یوم آزادی اور خواتین کا کردار

10 اگست 2018

رزینہ عالم خان

جو قوم اپنے ماضی سے کٹ جاتی ہے اس کا وجود بحیثیت ایک قوم کے صفحہء ہستی سے مٹ جاتا ہے کیونکہ اس کے امتیازات ‘اس کی خصوصیات و کمالات ‘غیرت و خوداری کے جذبات اور عظمت و شرافت کا جو سرچشمہ تھا جب اس سے رشتہ ٹوٹ گیا تو اس کی رگوں میں وہ گرم خون کہاں سے آئے گا جو اس کے جسم میں زندگی کی توانائیاں اور اپنی عزت و اقتدار پرکٹ مرنے کا حوصلہ اورجذبہ پیدا کرتا تھا ‘اسی لیے ہر زندہ اور حوصلہ مند قوم اپنی قومی تاریخ کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے ۔
ہندوستان میں بسنے والی ہندوستانی قوم جو مختلف مذاہب اور مکتبہ فکر کی تہذیب اور تمدن کے مختلف و متضاد عناصر کو لیکر وجود میں آئی تھی ۔برصغیر میں رہنے والے مسلمانوں کو آہستہ آہستہ یہ محسوس ہونا شروع ہوا کہ ہم غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں انگریزی حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ جو نہ روا امتیازی سلوک روا رکھا اس بنیاد پر مسلمانوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی اور مسلمانوں کو یہ محسوس ہونا شروع ہوا کہ انہیں ایک الگ وطن میں اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنی چاہیں کیونکہ غلامی ذہنی صلاحیتوں کی زنگ آلودگی پیدا کرتی ہے لیکن آزادی بلبل میں شاہین کی ادائیں پیدا کرتی ہے اورانسانی صلاحیتوں کو جِلا بخشتی ہے۔
تحریک آزادی کی اصل بنیاد ہی ایک آزاد اسلامی مملکت ہے جس میں مسلمان اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کر سکیںآخر 14اگست 1947ء کو وہ دن وجود میں آ گیا جب ایک نئے وطن نے جنم لیا اس تحریک میں مردوں کے ساتھ ساتھ ہماری خواتین نے بھی جدوجہد کی ۔ آزادی کے لیے ہزاروں قربانیوں میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی اپنی عزت کی اور جان کی قربانیاں دیں۔تحریک آزادی کے پورے دور میں دوسری قوموں کی قربانیوں کی مجموعی تعداد سے بہت زیادہ قربانیاں ہماری ہیں۔ آزادی کی تحریک میں جتنی خواتین ہمیں نظر آتی ہیں وہ سب بہت باکردار اور ہمت والی تھیں۔جیسے سرفہرست فاطمہ جناح ‘بیگم لیاقت علی خان‘بیگم جہاں آرا شاہنوازمسلم لیگ کونسل کی رکن تھیں،بیگم مولانا محمد علی جوہر مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کی پہلی خاتون اور بلند پائے کی مقررہ تھیں،بیگم نصر ت عبداللہ ہارون مسلم لیگ شعبہء خواتین کی صدر تھیں،بیگم شائستہ اکرام اللہ نے بنگال میں تحریک پاکستان کو مضبوط کیا ،بیگم سلمیٰ تصدق حسین اور بھی متعدد قد آور شخصیات قائد اعظم کے ہم رکاب تھیں۔وہ سب قائد اعظم کی بے پناہ عزت کرتی تھیں۔1943ء خواتین نیشنل گارڈ کی تشکیل کے موقع پرقائد اعظم نے کہا ،’’مسلمان خواتین کو سپاہیوں کی طرح کام کرنا ہو گاتب کہیں جا کر ہم پاکستان حاصل کر سکیں گے۔‘‘
عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے
عشق میری جان آزادی میرا ایمان ہے
اسلام نے 1400سال پہلے ہی عورت کو اس کے حقوق و فرائض بتا دیے ہیں کیونکہ ہم نے قرآن کو تفسیر سے پڑھا ہی نہیں اس لیے ہمیں معلوم ہی نہیں کہ دین میں عورت کے حقوق و فرائض کیا ہیں۔اسلامی غزوات ہوں یا آزادی کی تحریک ہر طرف عورت کا بہترین کردار نظر آتا ہے ۔آج کی عورت جس آزادی کی بات کرتی ہے وہ اسے دین اسلام میں ملتی ہے ۔دین نے مردکو باپ، بھائی،شوہراور بیٹے کے روپ میں بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کا محافظ بنایا ہے۔اسلام نے بیٹی کے روپ میں باپ کے گھر وراثت میں ایک حصہ رکھا ہے اور دوسراحصہ شوہر کی وراثت میں 1/8مقرر کیا ہے جبکہ ماں کے روپ میں خدمت کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا گیا،ماں کی خدمت کے سامنے مال و دولت ، اولاد اور دنیا کچھ بھی نہیں ہے۔
پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اب تک خواتین کے کردار اور خود مختاری پر نظر ڈالیں تو ہمیں مادرِملت فاطمہ جناح کی شخصیت سب سے پہلے نظر آتی ہے جنھوں نے اپنے بھائی قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ چل کے پاکستان بنایا اور پاکستان کی تعمیر نو میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اسلامی جمہوریہ پا کستا ن کے آئین کے مطا بق عو ر تو ں کو مر دوں کے بر ا بر آزادی ، تجا ر ت کرنے ، سیا سی و سما جی سر گر میا ں کر نے ، تعلیم حا صل کر نے اور مذہبی آزادی دی ہے۔ اس کے سا تھ ساتھ بعض شعبوں میں خواتین کی نما ئندگی کو یقینی بنا نے کے ا قد ا ما ت کر نے کا ا عادہ بھی کیا گیا ہے۔بے شک خواتین تعلیمی میدان ، ملا زمتوں اور کا روبا ری شعبے میں بہت آگے آئی ہیں۔ خو ا تین اور لڑکیا ں تعلیم کے میدان میں خا ص طو ر پر مردوں اور لڑکوں سے آگے ہیں ۔تاہم خواتین میں خواندگی کی شرح مردوں کی نسبت کم ہے۔ اس وقت سکو لوں سے با ہر لڑکیوں کی تعداد ایک کر وڑ اٹھا ئیس لا کھ ہے ،جو کہ 52% بنتی ہے۔ ہما ر ے ملک میں نا خو ا ند ہ افراد کی تعداد 5کر وڑ 70 لا کھ ہے جس میں سے 70% خواتین ہیں۔
پاکستان میں خواتین کی ترقی اور خود مختاری کے لیے مختلف دور میں مختلف پروگرام شروع کیے گئے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے۔پاکستان کے ایک ادارے نیشنل کمیشن فا ر ہیو من ڈ و یلپمنٹ نے پچھلے کچھ سا لو ں میں 32لا کھ خو ا تین اور لڑکیوں کو لکھنا پڑھنا سیکھا یا ہے اور ہنر سا زی میں بھی ا ہم کر دار ادا کیا ہے۔ خو ا تین چو نکہ معا شر ے کا کمزور حصہ ہیں اس لیے این سی ایچ ڈی نے خو اتین کی تر قی پرخصوصی تو جہ دی ہے۔ این سی ایچ ڈی نے پائیلٹ جیل پروجیکٹ کے ذریعے پورے ملک کی جیلوں میں قیدیوں کو تعلیم اور ہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ انکی ذہنی اور نفسیاتی رہنمائی بھی کی ہے سرگودھا میں پائیلیٹ جیل پروجیکٹ کامیابی سے کام کررہا ہے جس میں این سی ایچ ڈی کی اولین ترجیح جیلوں میں قید خواتین اور بچوں کو تعلیم اور ہنر سکھانے کے ذریعے انہیں بااختیار بنانا ہے تاکہ رہائی کے بعد انہیں زندگی گزارنے اور روزی کمانے میں آسانی ہو قیدیوں کے ساتھ جڑے منفی رجحانات کے خاتمے کے لیے قیدیوں کے اہل خانہ سے رابطے استوار کرکے انہیں قیدیوں کو قبول کرنے کی طرف راغب کر تے ہیں تاکہ رہائی کے بعد قیدیوں کو عام شہریوں کی طرح زندگی گزارنے میں آسانی ہو۔
این سی ایچ ڈی نے تعلیم بالغاں کے ساتھ ساتھ بہت سے کامیاب اقدامات کیے جیسا کہ کمیونٹی لرنگ سینٹر، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ہنر مند پروگرام، ملالہ فیڈر سکولز، موبائل خواندگی پروگرام شامل ہیں ۔ناخواندگی کے خاتمے کے لیے اسلام آباد میں’’ایک کو پڑھائے ایک‘‘مہم کا آغاز بھی ایک منفرد قدم ہے جس میں یونیورسٹی کے نوجوان رضا کارانہ طور پر ناخواندہ افراد کو تعلیم دے رہے ہیں۔
اسلامی نظام معاشرت کا پورا خاکہ عورت کے دائرہ عمل کے گرد ہے بیشک یہ دائرہ عمل مرد کے دائرے سے الگ ہے مگر دونوں کی فطرت ،ذہنی و جسمانی استعداد کے لحاظ سے تمدن کی الگ الگ خدمات ان کے سپرد کی گئی ہیں تاکہ ان کے تعلقات کی تنظیم اس طور پر کی جائے کہ وہ جائز حدود کے اندر ایک دوسرے کے لیے مدد گارثابت ہوں مگر حدود سے تجاوز کر کے کوئی فطرت کے قوانین کی خلاف ورزی نہ کرے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن پاک کی تشریح کو وضاحت سے پڑھیں اور اپنے معاشرے میں عورت کو جائز مقام دیکر فلاحی ریاست قائم کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے میں ہی فلاحِ انسانیت ہے۔

مزیدخبریں