کو کمزور کرنے میں کسر نہیں اٹھا رکھی… شاہد خاقان عباسی اور مفتاع اسماعیل کا جن کے خلاف ابھی تک جرم کیا الزام کا بھی کوئی ثبوت نہیں پیش کیا جا سکا مذکور کیا… مریم نواز کا قصور بس یہ ہے کہ وہ اسٹبیلشمنٹ کے غیر آئینی کردار سے ٹکر لینے والے محبوس نواز شریف کی بیٹی ہے اور عوامی جلسے منعقد کر کے باپ کی نیابت کا حق ادا کر رہی ہے… لوگ ہیں کہ نصف شب کے بعد بھی اس کے جلسوں میں اتنی بڑی تعداد میں آ جمع ہوتے ہیں کہ میڈیا پر لگائی جانے والی جبری پابندیاں بھی جمہوری للکار پر اثر نہیں ڈال رہیں… حکمران ان جلسوں سے اپنی تمام تر ریاستی طاقت و ثروت کے باوجود خوفزدہ نظر آتے ہیں… مریم نے چکوال، پاکپتن اور سرگودھا میں غیر معمولی طور پر بڑے اجتماعات کے بعد پندرہ اگست کو کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظفر آباد میں جلسے کا اعلان کر رکھا تھا مگر اچانک بصورت نیب بالادستوں کا عتاب نازل ہوا…عین اس وقت جب جیل میں اپنے بیمار والد سے ملاقات کر رہی تھی منی لانڈرنگ کے الزام میں دھر لی گئی… یہ الزام کتنا صحیح یا درست ہے کھلی عدالت میں مقدمہ نہیں چلا… کسی جج نے فیصلہ نہیں دیا… پھر گرفتاری کیوں اور قید کس بات کی؟… ریاست جب اندرون ملک فتوحات کرنے میں اتنی مگن ہو تو بیرونی قوتوں کے ساتھ نبرد آزما ہونے کے لیے اس کے پاس صرف بیان بازی کی گنجائش رہ جاتی ہے…


ای پیپر