جبر کے بندھن اور حقیقت کے تقاضے
10 اگست 2018 2018-08-10

دیہاتی معاشرت میں کھیت سے جانو ر اور ٹریکٹر گزارنے اور پانی لگانے یااس کی گزر گاہ کے حوالے سے جھگڑا عام سی بات ہے۔ یہ جھگڑا عام طور پر پڑوسیوں اور ایک دادا پردادا کی اولاد میں ہوتا ہے جو بڑوں کی وفات کے بعد رقبے کے وارث بن جاتے ہیں۔ بڑے باپ دادا کے نام اور زمین سے وابستہ انا زمیں کا چھوٹا ٹکڑا کم آمدنی اور زیادہ ضروریات اور شریکا ان لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیتا ہے۔ حسب موقع تو تکار ، گالی گلوچ اور ڈانگ سوٹا ان کے معمولات میں ہوتا ہے۔ تھانے کچہریا ں ، وکلاء کے چیمبرمیرے عزیزوں کے اس رویے کی وجہ سے آباد ہیں۔جیب میں پیسے کم ہوں فصل دور ہو تو یہ لوگ لڑنے میں دیر اور صلح میں جلدی کرتے ہیں ۔ لیکن فصل اچھی اور زیادہ آمدنی کی توقع ہو توؒ لڑائی میں جلدی اور خرچ میں وسعت آجاتی ہے۔ شدیدسردی اور دھند کے دنوں میں گندم کی فصل کو پانی لگاتے ہوئے دو خاندانوں میں تنازعہ ہو گیا۔ دونوں جھگڑنے والوں کے مامے ، پھوپی چاچے کے بیٹے بھی اپنوں کی حمایت میں میدان میں کود پڑے ۔ ایک پارٹی تھانے پہنچی۔ پولیس آئی پرچہ درج ہوا ۔۔۔دونوں پارٹیوں کے دس ، بارہ بارہ افراد کو لے جا کر تھانے میں بند کر دیا۔ گرفتار ہو کر تھانے پہنچنے والے سارے جوان چونکہ کھیت سے تھانے پہنچے تھے لہذا کوئی بنیان میں ملبوس تھا تو کوئی دھوتی میں۔ ۔۔ اتفاق سے تین چار لوگ اپنا کھیس لوئی ساتھ لائے تھے۔ٹوٹی کھڑکیوں اور روشن دانوں والے اس کمرے سے گزرنے والی سرد ہوا کی وجہ سے بیس سے زائد لوگوں کی موجودگی نے کمرے کے درجہ حرارت میں کوئی اضافہ نہ کیا۔ کچھ وقت گزرا تو سردی کے جبر نے سارے لڑ کر آنیوالوں کو چار کھیسوں میں سمٹ جانے پر یوں مجبور کر دیا کہ اب کسی کو یہ بھی یا د نہ تھا کہ وہ کس کی جانب سے لڑا تھا۔ رات دس بجے کے قریب سردی میں کانپتا بارش میں بھیگا مشترکہ ماما جب سب کے پیچے آیا ٹار چ لگا کر سب کو چار چادروں میں سمٹے د یکھ کر جس لہجے میں بولا ۔۔۔۔ لکھا تو نہیں جا سکتا۔
اگرچہ اس کی کوئی وجہ تو نہیں لیکن نہ جانے کیوں جب خرقہ، جبہ دستار ہار اور جھنڈہ پہننے والوں کی تصاویر ٹی وی اور اخبارات میں دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ جنوبی پنجاب کی اس پولیس چوکی کا منظر اسلام آباد میں ایازصادق کی رہائش گاہ اور بنی گالا میں دہرایا جا رہا ہے۔ ایک تصویر میں جناب سعد رفیق اور کائرہ صاحب ساتھ بیٹھے ہیں ۔دونوں کو ساتھ دیکھ کر وہ طعنے یاد آتے ہیں جو ا یک د وسرے کو دئیے جاتے رہے۔ کائرہ صاحب کی جب اردو میں تسلی نہ
ہوتیء تو وہ مور اوور کا سہارا لیکر پنجابی میں اپنی تسلی کرتے۔ میاں شہباز شریف ہوں یا زرداری صاحب چینلز سب کے کے ماضی و حال کے کلپس دکھا رہے ہیں۔ جس کے بعد ناظرین کے لئے یہ اندازہ لگانا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ یہ مجلسی تبسم جبر کے بندھن کے سوا کچھ نہیں ہے۔ دھاندلی کی شکایت نہ تو بلا سبب ہے نہ غیر اخلاقی اور غیر جمہوری لیکن ماضی کے اور انتخابی دور کے الزامات اور بیان دہرا دہرا کر اس احتجاج کو باقاعدہ تبرّ ا بازی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ یہ اکٹھ جہد بقا کا حصہ ہے۔ یہ لوگ اس بات کو جانتے اور سمجھتے ہیں کہ اگر وہ خاموش بیٹھ گئے تو تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو جائیں گے۔ اس کے بعد ز ندگی کیلئے اس وقت کا انتظار ہو گا جب کوئی قم باذن اللہ پڑھ کراُٹھائے گا۔
جو لوگ آج عمران خان کے گرد جمع ہو رہے ہیں اُن میں وہ بھی ہیں جنہیں مقام چپڑاسی میسر نہ تھا۔ وہ بھی بلائے گئے ہین جو سب سے بڑے ڈاکو کہے جاتے تھے قاتل خونی اور بھتہ خور بھی دستار فضیلت سے سجئے جا چکے ہیں۔ جب ٹی وی پہ چلنے والے کلپس دونوں طرف سے دیکھے جاتے ہوں گے تو کیا محسوس ہوتا ہوگا ! جی سب جبر کا بندھن ہے۔ ایک طرف گنتی پوری کرنے کا تقا ضا ہے تو دوسری طرف سیاسی خلا میں اپنی جگہ بنانے اور کمزور نظام میں ماضی ،حال ، اور مستقبل کے خاکوں مین رنگ بھرنے کی خواہش! موجودہ حالات میں شمار پورا کرنا مشکل کیوں ہو گیا یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی۔ انتخابات 2003 کے موقع پر انتخابی مہم کے دورا ن ہی مجھے کچھ دوستوں نے بتایا کہ چوہدری پرویز الہی وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ یہ بھی بتایا کہ آپ کے ایم پی اے میاں خادم حسین کو وزارت اوقاف مذہبی امور ملے گی۔ میں نے یہ بات میاں صاحب کو بتائی ۔ پھر وہ ذریعہ کا پوچھنے لگے ۔ میں انہیں ذریعہ کا تو نہ بتا سکا لیکن اُن کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ا نہوں نے تقاریر میں ووٹ مانگنا موقوف کردیا ۔ بہت سے لوگوں کو یاد ہو گا کہ وہ انتخابی جلسے میں نماذ اور اخلاق حسنہ کی تاکید کرتے ! 1990 کے سیاسی ڈھا نچے کے معمار تو بعد میں بھی اپنے کام پر فٖخر کرتے رہے اگرچہ فائدہ اُٹھانے والے تردید کرنے لگے۔
وقت موجود اپوزیشن کے پاس دھاندلی کا چورن بھی ہے، سوال بقا بھی خوف احتساب وسزا بھی۔۔۔ یہ سیمنٹ خان مخالف افراد کو کافی اکٹھا رکھ سکتا ہے۔ ہو سکتا احتساب کے عمل میں آنے والی تیزی رد عمل ذاتی ناراضگی کو پیچھے کر دے۔ دوسری طرف دھاندلی اور پھر کرپشن کے الزامات آ لودہ چند منہ زور حمایتیوں کے بھروسے اور مدد پہ قائم نظام حکومت ! ان حالات میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ وقت گزرتا رہے۔۔ کشا کش چلتی رہے مسائل حل کرنے کی فرصت اور نوبت یہ نہ آئے۔۔۔ یہ ماحول منہ زور اتحاد یوں کے لئے بھی راس ہو گا۔
اس پس منظر میں دونوں جانب موجود قومی قیادت سے گزارش ہے کہ جس طرح جبر کے بندھن کو قبول کیا گیا ہے اسی طرح وقت حالات اور حقیقت کے تقاضوں کو بھی سامنے رکھا جائے۔ اس ضمن میں چند اہم چیزیں باہمی تعاون یا ان پر کم ا زکم خاموشی معیشت ، سیاست اور جمہوریت سب کو لاحق خدشات کم کر سکتی ہیں۔
*اپوزیشن نے جس طرح اسمبلی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے اسی طرح نئی حکومت کے حق حکمرانی کا کا احترام کرے۔ صرف اتنا نہیں قوم کا اندرونی بیرونی اور گردشی قرض، پی آئی اے ، ریلوے ، سٹیل مل کرنسی کی قدر کا مسئلہ ان پر سیاست نہ کی جائے۔ ان امور پر معاونت ، مشاورت اور مفاہمت پیدا کی جائے۔
* احتساب اورکرپشن قومی سیاست کے بہت حساس معاملے ہیں ۔ یہ پہلے ہی سیاست کا شکار ہو چکے ہیں ۔ یہ بات بے سبب بھی نہیں ہے۔ پھر یہ بات خان صاحب کی حکومت کا بنیادی نقطہ ہے۔ اس راہ پر مشکلات تو یقیناًبہت زیادہ ہیں ۔ پھر بھی راستہ تو بنانا ہے۔ کرپشن او راحتسا ب کے عمل کو مکمل غیر جانبدار اور غیر سیاسی بنا یا جائے۔ اس پر بڑی مشاورت کی جائے۔ جن افسران کو خصوصاً پنجاب میں گرفتار کیا جاتا ہے ان کی گرفتاری کو مخالفین کو گریبان پکڑنے کے تاثر سے سا منے لایا جاتا ہے۔ کرپشن افسروں نے بھی کی ہے اور سیاستدانوں نے بھی !لہذا افراد کو نہیں مقصد کو ہدف بنایا جائے۔
* عدالتی ، انتظامی ، بلدیاتی خدمات ، پانی کی فراہمی، صحت کی خدمات یہ سب نامکمل قومی ایجنڈا ہے۔ اسے سیاسی نہیں قومی اور وقت کے نافذ کردہ ایجنڈے کے طور پر قبول کیا جائے۔ ماضی کی حکومتیں ایک احساس ندامت کے ساتھ اسے نافذ کرنے میں تعاون کریں۔ حکومت وقت اس کے لئے حالات ا ور ماحول فراہم کرے۔
* سی پیک ہمارا قومی منصوبہ اور قومی ترجیح ہے۔ اس کے حوالے سے شکوک و شبہات کے لئے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ اس کی حمایت میں ایک قومی امنگوں کی ترجمان قرار داد پاس کرے۔ اس منصوبے کی نگہبانی کے لئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نگران بنائی جائے۔ ایسا کرتے ہوئے ماضی کے عمل اور ردعمل کو بنیاد بنانے کی بجائے اچھے مستقبل پر نظر ہو۔
* عمران خان صاحب نے جیتنے کے بعدجس زیتون کی شاخ کو پکڑا اور پیش کیا تھا وہ اُ سے بدستور تھامے رہیں۔ اس راستے کے مشکل مقامات کو نظر انداز کرتے رہیں ۔


ای پیپر