عید آزادی…
10 اگست 2019 2019-08-10

دوستو،اس بار عید الاضحی اور جشن آزادی آگے پیچھے آرہا ہے، اسی لئے باباجی نے اس بار بقرعید کو ’’ عید آزادی‘‘ کا نام دیا ہے، پاکستانیوں کے لئے یہ دونوں بڑے تہوار ہیں۔۔ بطور مسلمان بقرعید تمام مسلمانوں کے لئے ایک تہوار تو ہے ہی، لیکن بطور محب وطن پاکستانی چودہ اگست بھی ہم سب کے لئے کسی عید سے کم نہیں۔۔ آج جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو حسب روایت آپ کی چھٹی ہوگی۔کل یعنی بروز پیر ملک بھر میں عید الاضحی نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی، جب کہ اس سے اگلے روزیعنی منگل کو چودہ اگست کا جشن بھرپور انداز میں پوری قوم مل کر منائے گی۔۔اسی طرح پندرہ اگست کو بھی اس مرتبہ بھولنا نہیں، آپ تمام احباب نے پندرہ اگست کو بطور یوم سیاہ مناکر اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرنا ہے۔۔تو چلیں ’’ عید آزادی‘‘ کے حوالے سے کچھ باتیں کرلیتے ہیں۔۔

ہرسال بقرعید پر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ قربانی کسے کرنی چاہیئے؟ اس حوالے سے معروف عالم دین مولانا عبدالرزاق سکندر صاحب کا کہنا ہے کہ ۔۔قربانی کے واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقہ فطر واجب ہونے کاہے،یعنی جس عاقل،بالغ،مقیم، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں عید الاضحی کے تین دنوں میں ( یعنی دس ذوالحجہ کی صبح صادق سے لے کر بارہ ذوالحجہ کا سورج غروب ہونے تک) کسی وقت ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ضروریاتِ اصلیہ کے علاوہ اتنی مالیت کا مال (نقدی،سونا،چاندی،مال تجارت وغیرہ کامجموعہ) یا ضرورت سے زائد سامان (مثلاً ضرورت سے زائد گھر، زمین،پلاٹ، گاڑی، موبائل، کپڑے، برتن وغیرہ) ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو تو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے،اور ایسے شخص کے لیے زکوٰۃ لینا بھی جائز نہیں ہے۔ چاندی کی فی تولہ قیمت آج کل تقریباً گیارہ سو دس روپے ہے، اس حساب سے چاندی کا نصاب تقریباً اٹھاون ہزار دو سو پچھتر روپے بنتا ہے، فی تولہ چاندی کی قیمت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے، اس لیے عید قربان کے دن جو قیمت ہوگی وہی معتبر ہوگی۔حاصل یہ ہے کہ صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ ہو۔صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ ہو۔صرف نقدی ہویاصرف مال تجارت ہویاصرف ضرورت سے زائد سامان ہویاان چیزوں میں سے کوئی دو یا دو سے زیادہ ہوں توساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوں۔

ہم نے اکثر لبرل اور کافی پڑھے لکھے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ قربانی کا گوشت کھانے سے گریز کرتے ہیں۔۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ منہ بناتے ہیں۔۔حضرت ابودردارضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلعم نے فرمایا:دنیا اور جنت کے رہنے والوں کے لیے کھانوں کا سردار ’’گوشت‘‘ ہے۔(سنن ابن ماجہ،جلد دوم،کتاب الاطعم)روایات کے مطابق رسول اللہصلعم کو دستی کا گوشت بے حد مرغوب تھا۔ آپ صلعم اسے ذوق و شوق سے تناول فرماتے تھے۔ قربانی کے گوشت کے حوالے سے ہمارا اپنا مشاہدہ یہ ہے کہ اس گوشت سے انسان بیمار نہیں ہوتا، ہماری والدہ محترمہ ہائی بلڈپریشر اور کولیسٹرول کی مریضہ تھیں،ڈاکٹرز ہمیشہ انہیں گوشت کھانے سے منع کرتے تھے ،وہ پورا سال گوشت سے دور رہتی تھیں، لیکن جیسے ہی بقرعید کی صبح ہمارے گائے ذبح ہوتی تھی تو کلیجی سے لے کر باربی کیو تک وہ بہت شوق و ذوق سے قربانی کا گوشت کھاتی تھیں اور کبھی عید کے دنوں میں انہیں بیماری کا شائبہ تک نہیں ہوتا تھا۔۔

ہمارے ایک پٹواری دوست ہم سے کہنے لگے۔۔ عید قرباں پر خواہش تھی کہ فردوس اعوان جیسی گائے لوں گا،مگر منڈیوں کے حالات بتا رہے ہیں کہ پرویز خٹک جیسے بکرے پر گزارا کرنا پڑے گا۔۔باباجی فرماتے ہیں کہ۔۔اگر عید کے موقع پر آپ اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو گھر پر دعوت کے لئے مدعو کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی زوجہ ماجدہ سے اجازت لے لیجئے۔۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ۔۔آگ لگانے والی چیزوں میں تیسرے نمبر پر مٹی کا تیل، دوسرے نمبر پر پٹرول اور ۔۔ بہت مہنگا لے لیا جانور۔۔اب بھی پہلے نمبر پر ہے۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ۔۔آج بکرا اور گائے منہ چلارہے ہیں، کل ہم منہ چلارہے ہوں گے۔۔سندھ کے سائیں کہتے ہیں کہ ۔۔ سمجھ نہیں آرہا چودہ اگست کے لئے لوگ اتنی بڑی تعداد میں گائے اور بکرے کیوں خرید رہے ہیں؟؟ہمارے زمانے میں تو قومی پرچموں، بیجز کی خریداری کی جاتی تھی۔۔باباجی کا فرمان عالی شان ہے کہ ۔۔جب رشتے کے لئے کسی کے گھر جاتے ہیں تو لڑکی والے بڑی معصومیت سے بتاتے ہیں کہ۔۔ ہماری لڑکی گائے ہے گائے۔۔تو سمجھ لیجئے کہ یہ گائے ہمیشہ سینگوں والی ہی ہوتی ہے۔۔لوگ عید پر اپنے قربانی کے مویشیوںکو کبھی کبھار مہندی بھی لگاتے ہیں، باباجی فرماتے ہیں۔۔ شادی ٹائم پر کرلینی چاہیئے تاکہ مہندی ہاتھوں پر لگے نہ کہ بالوں پر۔۔ایک بکرے نے سوشل ویب سائیٹ پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ۔۔ کھانے کھوتے سیلفیاں ساڈے نال۔۔شاید بکرا لاہوریوں سے شکوہ کررہا تھا۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ اس بار سب سے مہنگی عید جہانگیر ترین کی ہے۔ 14 جانور 70، 70 کروڑ کے خرید لئے۔

ایک صاحب نے کئی گھنٹے تک منڈی میں گھومنے پھرنے کے بعد ایک بکرا پسند کرہی لیا۔۔پھر بیوپاری سے بکرے کے خاندان، اس کی نسل، شجرہ نسب پر سیرحاصل گفتگو کی،بیوپاری تمام سوالوں کے جواب سکون سے دیتا رہا، صاحب اچانک بولے، وہ تو سب ٹھیک ہے مگر بکرے کے سینگ بہت چھوٹے ہیں، جس پر بیوپاری نے تپ کر کہا، آپ نے کیا اس کے سینگ پر کپڑے لٹکانے ہیں۔۔مشتاق یوسفی فرماتے ہیں عاشق اور بکرے طبعی موت نہیں مرتے،دونوں کی قربانی ہوتی ہے۔۔کچھ بکرے بظاہر تو بہت صحت مند دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ ’’ سیریلیک‘‘بکرے ہوتے ہیں، ان کے گوشت کا کوئی فائدہ نہیں، بکرا جتنا اونچالمبا ہو، گوشت اتنا ہی ڈھیٹ اور بدمزہ ہوتا ہے۔۔عطاالحق قاسمی فرماتے ہیں۔۔ میں ایک دنبے کے پاس گیا تو پتا چلا اسے مار مار کر دنبہ بنایا گیا ہے۔۔اونٹ کو اکبرالہ آبادی مسلمان سے تشبیہہ دیتے تھے کیونکہ مسلمان کی طرح اس کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی اور مسلمان کی طرح یہ بھی صحرا کا جانور ہے۔۔ جس طرح ہر مسلمان کی پیٹھ پر عظمتِ رفتہ کا کوہان ہوتا ہے اس کی پیٹھ پر بھی ہوتا ہے۔۔جنت میں قربانی کے بکروں کا فٹبال میچ ہورہا تھا،ایک جنتی نے اس میں اپنا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کی تو دیکھا وہ گراؤنڈ سے باہر ایک اسٹول پہ بیٹھا ہے ، جنتی اس کے قریب گیا اور کہا ، تم میچ کیوں نہیں کھیل رہے، بکرے نے اسے گھورا اور پھر کہنے لگا۔۔ حضرت پہلے آپ کے گھر میں موجود فریج کے اندر رکھی میری ران تو ختم کرنے کا کہہ دوپھر ہی کھیل سکتا ہوں، یہ کہہ کر اس نے جنتی کو اپنی تین ٹانگیں دکھائیں۔۔اس لئے پلیز قربانی کاگوشت ذخیرہ نہ کیجئے،اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کریں۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ بحیثیت ایک مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ کھانے کی ناقدری سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیںتا کہ اضافی خوراک اس انسان کے پیٹ میں چلی جائے جو خالی ہے اور یہی عیدقرباں کا فلسفہ بھی ہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔کوشش کیجئے اس بار گوشت بانٹیں۔


ای پیپر