ہر کمال را زوال۔۔۔!
10 اگست 2018 2018-08-10

35سال یقیناًایک طویل عرصہ ہوتا ہے۔ اس دوران قومی سیاست میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھنا اور لگاتار 8بار قومی اسمبلی کا رُکن منتخب ہونا یقیناًایک ایسا اعزاز ہے جو موجودہ قومی اسمبلی میں اگر کسی رُکن کو حاصل نہیں ہے تو اِس سے قبل مئی 2013کے عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی قومی اسمبلی میں بھی یہ اعزاز سوائے چوہدری نثار علی خان کے کسی اور رُکنِ اسمبلی کو حاصل نہیں تھا۔ یقیناًیہ چوہدری نثار علی خان ہی تھے جو 1985کے عام انتخابات سے لے کر مئی 2013تک منعقد ہونے والے 8عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رُکن ہی منتخب نہیں ہوتے رہے بلکہ اس کے ساتھ کئی بار صوبائی اسمبلی کا انتخاب جیتنے میں بھی کامیاب رہے۔ 2008کے عام انتخابات میں جہاں اُنہوں نے قومی اسمبلی کے 2حلقوں NA-52اور NA-53(موجودہ NA-59اور NA-63) سے کامیابی حاصل کی تو 2013کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست جیتنے کے ساتھ آزاد حیثیت سے (گائے کے نشان پر) صوبائی اسمبلی کی نشست بھی جیتنے میں کامیاب رہے لیکن ہر کمال را زوال کے مصداق 25جولائی 2018کو منعقد ہونے والے عام انتخابات میں انہیں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ قومی اسمبلی کے دو حلقوںNA-59اور NA-63سے ہی ناکامی سے دوچار نہیں ہوئے بلکہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ PP-12سے بھی ناکامی اُن کا مقدر بنی تاہم PP-10سے وہ تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ن کے ٹکٹ یافتہ اُمیدواروں سمیت آزادحیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے والے اپنے حریفوں کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔
سابق وفاقی وزیرداخلہ اور مسلم لیگ ن کے اہم راہنما (سابقہ؟) چوہدری نثار علی خان کے بارے میں یہ سطور لکھتے ہوئے مجھے خیال آرہا ہے کہ میں نے چوہدری نثار علی خان کے بارے میں بے شمار کالم لکھے ہیں۔ پچھلے 4/5برسوں میں روزنامہ’’ نئی بات‘‘میں اُن کے بارے میں میرے کم و بیش درجن بھر سے زائد کالم چھپے ہونگے جن میں میَں نے اُن کی شخصیت کے نمایاں پہلوؤں کے ساتھ میاں محمد نواز شریف کی حکومت کے اہم رُکن او ربطور وفاقی وزیر داخلہ اُن کی کارکردگی کو گاہے گاہے زیر بحث ہی نہیں لایا بلکہ اُن کے ساتھ اُن کے ہمدمِ دیرینہ اور اپنی جماعت کے قائد اور حکومت کے سربراہ میاں نواز شریف سے اُن کے تعلقات میں دَر آنے والی سرد مہری جو بتدریج گہرے اختلافات اور ایک دوسرے سے دُوری کا رُوپ دھار گئی کا بھی تذکرہ کرتا رہا لیکن سچی بات ہے میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ چوہدری نثار علی خان کی جولائی 2018کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے 2حلقوںNA-59اور NA-63میں اپنے دیرینہ حریف تحریکِ انصاف کے اُمیدوار سرور خان کے مقابلے میں شکست سے دو چار ہونے اور اُس کے ساتھ صوبائی اسمبلی کے حلقے PP-12سے بھی تحریک انصاف کے کم معروف نوجوان اُمیدوار واثق قیوم عباسی کے مقابلے میں ناکامی کا داغ سہنے پر مجھے چوہدری نثار علی خان کی شکست کا نوحہ لکھنا پڑے گا۔ یقیناًبہت سارے لوگوں کی طرح میرا بھی خیال رہا ہے کہ چوہدری نثار علی خان کسی حد تک ناقابلِ شکست ہیں اور اُنہیں انتخابات میں ہرانا ناممکن نہیں ہے تو انتہائی مشکل بلکہ ناممکن کے قریب تر ہے۔ لیکن آسمانی فیصلوں کو کون روک سکتا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کریم کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے ’’اَے اللہ مالک الملک تُو جسے مُلک دے اور جس سے چاہے مُلک چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذِلت دے تیرے ہاتھ میں تمام بھلائی ہے۔ بے شک تُو ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔ مطلب یہ کہ فتح اور شکست یا کامیابی اور ناکامی یا عزت اور ذِلت جو بھی سامنے آئی ہے ایسا ہونا ہی تھا کہ اَمر ربی سے مفر ممکن نہیں اَور سماوی فیصلے ہو کر رہتے ہیں۔ تاہم انسانوں کا ،اُن کے عمال و افعال کا، اُن کے اندازِ فکر و نظر کا، اُن کی سوچ اور نقطہ نظر کا اور برسرِ زمین حقائق کا بھی عمل دخل اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ چوہدری نثار علی خان کی 1985سے اب تک کی سیاسی زِندگی کے شب و روز میری نگاہوں کے سامنے موجود ہیں۔ اس لئے کہ میرا آبائی گاؤں چونترہ اُن کے قومی اسمبلی کے موجودہ حلقےNA-59 (اس سے قبل NA-52اور اُس سے بھی قبل NA-40) اور صوبائی اسمبلی کے حلقے PP-10( اس سے قبل PP-6)کا ایک اہم قصبہ یا تھانہ ہی نہیں ہے بلکہ چوہدری نثار علی خان سمیت پورے تھانہ چونترہ کے باسی اپنا تعارف چونترہ والوں (چونترہ کے رہنے والوں) کے طور پر کراتے ہیں۔ اس سیاق و سباق میں اگر میں یہ کہوں کہ مجھے چوہدری نثار علی خان کی شخصیت پر اثر انداز ہونے والے عوامل جن میں اُن کے مخصوص خاندانی اور علاقائی پس منظر ، اُن کو ورثے میں ملنے والی عادات و خصائل، تھانہ چونترہ کے مخصوص پارٹی بازی کے ماحول اور ہٹ دھرمی کے روایتی کلچر (جسے مقامی زبان میں ’’ہوڑ‘‘کہا جاتا ہے اور جس کا مطلب ضد، ہٹ دھرمی اور کچھ اَنا پرستی لیا جا سکتا ہے) کا کچھ نہ کچھ ادراک ہے تو یہ کچھ ایسا غلط نہیں ہوگا۔ یقیناًچوہدری نثار علی خان کے عروج و زوال میں اِن عوامل کا کچھ نہ کچھ عمل دخل موجود ہے۔ چوہدری نثار علی خان 1985کے عام انتخابات میں جو غیر جماعتی بنیادوں پر لڑے گئے سیاست کے قومی اُفق پر پہلی بار سامنے آئے۔ اُنہوں نے اِن انتخابات میں ضلع راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے حلقہ NA-40(جو بعد میں NA-52اور NA-53اور اَب NA-59اور NA-63میں منعقسم ہو چکا ہے )سے کامیابی حاصل کی۔ اس سے قبل وہ جنرل ضیا الحق کی نامزد کردہ مجلسِ شوریٰ کے رُکن اور ضلع کونسل راولپنڈی کے منتخب رُکن بھی رہ چکے تھے۔ صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی اگست 1988میں طیارے کے حادثے میں شہادت کے بعد نومبر1988میں منعقدہ عام انتخابات اور اُس کے بعد 1990، 1993اور 1997کے عام انتخابات میں وہ اپنی مقبولیت کی بلندیوں پر رہے۔ 1990میں میاں محمد نواز شریف کی پہلی وزارتِ عظمیٰ کے دوران وہ وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل کے ساتھ وزیر اعظم کے معتمدِ خاص کے طور پر ایک لحاظ سے ویزاعظم میاں نواز شریف کے اختیارات بھی استعمال کرتے۔ 1997میں میاں محمد نوازشریف نے دوبارہ وزارتِ عظمیٰ کا منسب سنبھالا تو اِقتدارواختیار میں اُن کی پہلی سی حیثیت برقرار رہی۔ اکتوبر 1999میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نوازشریف کی آئینی کو برطرف کر اِقتدار پر غاسبانہ قبضہ جمایا تو چوہدری نثار کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ اُن کی نظر بندی کہیں 2001میں جا کر ختم ہوئی۔ اکتوبر2002کے عام انتخابات میں وہ مسلم لیگ ن کے لئے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود قومی اسمبلی کے حلقہ NA-52سے
کامیاب رہے اور پرویز مشرف کی صدارت کے دوران قومی اسمبلی سمیت سیاست کے دیگر ایوانوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ فروری 2008کے عام انتخابات میں چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں NA-52اور NA-53(موجودہ NA-59اور NA-63) سے کامیابی حاصل کی تھی۔ NA-53سے انہوں نے اپنے دیرینہ حریف سرور خان کو شکست سے دو چار کیا۔ مرکز میں پیپلز پارٹی نے حکومت بنائی تو یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں دوسرے مسلم لیگی وزراء کے ساتھ چوہدری نثار علی خان بھی بطور سینئر وفاقی وزیر شامل تھے۔ جب مسلم لیگ ن نے وزارتوں کو خیر باد کہا تو چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب ہی نہیں سنبھالا بلکہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیے اور مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
مئی 2013کے عام انتخابات میں چوہدری نثار علی خان NA-52(موجودہNA-59)سے جہاں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے وہاں NA-53 (موجودہNA-63) سے انہیں سرور خان کے مقابلے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ میاں محمد نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بنے تو چوہدری نثار علی خان نے وفاقی وزیر داخلہ کا منصب سنبھالا لیکن وفاقی کابینہ میں اب وہ اکیلے ہی فیصلہ کن حیثیت کے حامل نہیں تھے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر پانی و بجلی (بعد میں اُنہیں وزیر دفاع بھی بنا دیا گیا) خواجہ آصف کے ساتھ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید اور وزیر اعظم کے غیر سیاسی مشیر محترم عرفان صدیقی وغیرہ بھی اہم حیثیت حاصل کیے ہوئے تھے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کا میڈیا سیل یا تھنک ٹینک بھی بروئے کار تھا۔ یہاں سے چوہدری نثار علی خان کے لئے ایک نئی صورتِ حال نے جنم لیا۔جس نے میاں محمد نواز شریف اور اُن کے درمیان اختلافات کی خلیج کو بتدریج گہرا کیا۔وقت گزرنے کے ساتھ میاں محمد نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان جو دُوری پیدا ہوئی اور دِلوں میں جو میل پیدا ہوا وہ بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ جولائی 2017میں سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کو عوامی نمائندگی کے لئے تا حیات نااہل قرار دیا تو مسلم لیگ ن کے اندازِ سیاست نے ایک نیا رُخ اختیار کیا۔ میاں محمد نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی کھلم کھلا ریاست کے دائمی اِداروں (عدلیہ اور فوج) پر نکتہ چینی کرنے اور ایک لحاظ سے اُن کے ساتھ ٹکراؤ اور اُن کی مخالفت کی پالیسی پر گامزن ہوئے تو چوہدری نثار علی خان اس پالیسی کے ناقد کے طور پر سامنے آئے۔ اس طرح میاں محمد نواز شریف سے اُن کی دُروی میں اَور اضافہ ہو گیا۔ اس کے بعد جولائی 2018کے عام انتخابات میں انہیں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہ ملنا اور اُن کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ یافتہ اُمیدواروں کا انتخابات میں حصہ لینا کوئی پُرانی بات نہیں۔ اس کا لامحالہ نتیجہ چوہدری نثار علی خان کی شکست کی صورت میں سامنے آنا تھا جو آکر رہا۔
چوہدری نثار علی خان کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ بلا شبہ اُن کا ذاتی ووٹ بینک ضرور ہے لیکن سرور خان جیسے مضبوط اُمیدوار کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے پارٹی کے ووٹ بینک کی چھتری بھی اُتنی ہی ضروری ہے ۔کالم میں اتنی گنجائش نہیں کہ میں چوہدری نثار علی خان کی ناکامی یا اُن کے زوال (خواہ وقتی ہی سہی) کی کچھ اَور وجوہات پر روشنی ڈالتا لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ اہلیانِ چونترہ کی روایتی ہٹ دھرمی’’ہوڑ‘‘ جسے چوہدری نثار علی خان خودبھی تسلیم کرتے ہیں نے اُن کی انتخابات میں ناکامی اور مسلم لیگ ن میں اُن کے مقام و مرتبے میں بتدریج زوال میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔اس کے ساتھ اُن کے محدود حلقہء مشاورت اور عام لوگوں سے میل ملاپ میں کمی نے بھی اس میں اپنا حصہ ضرور ڈالا ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے صوبائی اسمبلی کی نشست پر حلف نہ اُٹھانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ مزید وہ کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں جلد ہی سامنے آجائے گا۔ لیکن اتنی بات طے ہے کہ ایک بار جب کوئی دوڑ یا مقابلے سے باہر ہو جائے تو دوبارہ واپسی کے لئے اُسے شدید محنت ہی نہیں کرنی پڑتی بلکہ الف ب سے اپنا سلسلہ شروع کرنا پڑتا ہے۔ مجھے خوشی ہوگی کہ وہ ایک بار پھر پورے تزک و احتشام کے ساتھ سامنے آئیں کہ وہ مجھے اپنا ’’سکا‘‘ (سگھا) سمجھتے ہیں لیکن وہ کیسے سامنے آئیں یہ ملاقات ہو تو میں انہیں بتاؤں۔


ای پیپر