آئیں وقت اور پیسہ ضائع کریں
10 اگست 2019 2019-08-10

اگر پاکستانی حکمران فوجی طاقت کا استعمال کر کے ہندوستان کو آرٹیکل 370 ختم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے تو پھر وہ صرف ایک کام بخوبی کر سکتے ہیں اور وہ کام ہے‘‘ وقت اور پیسہ ضائع کرنا’’۔ جی ہاں وہ بہترین انداز میں وقت اور پیسہ ضائع کر سکتے۔ آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کالم کے اختتام پر آپ مجھ سے متفق ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پاکستانی حکمران ملک کا وقت اور پیسہ کس طرح بہترین انداز میں ضائع کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے ہندوستان سے کشمیر آزاد کروانے کے لیے پاکستان اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دے۔ پاکستان میں سفارتی ایمرجنسی لگائی جائے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بیجنگ چلے جائیں۔ وہاں کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کریں ۔ بھارت کے خلاف ایک علامیہ جاری کریں ۔

چین سے فارغ ہو کر شاہ محمود وفد کے ہمراہ امریکہ روانہ ہو جائیں۔ مائیک پومپیو کو بتائیں کہ آپ کی ثالثی کو بھارت نے جوتے کی نوک پر رکھ دیا ہے۔ جمہوری روایات اور قانون و آئین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ بھارت نے انٹرنیشنل میڈیا کو بھی مقبوضہ کشمیر سے نکال دیا ہے۔ وہاں خون کی ندیاں بہائی جا رہے ہیں۔ آپ بھارت پر آرٹیکل 370 کو واپس بحال کرنے کے لیے دباو ڈالیں۔ مائیک پومپیو آپ کی گفتگو سن کر بھارت سے بات کرنے کی یقین دہائی کروائیں گے لیکن پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو کر بھارت کے خلاف پریس کانفرنس نہیں کریں گے۔

امریکہ سے فارغ ہو کر شاہ محمود وفد کے ہمراہ اقوام متحدہ چلے جائیں۔ اقوام متحدہ کو یاد کروائیں کہ بھارت اقوام متحدہ کے قوانین پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہے۔ اقوام متحدہ کی قردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا فیصلہ کشمیر کی عوام کی خواہش کے عین مطابق ہو گا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنی مرضی سے بھارت میں ضم نہیں کر سکتا۔ اقوام متحدہ پاکستانی وفد کی باتوں اور دلائل سے اتفاق کرے گی۔ انھیں بھارت کے ساتھ بات کرنے اور اس معاملے کو دنیا کے سامنے اٹھانے کا یقین دلائے گی۔ لیکن وفد سے اتفاق کرنے کے باوجود اقوام متحدہ کے نمائندہ شاہ محمود کے کندھے سے کندھا ملا کر بھارت کے خلاف پریس کانفرنس نہیں کریں گے۔

اقوام متحدہ سے فارغ ہو کر شاہ محمود عرب ممالک چلے جائیں۔ انھیں بھارت کی زیادتیاں گنوائیں اور بھارت کے خلاف بیان دینے کے لیے اکسائیں۔ شہزادے آپ کی بات سننے کے بعد آپ کو تسلی دیں گے۔ صلح کرنے کا مشورہ دیں گے اور اسے بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دی دیں گے۔

گلف سے تسلی ہونے کے بعد شاہ محمود وفد کے ہمراہ برطانیہ، روس، جرمنی، کینیڈا اور فرانس سمیت آدھی دنیا میں چلے جائیں۔ وہاں جا کر کشمیر کے مدعے کو بیان کریں ۔ مشترکہ اعلامیہ جاری کریں اور بھارت کو ڈرانے کی کوشش کریں ۔ وزارت خارجہ کے کسی ایک قابل بیوروکریٹ کو ڈپٹی وزیر خارجہ یا نمائندہ خصوصی برائے کشمیر کا اعزازی عہدہ دیا جائے جو اُن ممالک میں جا کر احتجاج ریکارڈ کروائے جہاں شاہ محمود نہیں جا سکے۔

اس کے بعد پاکستان بھارت سے فورا اپنا سفیر واپس بلائے اور پاکستان میں موجود بھارتی سفیر کو ہندوستان بھجوا دیا جائے۔ پاکستان میں ہندوستانی سفارتخانہ بند کیا جائے۔ ہندوستان سے آئے مہمانوں اور رشتہ داروں سے ملنے آئے لوگوں کو فورا بھارت واپس بھجوا دیا جائے۔ پاکستان کی ائیر سپیس بھارت کے لیے بند کر دی جائے۔ بھارت کو سبزیوں اور نمک کی سپلائی بند کر دی جائے۔ بھارت سے تمام تجارتی معاہدے ختم کر دیے جائیں اور سکیورٹی کونسل میں پاکستان بھارت کو ووٹ نہ دے۔

اس کے بعد پاکستان مضبوط وکلا کی ایک ٹیم تیار کرے۔ معاملہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں اٹھائے۔ بھارت کے اقدام کے خلاف کیس لڑے اور خوش قسمتی سے کیس جیت جائے۔ پاکستان بھارت سے کہے کہ بین الاقوامی عدالت کے فیصلے پر عمل کرے۔ بھارت یہ کہ کر انکار کر دے کہ کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ ہم عدالت کے فیصلے پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ جاؤ جو ہو سکتا ہے کر لو۔ ہم منہ لٹکائے دنیا کی طرف دیکھیں گے اور دنیا ہم سے اپنی نظریں چرا لے گی۔

اس کے بعد قومی اسمبلی، سینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے بھارت کے خلاف اور مقبوضہ کشمیر کے حق میں قرارداد منظور کروائی جائے۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور کروائی جائے۔ برطانیہ کی اسمبلی میں مسلمان بالخصوص کشمیری مسلمان نمائندوں کا ایک فورم بنایا جائے اور انھیں یہ مسئلہ ملکہ برطانیہ سمیت پوری دنیا میں اجاگر کرنے کی ہدایت کی جائے۔

پاکستان پی ٹی وی انگلش میں بہتری لائے۔ وہاں قابل نیوز اینکرز اور نیوز کاسٹرز کو بٹھایا جائے۔ جو بہترین انگریزی بول کر دنیا کو مسئلہ کشمیر سمجھائیں۔ اس چینل پر کشمیر میں ہونے والے حالیہ قتل عام کی تصاویر اور ویڈیو بنا کر چلائی جائیں اور اس بات کی بھی یقین دہانی کی جائے کہ پاکستان کی نشریات کا فٹ پرنٹ پوری دنیا تک پہنچے۔

پاکستان سے شائع ہونے والے تمام انگریزی اخبارات کو ہدایات جاری کی جائیں کہ ان کا ایڈیٹوریل اور پہلا صفحہ صرف کشمیر سے متعلق ہو۔ جس میں بھارت کو شیطان بنا کر پیش کیا جائے اور کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کی جائے۔ پاکستانی اردو نیوز چینلز کو پابند کیا جائے کہ ان کے پرائم ٹائم میں روزانہ کم از کم ایک پروگرام کشمیر کے ایشو سے متعلق ہو۔ ہر نیوز بلیٹن میں کشمیر کی خبر ضرور شامل ہو۔ کشمیر کے ایشو پر بنے ہوئے ڈرامے اور ڈاکومینٹریز کو پیمرا کے ذریعے تمام چینلز میں بھجوادیا جائے۔ پیمرا تمام چینلز کو پابند کرے کہ وہ ان ڈاکومنٹریز کو مفت چلا کرکشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کا ثبوت دیں۔

پی آئی اے، ائیر بلیو اور دیگر پاکستانی ائیر لائنز میں بھارتی فلموں اور گانوں کی بجائے کشمیر کے موضوعات پر ڈاکومنٹریاں چلائی جائیں۔ تاکہ بیرون ملک سے آنے والے اور جانے والے مسافر اپنے ملکوں میں جا کر اس ایشو پر آواز اٹھا سکیں۔

تمام پاکستانی کیبلز، چینلز اور ریڈیو اسٹیسنز پر بھارتی گانوں، فلموں اور اداکاروں کے ذکر پر پابندی عائد کی جائے۔ بارڈر پر کھڑے نوجوانوں پر بھی بھارتی فلمیں دیکھنے اور گانے گنگنانے پر پابندی لگائی جائے۔ انٹرنیٹ پر کپل شرما شو سمیت تمام ہندوستانی پروگراموں کو بلاک کر دیا جائے۔ جو پاکستانی گلوکار دبئی جا کر انڈین فلموں کے لیے گانے ریکارڈ کرتے پائے جائیں انھیں پاکستان میں غدار ڈکلئر کر دیا جائے۔

یہ وہ اقدامات ہیں جو جنگ کے علاوہ اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ان اقدامات سے کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانے میں کتنی کامیابی ہو گی یہ فیصلہ میں آپ پر چھوڑے دیتا ہوں۔ فیصلہ کرنے سے پہلے یہ حقیقت ذہن نشین کر لیجیے گا کہ فلسطین کے معاملے پر بھی یہی سفارتی اقدامات اٹھائے گئے تھے اور آج فلسطین پر اسرائیل کا قانونی قبضہ ہو چکا ہے۔ جہاں تک میری رائے ہے تو یہ اقدامات وقت اور پیسہ ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ مودی سے کشمیر روایتی جنگ سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ مودی صاحب لاتوں کے بھوت ہیں باتوں سے نہیں مانیں گے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ 27 فروری کو پاکستان کے جوابی حملے کے بعد ہی مودی سرکار کی روح کو سکون ملا تھا اور انھیں دوبارہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں ہوئی تھی۔


ای پیپر