مقدمہ
10 اگست 2019 2019-08-10

کشمیریوں کا پاکستان سے رشتہ کیسا ہے اس کا احاطہ الفاظ میں کرنا تقریباًناممکن ہے۔ ذرا تصور کریں خون کی پیاسی دشمن سرزمین میں نو لاکھ فوج کی موجودگی میں موت کو سامنے دیکھتے ہوئے جو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائے اس کی محبت کو ناپنے کے لیے کوئی پیمانہ میرے پاس تو نہیں۔ اور تو اورشہادت کا رتبہ پائے تو آخری خواہش یہی ہو کہ یہی سبز ہلالی پرچم میری تربت پر لپیٹا جائے۔ بھارتی سورماو¿ں کے ظلم کے باوجود کشمیریوں کی آوازنہ دب سکی نہ دبائی جاسکی۔ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور سارے کا سارا ہے۔بھارتی حکومت کے حالیہ اقدام کے بعد یہ گونج زمانے بھر میں سنائی دے رہی ہے۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی تشہیر تو بہت ہوگئی مگر ہماری بدقسمتی کاعالم یہ ہے کے ہمسائے بدلے نہیں جاسکتے۔ مگر جب پانی سر سے گزر جائے توحکمت کا تقاضہ ہے کہ تعلقات کو حالات کی نوعیت کے مطابق پرکھا جائے۔معاملات کو نئے سرے سے دیکھا جائے کہیں آپ کے مروت اور خلوص کو ہمسائیگی کے نام پر کسی مکار اور تعصب زدہ سوچ کی نذر تو نہیں کیا جارہا۔ اور شاید72 سال بعد یہ بات ہمیں سمجھ آگئی ہے۔ پارلیمنٹ اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے اہم اجلاس کے بعد کچھ بڑے فیصلے کرلیے گئے ہیں۔ یعنی بات باتوں سے آگے بڑھ رہی ہے اور سوچ بچار کے بعد عمل شروع ہوچکا۔ بھارتی ہائی کشمیر کوواپس بھیجنے کے بعد سفارتی تعلقات محدود کردیئے گئے۔ اور اب سمجھوتاایکسپریس بند، بھارتی فلموں اور ڈراموں پر پابندی اور سب سے بڑھ کر ہرقسم کی تجارت بند کردی گئی ہے۔ یوں کہیے کہ کشمیر کی صورتحال پر پاکستان فرنٹ فٹ پر ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے ذمہ دارانہ ردعمل آرہا ہے۔ پاکستان سلامتی کونسل میں جانے کے لیے پر تول چکاہے۔ پہلی بار ہم دنیا کو بتانے جارہے ہیں کہ ہم کیا کرنے والے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے بھی سینئر صحافیوں سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھااس وقت بھارت کے ساتھ رائے عامہ کی جنگ ہے جو ہم نے ہر صورت جیتنی ہے۔ساتھ ساتھ انہوں نے Warn بھی کردیا کے مودی سرکار کی ہٹلر جیسی سوچ ہے۔دنیا کو بتائیں گے کہ مودی سرکار کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر مسلط ہوئی تو چھوڑیں گے بھی نہیں۔

میرا سوال ہے کیا واقعی ہم نے صرف رائے عامہ ہی ہموار کرنی ہے۔ اگر دنیاکو اپنے مو¿قف پر قائل بھی کرلیا تو کیا بھارت کو مجبور کیا جاسکتا ہے کہ اس نے غیر آئینی، غیر جمہوری اور جابرانہ اقدام کیے ہیں اس سے پیچھے ہٹ جائے۔ بھارت کشمیر کا جغرافیہ بدلنا چاہ رہا ہے لیکن کشمیر بنے گاپاکستان کا نعرہ لگانے والوں کو کیسے سمجھائیں کہ آرٹیکل 370 ختم کرکے بھارت نے ترکش کا آخری تیر چلا کر عملی کوشش کرلی ہے۔اس وقت مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے مگر آفرین اس کے اسیران پرجو اس جیل کو بھی جنت سمجھے ہوئے ہیں۔ نو لاکھ بھارتی فوج وہاں قابض ہے جنہوں نے 1 کروڑ 40 لاکھ کشمیریوں کو قید کیا ہوا ہے۔ مگر داد ہے کشمیریوں پر جو سنگینیوں میں بھی دو ٹوک اعلان کررہے ہیں کہ بھارت ظلم کی ہر حد چھولو، ہر حربہ آزما لو، ہر چال چل لو لیکن کشمیر کشمیریوں کا ہے اور یہ حق تم ان سے نہیں چھین سکتے۔

یقیناً تجارت کی بندش کے معاملے کو ایک بولڈ اسٹیپ کہا جاسکتا ہے ویسے توقدرتی طور پر پاکستان کا تاجر بھی متاثر ہوگا مگر بھارت کی تجارت کا بڑا حصہ پاکستان کے ساتھ ہے۔ وہاں کی تاجر کمیونٹی حالیہ انتخابات میں مودی کی حمایت میں رہی ہے۔ اگر میں اعداد و شمار دوں تو پاکستان اور بھارت کی سالانہ دو طرفہ تجارت کا حجم دو ارب بارہ کروڑ چالیس لاکھ ڈالر ہے۔پاکستان کی درآمدات کا حجم ایک ارب اسی کروڑ ڈالر ہے۔ اور پاکستان کی بھارت کے لیے برآمدات کا حجم بتیس کروڑ چالیس لاکھ ڈالر ہے۔بھارتی ہائی کمیشنر کو واپس بھیجنے کی خبر نے بھی پوری دنیا کو معاملے کی حساسیت سے اور بھارت کی لاقانونیت سے آگاہی کا موقع دیا ہے۔ سمجھوتاایکسپریس کی بندش سے بھارت کے اندر ہی ایک ری ایکشن آئے گا کہ مودی کا یہ عمل لوگوں کے رابطے بھی ختم کررہا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ سے تو کوئی توقع نہیں لیکن عالمی عدالت انصاف میںپاکستان کا کیس بہت تگڑا ہے۔ جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کے تحت اکثریت کواقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کے تحت حالیہ بھارتی اقدام کو جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔ پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ بھارت نے خود اس مسئلے کوInternationalize کردیا ہے۔

شملہ معاہدہ، ایل او سی اور میرعبداللہ معاہدہ ختم کرکے بھارت خود مہذب دنیا کی اقوام کے سامنے مجرم بن کر کھڑا ہے۔ اور تو اور بھارت کے اس اقدام کے بعد تمام کشمیری دھڑے متحد ہوگئے ہیں۔ بھارت نواز کشمیری اب پچھتا رہے ہیں کہ کئی دہائیوں پہلے بھارت کو عزت دینے کا فیصلہ غلط تھا۔پاک فوج کو الرٹ رہنے کا حکم تو جاری کردیا گیا ہے لیکن اس سے پہلے دنیاکو یہ باور کروانا ہوگا کہ بھارت کا غیر قانونی اقدام علاقائی امن اورسکیورٹی کے لیے سنگین خطرے کا باعث بنے گا۔ تازہ تازہ بنے دوست ڈونلڈٹرمپ کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ افغانستان میں حاصل پسپائی کے باوجوداگر آپ واپسی کے لیے پاکستان سے ریڈ کارپٹ کی امید رکھ رہے ہیں توکشمیریوں کا خون تو بہت ہی سرخ ہے۔ براہ مہربانی اپنی آفر پر پیش رفت کاآغاز بھی کردیں۔ آج نہیں تو کل کرفیو ختم ہونا ہی ہے۔ اس وقت دنیا کو پتہ چل جائے گا کہ کشمیریوں پر ڈھائے گئے اس ظلم کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔ناعاقبت نا اندیش بھارت خود اپنے پیدا کردہ بھنور میں پھنس گیا ہے۔


ای پیپر