افغانستان میں متحرک غیر ریاستی عناصر: پاکستان کیلئے خطرہ
10 اگست 2018 2018-08-10

امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ امن و آشتی کے ساتھ رہنے پر یقین رکھتا ہے تاہم بد قسمتی سے خطے میں گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران بعض اہم تبدیلیوں کی وجہ سے اس وقت تمام علاقہ ایک فلیش پوائنٹ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ خصوصاً نائن الیون کے بعد اس خطے میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے عالمی امن کے لئے خطرے کی جو گھنٹیاں بجانی شروع کی ہیں ان سے ابتدائی طور پر افغانستان سمیت پاکستان کے سرحدی علاقے متاثر ہوئے اور عالمی دہشت گردوں اور افغان سر زمین پر امن کے نام پر عسکری ذمہ داریاں سنبھالنے والی امریکی اور نیٹو فورسز کے مابین جس طرح پراکسی وار لڑی گئی اس میں بعض دیگر قوتوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور ان تمام سر گرمیوں کا مقصد در اصل واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان کے جہوری اثاثوں پر حریصانہ نظریں ڈالتے ہوئے پاکستان کو ان اثاثوں سے در پردہ محروم کرنے کی سازشیں ہیں۔ افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے تحفظات ہیں۔ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان اور امریکہ کا مشترکہ مقصد ہے۔ پاکستان افغان صدر اشرف غنی کے امن وڑن کا خیر مقدم کر چکاہے۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کی غرض سے تمام کثیر الجہتی فورمز میں تسلسل کے ساتھ شرکت کر رہا ہے کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے پاکستان افغانستان کی سب سے بڑی در آمدی منڈی ہے، افغان تاجروں کو سہولتوں کی فراہمی پاکستان کی اولین ترجیح ہے، پاکستان نے تجارت میں اضافے کی غرض سے افغانستان کے ساتھ کراسنگ پوائنٹس میں اضافہ کیا ہے۔اس وقت افغانستان کی تجارت ایران کے راستے ہونے سے آنے والے وقت میں پاک افغان تجارت کے معدوم ہو جانے کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اس لئے صرف باتیں بنانے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے نہ ہی کراسنگ پوائنٹس کی تعداد میں اضافے کا کوئی فائدہ ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین تجارت کے لئے باہمی مشاورت سے ا?سانیاں بہم پہنچانے کی راہ اختیار کرکے مسئلے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کیا جائے تاکہ خیبر پختونخوا میں تجارتی سرگرمیوں پر پڑنے والے منفی اثرات کاخاتمہ ممکن ہوسکے۔اس ضمن میں امریکی آشیر باد سے بھارت جیسے پاکستان دشمن ملک کو کھل کھیلنے کے مواقع فراہم کرنا تھے جس نے ایران کے علاقے چاہ بہار میں ایک جاسوسی نیٹ ورک قائم کرکے اس کی مدد سے بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیوں اور علیحدگی پسند قوتوں کی ہر طرح سے معاونت کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ اس دوران افغانستان میں تحریک طالبان کے ساتھ ساتھ داعش کا ابھرنا بھی ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ جبکہ بعض عالمی ابلاغی ذرائع یہ دعویٰ بھی کرتے آرہے ہیں کہ داعش کو افغان سر زمین پر پہنچانے اور ان کو عسکری امداد دینے میں خود امریکہ کا ہاتھ ہے۔ پاکستان بار بار نشاندہی کر چکا ہے کہ افغانستان میں متحرک غیر ریاستی عناصر پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہیں، جبکہ کالعدم جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے پاکستان دشمن کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب بھارت اور ایران کے ما بین بڑھتے ہوئے تعلقات کے نتیجے میں نہ صرف بھارت نے چاہ بہار بندر گاہ کو فعال کردیا ہے بلکہ اب افغانستان کے لئے تجارتی سرگرمیاں بھی وہیں سے آپریٹ ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ افغانستان کی تجارت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔
یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی دہشت گردوں کو چھپنے کا موقع دیتی ہے، افغان مہاجرین کی واپسی صرف پاکستان کی نہیں عالمی برادری کہ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ البتہ 9الست کی ایک تازہ ترین مصقہ اطلاع کے مطابق فغانستان کے صوبہ خوست سے عارضی طور پر بے گھر افراد کی وطن واپسی کا سلسلہ تا دم تحریر جاری ہے۔قبائلی علاقہ جات کے اضلاع کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں متاثر ہونے والے عارضی طورپر بے گھر افراد کی افغانستان کے صوبہ خوست سے واپسی کا عمل جاری ہے، اب تک 6ہزار 664 خاندان وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔واپس آنے والے عارضی طورپر بے گھر افراد کے معاوضہ جات کے فارم پرکرکے اپنے اپنے علاقہ جات میں روانہ کیا جارہا ہے جبکہ واپسی کے موقع پر بے گھر افراد کو چھ ماہ کیلئے مفت اشیاء خور ونوش ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت دی جارہی ہے۔ حکام کے مطابق عارضی طور پر بے گھر افراد کو کیش گرانٹ سے 25 ہزار روپے جبکہ ٹرانسپورٹ کی مد میں 10 ہزارروپے بھی دیئے جارہے ہیں۔ عارضی رہائش کیلئے خیمے اور دیگر گھریلو استعمال کی اشیاء بھی دی جارہی ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان میں 50 فیصد علاقہ حکومتی عمل داری سے باہر ہے جو کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ بن چکا ہے جبکہ پاکستان کا شروع سے یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور استحکام افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ ہفتے ایک سوال پر ترجمان دفتر خارجہ واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں امن واستحکام کے لئیتمام ممکن کوشش کرنے کیلئے تیار ہے۔ پاکستان ، افغانستان میں مفاہمت اور امن کے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے، اب افغان قیادت کو طے کرنا ہے کہ وہ کسی عمل کے تحت قیام امن چاہتے ہیں۔ پاکستان یقین رکھتا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ کون نہیں جانتا کہ امریکا پاک۔ افغان بارڈر مینیجمنٹ جیسے اقدامات میں پاکستان کے کردار کو سرہتاہے لیکن اسی سانس میں ڈو مور کی چھڑی بھی لہرادیتا ہے۔


ای پیپر