اگر ایمانی قوت نہ ہو…
10 اگست 2019 2019-08-10

جنگ خلیج سے شروع ہونے والا مسلم دنیا کا گھیراؤ، 2001ء میں ڈنکے کی چوٹ اسلام کو ہدف بنا کر پہلے افغانستان اور بعد ازاں عراق میں جا اترا۔ فتنۂ دجال، ملحمۃ الکبریٰ احادیث کی رو سے اور ہر مجدون (Armageddon) وگریٹر اسرائیل، صہیونی یہود و نصاریٰ کے عقیدے کی رو سے آگے بڑھ رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیائے کفر ملت واحدۃ بنی خم ٹھونک کر ان ایجنڈوں کو بروئے کار لا رہی ہے۔ مسلم دنیا ریت میں سر دیئے ’اللہ کرے یہ جھوٹ ہو‘ نفسیات کی شکار مار کھائے جا رہی ہے مگر حقیقت سے نظریں چرا رہی ہے۔ (State of Denial) پوری مسلم دنیا (اور مسلمان) شرق تا غرب اجڑ گئے۔ ہر قابل ذکر ملک جنگ، خانہ جنگی یا سیاسی معاشی افراتفری کی زد میں ہے۔ فلسطین بھلائے بیٹھے تھے۔ ایک اور امتحان آن کھڑا ہوا ہماری شہ رگ پر چھرا چلانے، کشمیر پر ہماری حساسیت آزمانے! گریٹر اسرائیل کے شانہ بہ شانہ گریٹر ہند بھی تو ہے۔ یاد رہے کہ غزوۂ ہند بھی تو باب الفتن کی انہی احادیث کا حصہ ہے۔ ہمیں ویمن سٹڈیز، فیشن سٹڈیز ، پرفارمنگ آرٹس، میڈیا سٹڈیز میں لگا کر دنیائے کفر نے جت کر اسلامیات پڑھی! باب الفتن کے تذکروں میں موجود وہ تمام مقامات جو گریٹر اسرائیل، گریٹر بھارت اور دجال کے لیے امتحان بنیں گے، وہ سبھی گزشتہ 3 دہائیوں سے اہم ترین اہداف بنے ہیں درجہ بدرجہ۔ پہلا کانٹا تو یہ نکالا کہ پوری دنیا میں دہشت گردی (بمعنی جہاد فی سبیل اللہ) کا ڈھول پیٹ کر مسلمانوں کے کان پکڑوا دیئے کہ کالے خوابوں میں بھی کوئی یہ نام نہ لے۔ مغرب اور بھارت کی نیندیں اڑانے والے تمام کردار پوری تاریخ میں مجاہدین فی سبیل اللہ رہے تھے۔ ہمیں خوراک میں شیور مرغ کھلائے۔ انہی کو رول ماڈل بھی بنا دیا۔ جو بے آواز، بے اذان گردنیں کٹوانے کے خوگر ہوں۔ پاکستان ایٹمی ملک تھا۔ اس کے ساتھ افغانستان عراق شام والا سلوک ممکن نہ تھا۔ سو ہمیں اندر سے کھوکھلا کیا۔ مشرف جیسی بے دین، قادیانی نواز قیادتیں بٹھا کر کفر نے ہمیں پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ سے تائب کیا۔ روشن خیالی اعتدال پسندی کا دو آتشہ، ڈالر گھول گھول پلا کر خود سے بیگانہ کیا۔ کشمیر سے ہمیں بیگانہ کیا۔ ’امن کی آشنا‘ کے دھوکے میں نوجوان نسل کو مبتلا کیا مشرفی مہم کے تحت۔ سید علی گیلانی (حیریت کا شیرِ نر) کے مطابق، دہلی میں ملاقات میں مشرف نے کہا: ’ہم نے تین جنگیں لڑی ہیں۔ آپ لوگوں نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں، مگر کچھ حاصل نہیں کر سکے۔ بھارت بڑا ملک ہے۔ اس کے پاس ایٹم بم ہے۔ ایک ارب سے زیادہ آبادی ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک اور طاقتیں بھی اس کا ساتھ دے رہی ہیں۔ ہمیں اب اس کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو، کی بنیاد پر مسئلہ حل کر لینا چاہیے۔ جواباً میں نے ان سے کہا کہ : ’ہمارا مؤقف مبنی بر صداقت ہے ہمیں مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اللہ بزرگ و برتر کی ذات اقدس پر بھروسا کر کے اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے‘۔ انہوںنے کہا : ’میرے ساتھ بش اور ٹونی بلیئر ہیں‘۔ صد افسوس کہ انہوں نے اللہ غالب اور بزرگ و برتر کا نام نہیں لیا۔ پھر دنیا نے دیکھ لیا کہ نہ بش رہا نہ کوئی بلیئر رہا اور نہ مش رہا‘۔ فاعتبروا یا اولیٰ الابصار!… جوانانِ عزیز! یہ سب کچھ قرآن پاک سے دوری اور اس سے ایمانی قوت حاصل کرنے سے وہ محرومی ہے کہ جس کا خمیازہ پوری ملت اور خاص طور پر ہم مظلوموں اور محکوموں کو بھگتنا پڑتا ہے‘۔ (اسی اقتباس میں امریکہ سے تعاون کے نتیجے میں ہونے والے خونیں مناظر کا تذکرہ ہے جس نے ملت اسلامیہ کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا۔)

آج ہماری انہی بے اعتنائیوں، کوتاہ نظریوں کا نتیجہ ہے جس نے ہمارے کشمیری بھائیوں اور خود پاکستان کی سلامتی اور بقا کی داؤ پر لگا دیا ہے۔ کشمیر کو فلسطین میں ڈھالنے کا یہ اقدام،دفعہ 370 اور 35 اے کو بھارتی آئین سے نکال کر کشمیر کو بھارتی ریاست بنا کر ڈکار جانا غیر متوقع تو ہرگز نہ تھا۔ (اس موقع پر سینئر اسرائیلی وزیر دورے پر ہے اور اگلے ماہ اسرائیلی وزیراعظم کی آمد کا اعلان بھی اہم ہے!) بی جے پی کا 3 دہائیوں سے اعلانیہ منشور میں وعدہ تھا۔ اب بھاری اکثریت ملتے ہی یہ توہونا ہی تھا۔ ہم کہاں رہے؟ مودی تو کب سے آئین پر خودکش حملے کی یہ جیکٹ پہنے بیٹھا تھا۔ ہم احمقوں کی جنت سے فاتح ورلڈ کپ اور فاتح کشمیر بن کر لوٹے مٹھائیاں کھاتے رہ گئے۔ 38 ہزار مزید فوج مودی نے بھیج کر، کرفیو، فعہ 144 نافذ کر کے، تعلیمی ادارے، دفاتر، مواصلاتی نظام کی بندش سے، پیشگی اعلان بھی گویا کر ڈالا۔ ہم دو دن گومگو میں رہے۔ اعلان کے بعد بھی تکلیف دہ حد تک سست رفتار ردِ عمل کا مظاہرہ کیا۔ مشترکہ اجلاس کی قرار داد تک بروقت تیار نہ کر پائے۔ ادھوری قرار داد بہ تاخیر (اپوزیشن کے شور مچانے پر) مکمل کی گئی۔ عجب پر اسراریت ہے! ہماری سفارتکاری کا امتحان تھا۔ ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کا شوشہ چھوڑا یا کہئے، صرف ہمیں چھیڑا۔ ساتھ ہی نتیجہ برآمد ہو گیا! اب امریکہ نے اسے داخلی معاملہ قرار دے دیا۔ سعودی عرب نے بھی سادہ تشویش کا اظہار کر کے چپ سادھ لی۔ ترکی بے چارہ خود اتنی بلاؤں میں گھرا آپ کا کیا سنوارے گا۔ چین بھارت سے بھاری تجارتی بندھوں میں بندھا لداخ پر بات کرنے تک ہی محدود رہا۔ اماراتی ایلچی نے بھارت میں (مخصوص ہندو نواز لہجے میں) اسے کشمیریوں کے لیے اقتصادی بہبود کا پیش خیمہ قرار دے دیا! پاکستان یو این قرار داد کی رو سے مسئلہ کشمیر کا مسلمہ فریق ہے۔ قرار داد نمبر 122 (24 جنوری 1957ء) نمبر 123، (21 فروری 1957ء) نمبر 126 (2 دسمبر 1957ء) ریاست جموں کشمیر کی متنازع حیثیت بدلنے کے کسی یک طرفہ اقدام کی ممانعت کرتی ہیں۔ ان دفعات کی تبدیلی بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے بھی غلط ہے۔ مگر آج کی دنیا مسلمان کے لیے بے آئین، لاقانونیت اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی دنیا ہے۔ عالمی ضمیر بد ترین بے حسی کا شکار ہے۔ جو دنیا روہنگیا بچوں کو جلتی بستیوں میں اٹھا پھینکنے، عورتوں بوڑھوں بچوں کو سمندروں کی بے رحم موجوں کے حوالے کرنے پر نہیں سسکی، وہ آج بھی نہتے مظلوم کشمیریوں کے قاتل بھارت کی پشت پر ہے۔ برطانیہ جہاں اتنی بڑی کشمیری آبادی موجود ہے، جو تقسیم ہند میں خیانت کا مجرم ہے، ٹرمپ کا بھائی نما، بورس یلسن منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھا ہے۔ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان پر چلا کر فیصلے دینے والی دنیا کو مسلمان اب بھی نہ پہچانیں…؟ ہم اپنی دشمنی کے لیے خود بہت کافی ہیں۔ دنیا جانتی ہے مسلمان کوکھ سے اب محمد بن قاسمؒ کی جگہ بھینسے، موچی بلاگرز جیسے گنوار گستاخ پیدا ہو رہے ہیں۔ سو ہندوڈٹ کر کہہ رہا ہے ویڈیوز اپ لوڈ کر کر کے کہ اب ہم کشمیری لڑکیاں لائیں گے۔ انسانی حقوق کے عالمی چیمپئن ، کشمیر میں مکمل مواصلاتی بلیک آؤٹ پر بھی اُف نہیں کہہ رہے۔ جمعرات کو 500 کی گرفتاری اور سیدھی فائرنگ کر کے 6 کشمیر شہید، 100 زخمی کرنے کی خبر ہے۔ مسلم حکومتیں منقار زیر پر ہیں۔ عوام سلگ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ڈھاکا میں، حسینہ واجد جیسی بھارت نواز کی رعایا مظاہروں میں سراپا احتجاج ہے۔ ہمارے قبائلی بھائی بھی اٹھ کھڑے ہوئے! احساس امت ختم کرنے کی دیوانگی فیل ہو گئی۔ غزوۂ ہند کی کمک کی ایک سپلائی لائن بنگلہ دیش بھی ہے؟ بھارتی آئین کی دفعات، سلامتی کونسل کی قراردادوں کا منہ بند کرنے کو تھیں۔ اب امتحان ہے اقوام متحدہ کی سچائی کا! اگرچہ اتنی دہائیاں بیت چکیں، قرار دادیں پڑی گلتی رہیں، کشمیر خونچکاں رہا۔ شرمساری تو یہ ہے کہ کشمیری پوری وادی میں پاکستانی جھنڈے لہرائے بیٹھے ہیں۔ شہداء اسی میں لپیٹ کر دفن ہوتے ہیں۔ پاکستان سے رشتہ کیا … لا الٰہ الا اللہ کی گردان کرتے بھارتی فوج کے ہاتھوں خوبصورت آنکھیں پیلٹ گنوں سے کھو بیٹھتے ہیں۔ شاید ہمارے لیے اللہ نے کہا : ’آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘۔ پاکستان کے نعرے بھارتی فوجی کے لیے وہی اثر رکھتے ہیں جو فلسطینی بچے کی غلیل کا پتھر اسرائیلی فوجی کے لیے! ادھر ہم؟ مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے! کشمیر ہماری شہ رگ ہے؟ اللہ نے اپنے قرب بارے فرمایا: ’ہم تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ تم سے قریب ہیں‘۔ لیکن ہمارے سارے بیانوں، قرار دادوں ، کھوکھلے نعروں میں جان نہیں کہ ہم رب تعالیٰ کو بھلا چکے… بقول علی گیلانی: ’جہاں ایمانی قوت ہو، وہاں دنیا کی ساری طاقتیں پر کاہ کے برابر لگتی ہیں اور کوئی فرعونیت اورنمرودیت مسلمان کو زیر دست اور محکوم نہیں بنا سکتی… اگر ایمانی قوت نہ ہو تو اسلحہ اور ایٹم بم بھی آپ میں جرات اور ہمت پیدا نہیں کر سکتے‘۔


ای پیپر