حکومت سازی کا جمہوری عمل آگے بڑھ رہا ہے
10 اگست 2018 2018-08-10

مژدہ ہو کہ احتجاجی سیاست کے شور و غل میں صدرمملکت ممنون حسین نے نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس پرسوں 13 اگست پیر کو طلب کرنے کی سفارش منظور کر لی ہے ۔ یہ سفارش نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے کی تھی۔صدر سے درخواست کی گئی کہ قومی اسمبلی کا اجلاس پرسوں 13 اگست کو طلب کیا جائے تاکہ نو منتخب ارکان حلف اٹھا سکیں۔ 13 اگست کو اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کریں گے۔ وہ ایوان زیریں کے نومنتخب ارکان سے حلف لیں گے۔ ارکان سے حلف لینے کے بعد سردار ایاز صادق رکنیت کا حلف اٹھائیں گے۔ ایوان کا سینئر رکن ان سے حلف لے گا۔ سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے سپیکر کا انتخاب ہوگا۔ بعد ازاں نو منتخب سپیکر کی نگرانی میں ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد نو منتخب سپیکر کی طرف سے قائد ایوان (وزیر اعظم) کے انتخاب کا اعلان کیا جائے گا۔ وزیراعظم کا انتخاب 15 اگست کے بعد متوقع ہے کیونکہ اس کے لیے اجلاس برخاست کرنا ضروری ہے تاکہ امیدوار کاغذات نامزدگی حاصل اور جمع کروا سکیں، اس کے لیے مناسب وقت کا متعین کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ طلب کیا جائے گا اور خفیہ را ئے شماری کی بنیاد پر وزیر اعظم کا انتخاب ہوگا۔ نگران حکومت نے آئندہ وزیر اعظم کے قوم سے خطاب کے حوالے سے وزارت اطلاعات ونشریات کے ذیلی اداروں پاکستان ٹیلیویڑن اورپاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن میں موجود سٹوڈیوزکو اپ گریڈ کرنے سمیت دیگر ممکنہ انتظامات کیلئے متعلقہ اداروں کو خصوصی ہدایات جاری کردی ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق نامزد وزیراعظم اپنے انتخاب اور کابینہ کی حلف برداری کے بعد اپنی حکومتی پالیسی کے حوالے سے قوم سے خطاب کریں گے جسے اندرون اور بیرون مملک براہ راست نشر کرنے کے لیے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے نیوز سٹوڈیوز کو اپ گریڈ کرنے کے لیے وزارت اطلاعات کی جانب سے ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔ سٹوڈیوز میں پاکستانی پرچم اور عقب میں قائداعظم محمد علی جناح کی تصاویر نصب کی جائیں گی۔
ادھر تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بی این پی (مینگل) کی حمایت کے بعد قومی اسمبلی میں نمبر 180 کو کراس کر گیا۔ 342 کے ایوان میں حتمی اکثریت کیلئے 172 ارکان کی حمایت درکار تھی۔ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ہم صدر مملکت ممنون حسین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایک دن کے لیے اپنا غیرملکی دورہ مو خر کردیں تاکہ عمران خان وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا سکیں ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ عمران خان جلداز جلد حلف اٹھائیں اور الیکشن کمشن کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن
جاری کرے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی پر احتجاج کرنا ان کا جمہوری حق ہے تاہم ہماری حکومت کوشش کرے گی کہ اقتدار میں آکر اپوزیشن کے ساتھ مل کر انتخابی اصلاحات کو یقینی بنائیں تاکہ آئندہ انتخابات میں سقم کی گنجائش کم ہو، دھاندلی سے متعلق اپوزیشن جماعت کی شکایت پر بھرپور قانونی مدد فراہم کریں گے تاہم حلقے کھلوانا اور دوبارہ گنتی کرانا الیکشن کمشن کا کام ہے ، ہمیں خوشی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں حلف اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اان کا یہ کہنا محل نظر ہے کہ ’الیکشن کمیشن کے قواعد بہت پرانے ہو چکے ہیں جس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔ ا بتایا جا رہا ہے کہ گورنر خیبرپی کے اقبال ظفر جھگڑا نے کے پی کے اسمبلی کا اجلاس 13 اگست بروز پیر کو 10بجے طلب کرلیا ہے ۔ اجلاس میں صوبائی اسمبلی کے نو منتخب ممبران حلف لیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق 13 اگست کو اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب بھی ہوگا۔ اجلاس میں نو منتخب سپیکر سے موجودہ سپیکر اسد قیصر حلف لیں گے۔ اسی دوران بلوچستان عوامی پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں نے جام کمال خان کو وزیراعلیٰ بلوچستان کے عہدے کیلئے نامزد کر دیا ہے ۔ سابق وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو متفقہ طور پر سپیکر کے عہدے کیلئے نامزد کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے اجلاس میں اے این پی، پی ٹی آئی، ایچ ڈی پی، جمہوری وطن پارٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پر جام کمال نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کا مینڈیٹ دینے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ حکومت میں آ کر بلوچستان کے مسائل حل کریں گے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کئے جانے کے بعد پارلیمنٹ ہا ؤس کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ اجلاس کے پہلے روز سکیورٹی کے خصوصی انتظامات ہوں گے۔ قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی سکیورٹی کیلئے خصوصی پلان وضع کرلیا گیا ہے ۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے اردگرد کے علاقے میں گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے ۔ سکیورٹی معاملات پر مشاورت کیلئے سیکرٹری قومی اسمبلی سے ایس ایس پی سکیورٹی اور سپیشل برانچ کے اعلی حکام نے ملاقات کی اور پارلیمنٹ ہاؤس کی مختلف جگہوں کی سکیورٹی کے انتظامات اور متعلقہ اداروں سے معاونت کے معاملے پر غور و فکر کیا چکا ہے ۔
ادھر یہ سب تیاریاں ہو رہی ہیں اور ادھر اپوزیشن کااحتجاج جاری ہے ۔ واضح رہے کہ تین روز قبل اسلام آباد میں اپوزیش کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی شو خلاف توقع شرکت کے لحاظ سے ایک انتہائی کمزور اور پھیکا شو تھا۔ بعض مبصرین تو اسے ایک فلاپ شو قرار دے رہے ہیں۔ اس دو گھنٹے کے مختصر احتجاجی جلسے میں بعض رہنماؤں کی جانب سے جو تقاریر کی گئیں ، اُن میں ریاستی ادارے عدالت عظمیٰ اور پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی محافظ افواج کے خلاف بھی غیر محتاط زبان استعمال کی گئی۔ اس بد احتیاطی پر عوامی حلقے سوشل میڈیا پر اپوزیشن رہنماؤں پر تنقید کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کے مطابق اس احتجاجی جلسے میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی گئی۔ اس زبان سے ملتے جلتے نعرے بھی لگائے گئے۔ تازہ اطلاع کے مطابق چیف جسٹس کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے والوں اسلام آباد تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی شناخت کے بعد گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے ۔ یہ درست ہے اپوزیشن کو انتخابی نتائج پر شکایات اور تحفظات ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ریاستی اور آئینی اداروں کی بھی توہین کریں۔ مقام حیرت ہے کہ اسے متحدہ اپوزیشن کا احتجاجی شو قرار دیا گیا تھا لیکن اس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد شہباز شریف، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، کو چیئرمین آصف علی زرداری، امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور اے این پی کے قائد اسفند یار ولی خان نے سرے سے شرکت نہیں کی۔ البتہ اس جلسے کے شرکاء میں اکثریت جے یو آئی ایف کے دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے طالب علموں اور اے این پی کے کارکنوں کی تھی۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے محض حاضری لگانے کے لیے شرکت کی۔ بعد ازاں بتایا گیا کہ میاں محمد شہباز شریف خراب موسم کے باعث اس اولین مظاہرے میں شرکت نہیں کر سکے۔ پرسوں اڈیالہ جیل میں میاں محمد نوا زشریف سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن بنایا جائے، نواز شریف انتشار کی سیاست نہیں چاہتے‘۔ یہ سچ اپوزیشن رہنماؤں کے لیے قابل قبول ہو یا وہ اسے مسترد کر دیں یہ ان کا جمہوری حق ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دھاندلی زدہ الیکشن کے حوالے سے بھرپور احتجاج کے لیے انہوں نے جو بلند بانگ دعوے کیے تھے، وہ زمین پر اس طرح سے دکھائی دیئے نہ سنائی دیئے۔
ایک عام پاکستانی رائے دہندہ کی حیثیت سے میرا مشورہ کہ اپوزیشن صبر و تحمل سے کام لے اور جمہوری پارلیمانی اقدار و روایات کو شائستگی کے ساتھ آگے بڑھائے۔ اب جبکہ حکومت سازی کا عمل شروع ہونے جا رہا ہے اپوزیشن کو سنجیدگی سے اپنی صف بندی کرنا چاہیے اور منظم اور مربوط انداز میں اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے مہذب انداز اختیار کرنا چاہیے۔ اپوزیشن رہنما بھی میرے نزدیک قابل عزت ہیں لیکن ان کی عزت میں اس وقت مزید اضافہ ہو گا جب وہ ملک کو انتشار، تصادم اور ٹکراؤ کی سیاست کی جانب لے جانے کی بجائے مفاہمت کاراستہ اختیار کریں گے۔


ای پیپر