بنگلہ نمبر 22 سے مولانا فضل الرحمن کی رخصتی ۔۔۔؟؟
10 اگست 2018 2018-08-10

مجھے جو چند اشعار بے حد پسند آئے اور جو خود بخود میرے حافظے میں محفوظ بھی ہو گئے ۔۔۔ اُن میں سے چند ایک ملاحظہ کریں ۔۔۔؂
دوستوں سے بچھڑ کے یہ حقیقت کھلی فراز
’’گرچہ ڈرامے باز تھے مگر رونق اُنہی سے تھی‘‘
جب توڑ لیا رشتہ تیری زلفِ وفا سے
سو بار یہ بل کھاتی پھرے اپنی بلا سے
ظلم بچے جَنّ رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہئے
ہمارے درمیاں بے سود دیوار قدرت ہے
تجھے میری ضرورت ہے مجھے تیری ضرورت ہے
پھر یہ دو اشعار جو ہمیں ہمارے پیارے صنوبر خان نے سنائے یہ تو ہمیں پسند بھی ہیں اور ان کا پشتو ترجمہ بھی ہمیں یاد ہے ۔۔۔
جو مزا نسوار میں ہے
نہ موٹر میں نہ کار میں ہے
پھر یہ دیکھئے ۔۔۔؂
جو مزہ ادھار میں ہے
کسی بزنس نہ کاروبار میں ہے
مغل خاندان کا چشم و چراغ ہونے کے ناطے ہمیں بھی خواہش ہوئی ۔۔۔ ہم بھی کیوں ’’نہ کسی‘‘ کی یاد میں ’’تاج محل‘‘ تعمیر کرائیں ۔۔۔ کس کی یاد میں؟ ۔۔۔ ہمت کر کے ہم نے ’’کسی‘‘ سے پوچھا کہ حضور اگر آپ پسند فرمائیں تو ہم آپ کی لافانی محبت کی یاد میں ایک عدد ’’تاج محل‘‘ تعمیر کرا ڈالیں ۔۔۔’’آپ کو نرس سے ہیروئین بنا ڈالیں‘‘ ۔۔۔ آخری فقرہ اُنھیں بہت بُرا لگا ۔۔۔ یہ اُن کے اسٹائل سے میں نے اندازہ لگایا ۔۔۔
وہ بہت خوش ہوئیں ۔۔۔ خوشی سے اچھل پڑیں، گر گئیں اور بیلنس خراب ہونے سے سر میں شدید چوٹ آئی جس پر ’’وہ بے ہوش‘‘ ہو کر وہیں کہیں جہاں دل چاہا لیٹ گئیں ۔۔۔ اس بار بے ہوش ہونے کا ڈرامہ اصلی تھا یا پہلے کی طرح نقلی ۔۔۔ پتہ نہیں ۔۔۔ افتخار مجاز کا بھیجا SMS ملاحظہ ہو ۔۔۔ یہ ہر ایسے موقع پر ہمیں ایسے چٹکلیوں سے محفوظ کرتے ہی رہتے ہیں ۔۔۔
ہم نے ’’روح افزاء‘‘ اور ’’جامِ شیریں‘‘ شربت جو کہ پینے کے لیے جگ میں تیار ہوا پڑا تھا ۔۔۔ کے اُن کے منہ پر چھینٹے مارے تو اِک دم سے اُٹھ کھڑی ہوئیں ۔۔۔ اپنے ہونٹ جن پر ’’روح افزاء‘‘ اور ’’جام شیریں‘‘ گر گیا تھا، چاٹتے ہوئے ناگواری میں ۔۔۔ ہمیں محبت بھری نفرت سے گھورنے لگیں ۔۔۔ چہرے پر ہر دم رہنے والی ہنسی ۔۔۔ ساری غائب ۔۔۔ شاید چوٹ کی وجہ سے درد کے باعث سنجیدہ ہو گئیں ۔۔۔ ہم نے پاس جا کر ہمدردی جتانا چاہی تو ہمیں کان سے پکڑ لیا ۔۔۔ ’’بے ہودہ شخص پرانی طرز کے روائتی عاشق ۔۔۔ عمر میں ہم ٹھہرے تم سے پندرہ سال چھوٹے ۔۔۔ بہانے بہانے سے ہمیں مار ڈالنے پر تل گئے ۔۔۔ گویا محض ہم ’’تاج محل‘‘ اپنی یاد میں بنوانے کے چکر میں ’’تمہیں اُن‘‘ کے حوالے جن کے دن میں دو دو سو بے ہودہ SMS آتے ہیں چھوڑ کر اس لوڈ شیڈنگ کے زمانے میں دنیا سے چلے جائیں ۔۔۔ ’’شاہ جہان کی بیگم کی طرح جس کے مرنے پر تاج محل تو کھڑا ہو گیا مگر نئی شادیوں کا سلسلہ نہ رُکا (برائے کرم اس شادیوں کی کثرت کے حوالے سے آپ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اور کہیں پہ نگاہیں ۔۔۔ کہیں پہ نشانہ والا معاملہ نہ کر ڈالیں)‘‘ ۔۔۔ چپکے سے روپوش ہو جائیں ۔۔۔
جس طرح چند ماہ قبل ہو گئے تھے جب ہم نوکری سے نکلے تھے ۔۔۔ اس شدت زدہ گرمی میں جب آم کی قیمت آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں؟ ۔۔۔ نہ قبرستان میں قبر بر وقت تیار ہو گی ۔۔۔ نہ ہی جنازے کے لیے احباب اور تیرے بے وفا دوست آئیں ۔۔۔ آجکل تو بیچارے مولوی حضرات بھی سیاست میں مصروف ہیں سیاسی چالبازیوں میں مگن ہیں ۔۔۔
اس قدر خوفناک ’’رسک‘‘ لے لیں ہم محض تمہارے ’’تاج محل‘‘ بنوانے کے چکر میں جسے چاندنی راتوں میں دیکھ کر عاشق لوگ انجوائے کریں ۔۔۔
ادھر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے بالآخر نمبر 22 بنگلہ طویل عرصہ رہائش رکھنے کے بعد خالی کر دیا ہے ۔۔۔ ہمیں تبدیلی بہر حال اچھی نہیں لگتی کیونکہ ہم بنیادی طور پر سست لوگ ہیں اور ’’حرکت میں برکت ہے‘‘ جیسے محاورے ہمیں پسند نہیں ہیں ۔۔۔
تبدیلی کا اور کوئی فائدہ ہو نہ ہو مگر ہمیں یہ تو پتہ چلا کہ مولانا فضل الرحمن سرکاری رہائش گاہ پر عرصہ پچیس سال سے ’’ٹکے‘‘ ہوے تھے یعنی جس کا جہاں ’’داؤ‘‘ لگا اُس نے لگایا ۔۔۔ ہمارا غریب طبقہ ’’مر مر‘‘ کے اپنی روٹی روزی کا بندوبست تو کر لیتا ہے مگر ’’چھت‘‘ بہر حال اب بھی کروڑوں انسانوں کو ہمارے ملک میں دستیاب نہیں ۔۔۔
نئی آنے والی حکومت سے جس طرح 1971ء میں لوگوں نے روٹی، کپڑا اور مکان کی اُمیدیں لگائی تھیں ایسے ہی عوام (خاص طور پر نوجوان طبقے) نے ایک تو روزگار کی فراہمی کی اُمیدیں لگائی ہیں اور دوسرا عوام کو ’’چھت‘‘ مہیا کرنے کا وعدہ ہوا ہے جو بے حد پسند کیا گیا ہے ۔۔۔ اور لاکھوں لوگوں نے آنے والی حکومت سے امید لگائی ہے کہ ’’ہمیں رہنے کے لیے گھر ملے گا ۔۔۔ ہم تو ’’عام آدمی‘‘ ہیں ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں لیکن جنہوں نے وعدہ کیا ہے اُمید ہے اُن کے ذہن میں کوئی پروگرام تو ہو گا ۔۔۔ رات میاں محمود الرشید کہہ رہے تھے کہ ’’اکڑ خان‘‘ اپنے دونوں یہ والے وعدے پورے کرنے میں کامیاب ہو گیا تو پھر اگلے کئی الیکشن اُن کی پارٹی جیتے گی ۔۔۔؟!
’’کامن مین‘‘ کو سروکار نہیں ۔۔۔ کون آتا ہے کون جاتا ہے ۔۔۔ اُ سے تو بنیادی سہولتوں سے غرض ہے ہاں البتہ بنیادی سہولتوں کے زمرے میں کیا کیا آتا ہے ۔۔۔ یہ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو رہنے کے لیے ’’چھت‘‘ اور کھانے پینے کے لیے روزگار ہی ہے لیکن اگر ہم مولانا فضل الرحمن سے پوچھیں تو وہ کہیں گے ’’بنیادی سہولتوں میں کشمیر کمیٹی اور بنگلہ نمبر 22 ہی ہو سکتا ہے‘‘ ۔۔۔؟!
نئی حکومت کو بہر حال ’’عوام‘‘ کی فلاح کے لئے ’’عوام‘‘ کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی منصوبہ بندی بہر حال کر لینی چاہئے ۔۔۔ رہی بات مولانا فضل الرحمن کی تو وہ ’’اپنی بنیادی سہولتیں‘‘ کیسے حاصل کرتے ہیں یہ اُمید ہے اُن کے لیے کوئی مشکل کام نہ ہو گا کیونکہ اُس کا اس کام کا پچاس سالہ تجربہ ہے اور تجربہ ڈگری سے زیادہ کارآمدہوتا ہے؟! ۔۔۔ اپنے ہاں سچی بات ۔۔۔؟!


ای پیپر