کشمیر پر
10 اگست 2019 2019-08-10

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت پر پچھلے ماہ امریکہ کے دورے پر گئے۔ 22 جولائی کو صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاوس میں ان کی ملاقات ہوئی۔ تو اوول آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ جاں فزا "خوشخبریـ" سنائی کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اوساکا جاپان میں G-8ممالک کانفرنس میں ملاقات کے دوران اُن سے کشمیر پر ثالثی کے لیے کہا ہے اور وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ بعد میں امریکی صدر نے اپنے بیان میں تھوڑی سی ترمیم کی اور کہا کہ پاکستان اور بھارت اگر چاہیں تو وہ ضرور ایسا کریں گے۔ عمران خان نے اس پر ممنونیت کا اظہار اپناتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اگر ایسا کریں اور کشمیر کا مسئلہ حل کرانے میں کردار ادا کریں تو جنوبی ایشیاء کے تقریباً دو سو کروڑ عوام پر احسان ہوگا۔ صدر ٹرمپ کے کشمیر پر ثالثی کے بیان پر جہاں پاکستان میں خوشیوں کا سماں پیدا ہوا وہاں بھارت میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ بھارتی میڈیا نے بڑھ چڑھ کر وزیرِ اعظم مودی کے لتے لینے شروع کر دیے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی پارلیمنٹ میں وزیراعظم مودی پر کھل کر تنقید کی اور اس سے جواب طلبی کرنے لگیں۔ اُن کا موقف تھا کہ وزیرِ اعظم مودی کو کشمیر کے تنازعے جس پر بھارت اور پاکستان نے دو طرفہ مذاکرات پر اتفاق کر رکھا ہے صدر ٹرمپ سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے کہنے کی ضرورت کیوں پڑی؟بھارتی وزیرِ خارجہ اور وزارتِ خارجہ نے ٹرمپ کے ثالثی کے بیان کی مکمل نا ں کی صورت میں تردید تو نہ کی تاہم اسے حقیقت کے برعکس قرار دیا۔

اس ہاں اور نا ں کے درمیان امریکی صدر ٹرمپ کے کشمیر پر ثالثی کے بیان کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر اپنے مظالم میں اضافہ ہی نہیں کر دیا بلکہ لائن آف کنٹرول کے اِس طرف پہلی بار کلسٹر بم گرانے کی جسارت بھی کر دی۔بھارت نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ مقبوضہ کشمیر میںاپنے مسلح دستوں کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا شروع کر دیا۔ انتہائی کم وقت میں ہوائی جہازوں کے ذریعے ہزاروں کی تعدادمیں تازہ دم فوجی اور نیم فوجی دستے سری نگر کے ہوائی اڈے پر اُتارے گئے۔ اس کے ساتھ امر ناتھ یاترا کے لیے پورے بھارت سے ہزاروں کی تعداد میں آئے ہوئے ہندو یاتریوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے وہ فی الفور واپس اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ ان کی واپسی کے لیے ہوائی جہازوں اور بسوں کا خصوصی انتظام بھی کیا گیا۔ بزرگ کشمیری رہنما اور بطل حریت سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک اور دوسرے کشمیری رہنمائوں کے خلاف بھی کاروائیاں شروع کر دی گئیں ۔ اُن کی سرگرمیوں پر پابندی یہاں تک کہ اُن کو اپنے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔ بھارت کی مودی سرکار کی ساری کاروائیاں ظاہر کر رہی تھی کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں صدر ٹرمپ کی ثالثی کی آڑ میں کسی بڑے اقدام کی تیاری کر رہا ہے لیکن ہم بدستور وزیرِ اعظم کے بزعم خود امریکہ کے کامیاب دورے کو بنیاد بنا کر خوشی کے شادیانے بجانے میں مصروف رہے۔ ہاں البتہ کچھ سینئر ، تجربہ کار اور جہاں دیدہ قلم کار اور تجزیہ نگار جن میں محترم نصرت جاوید کا نام نمایاں ہے ایک قومی معاصر میں چھپنے والے اپنے کالموں میں مسلسل دُہائی دیتے رہے کہ مودی کے ایک بار پھر بھارت کا وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد پاکستان کو اس سے خیر کی کوئی اُمید نہیں رکھنا چاہیے۔

کشمیر کے حوالے سے پچھلے دو اڑھائی ہفتوں کے حالات و واقعات کا یہ مختصر سا جائزہ اپنی جگہ ، تاہم مودی سرکار کا وہ فیصلہ سامنے آ گیا جس کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے اگرچہ کافی عرصہ قبل مئی 1991ء میں سابق بھارتی وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے بعد بھارت میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر اپنے منشور کا حصہ بنایا تھا کہ بی جے پی برسراقتدار آنے کے بعد یوپی میں جہاں بابری مسجد کو مسمار کرکے اسے ہندوئوں کی عبادت گاہ مندر کے طور پر از سر نو تعمیر کروائے گی وہاں کشمیر کی مخصوص حیثیت کو ختم کرنے کے لیے بھارتی آئین میں کشمیر کے بارے میں موجود خصوصی آرٹیکل 370 اور ذیلی آرٹیکل35 اے کو بھی ختم کرے گی۔ ہم امریکی صدر کی کشمیر پر ثالثی کے خوش کن اعلان پر چین کی بانسری بجاتے رہے اور مودی سرکار کا اپنی پارٹی کے منشور پر عمل درآمد کرنے کا اعلان سامنے آ گیا۔ اُس نے ٹرمپ کے ثالثی کے اعلان کو بھاڑ میں ڈال کر مقبوضہ کشمیر کی مخصوص حیثیت کو ختم کرنے کے لیے بھارتی کابینہ کے فیصلے اور صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد کا اعلان کر دیا۔ اس حکم نامہ کے تحت مقبوضہ کشمیر ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گی۔ جب کہ لداخ کو وادی جموںو کشمیر سے الگ کرکے بھارتی وفاق کے زیرِ انتظام علاقہ یا بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس طرح مقبوضہ کشمیر عملاً دو حصوں میں تقسیم ہی نہیں ہو گیا ہے بلکہ بھارتی آئین میں کشمیر کو ریاست کے طور پر جو خصوصی حیثیت اور داخلی خود مختاری حاصل تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے۔ بھارتی آئین کا ختم کیا جانے والا آرٹیکل 370مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی ہی نہیں دیتا تھا بلکہ اس کے تحت کسی دوسری ریاست یا بھارتی صوبے کا شہری نہ تو مقبوضہ کشمیر کا شہری بن سکتا تھا اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں کوئی جائیداد خرید سکتا تھا۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد اب بھارت کے ہندوئوں کو کھلی اجازت ہوگی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی قائم کردہ یہودی بستیوں کی طرز پر ہندو آبادی کی بستیاں قائم کریں جس سے وادی کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

کشمیر کا مسئلہ کیا ہے؟ یہ مسئلہ اس مقام تک کیسے پہنچا ہے ؟اور گزشتہ 72 سالوں یہ مسئلہ حل کیوں نہ ہو سکا؟ یہ سب تاریخ کا حصہ ہے اور اس کی تفصیل یہاں بیان کرنے کا موقع نہیں تاہم کشمیر کے بارے میں جہاں پاکستان کی کچھ یقین دہانیاں ، کمٹ منٹس اور تین جنگوں کی صورت میں لازوال قربانیاں ہیں وہاں کشمیریوں کے بھی کچھ دعوے ،کچھ وعدے وعید، کچھ قراردادیں، کچھ کہہ مکرنیاں ،کچھ نعرے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک ِ آزادی کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانیاں ہماری قومی تاریخ کے بیک وقت روشن اور کچھ کچھ تاریک باب ہیں ۔ ان کا کچھ اجمالی سا تذکرہ بھی ہونا چاہیے۔ سینئیر صحافی، اینکر پرسن اور کالم نگار محترم حامد میر کے ایک قومی معاصر میں "آنسوؤں سے ہوشیار" کے عنوان سے چھپنے والے کالم سے کچھ کچھ استفادہ کرتے ہوئے پہلے مقبوضہ کشمیر میں بطورِ وزیرِ اعلیٰ برسراقتدار رہنے والے شیخ عبداللہ اور اُس کے خانوادے کا کچھ تذکرہ کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ننگِ وطن شیخ عبداللہ اور اس کا خانوادہ اپنے اقتدار کے لیے کشمیر کے مسئلے کو اس حد تک پہنچانے اور اُلجھانے کا بڑی حد تک ذمہ دار ہے۔ 1932ء میں کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں آیا تو ریئس الاحرار چوہدری غلام عباس مرحوم کے ساتھ شیخ عبداللہ بھی اس کا حصہ تھا۔ 1939ء میں شیخ عبداللہ کا آل انڈیا نیشنل کانفرنس اور پنڈت نہرو سے "رومانس" شروع ہوا تو شیخ عبداللہ نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس چھوڑ کر نیشنل کانفرنس قائم کر دی۔ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس مارچ 1940ء سے قبل کشمیر کی آزادی اور مسلمانوں کے جداگانہ وطن کے قیام کی صورت میں اُس سے الحاق کی قرارداد منظور کر چکی تھی لیکن شیخ عبداللہ خود مختار کشمیر کا راگ الاپ رہا تھا تاکہ وہاں اُس کے اقتدار کی راہ ہموار ہو سکے۔ اکتوبر 1947ء میں جب کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارتی وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو وزیرِ داخلہ ولبھ بھائی پٹیل اور بھارت کے انگریز گورنر لارڈ ماونٹ بیٹن جس کے مہاراجہ ہری سنگھ سے قریبی اور دوستانہ تعلقات تھے کی ایما اور دباو پر کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تو شیخ عبداللہ نے نہرو کی حمایت سے مقبوضہ کشمیر کی وزارتِ اعلیٰ حاصل کر لی۔ 1952ء میں اس نے نہرو سے معاہدہ دہلی کے تحت آئین کی دفعہ 370منظور کروائی اور کشمیر کی مخصوص حیثیت منوانے میں کامیاب رہا۔ بعد میں نہرو نے اسے برطرف کرکے جیل میں ڈال دیا تو وہ پاکستان سے خفیہ رابطوں کا تاثر دے کر بھارتی حکومت کو بلیک میل کرتا رہا۔

1964ء میں وہ پاکستان کے دورے پر آیا تو مجھے یاد ہے کہ یہ سمجھ کر کہ اس کی قلبِ ماہیت ہو چکی ہے اور وہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کا حامی ہو چکا ہے یہاں پر اس کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے بھی اس کے دورے کا خیرمقدم کیا ۔ صدر ایوب خان سے بھی راولپنڈی میں اس کی ملاقات ہوئی۔ اسی دوران بھارتی وزیرِ اعظم پنڈت جواہرلعل نہرو کا اچانک انتقال ہو گیا تو شیخ عبداللہ کو پاکستان کا اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس جانا پڑا۔ شیخ عبداللہ بعد میں 1974ء میں اندرا گاندھی کے دور میں مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر وزیرِ اعلیٰ بن گیا۔ 1982ء میں اس کے مرنے پر اس کا بیٹا فاروق عبداللہ اور بعد میں فاروق عبداللہ کا بیٹا عمر عبداللہ مقبوضہ کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ رہے۔ آج فاروق عبداللہ اور اس کا بیٹا عمر عبداللہ شور مچا رہے ہیں کہ نریندر مودی کی حکومت نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا ہے تو انہیں سوچنا چاہیے کہ یہ سب کچھ ان کا اپنا ہی کیا دھرا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی کمٹ منٹ اور قربانیوں کی تفصیل اور کشمیریوں کے وعدے وعید اور مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک اور بھارتی حکومت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے جواب میں پاکستانی حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیل انشاء اللہ اگلے کالم میں شامل ہوگی۔


ای پیپر