سیاسی سپورٹس مین سپرٹ کی کمی
10 اگست 2018 2018-08-10

پنجابی کی مثال ہے کہ چٹھے کھان پین نوں وکھ وکھ لڑائی نوں اکٹھے یعنی کھانے پینے کے لیے علیحدہ علیحدہ اور لڑائی جھگڑے کے لیے اکھٹے ہو جانا۔ الیکشن کے بعد موجودہ سیاسی پارٹیوں کی صورت حال بھی پنجابی کی اس کہاوت سے حد درجہ مماثلت رکھتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اب تک کسی اسلامی کاذ، ملکی کاذ، سماجی و معاشرتی کاذ پر ہم نوا و ہم بلہ نظر نہیں آیا۔ مولانا صاحب نے آج تک مسئلہ کشمیر اور ختم نبوت میں ترمیمی ایجنڈے پر سراپا احتجاج ہونے کی کوشش نہیں کی ۔ مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ اسلام کی بجائے اسلام آباد پر نظر رکھی۔ جب بھی ملک پر کڑی اور منگل گھڑی آئی مولانا صاحب نے ہمیشہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنائی۔ ہمارے ایک دوست والی بال کے بہت اچھے کھلاڑی تھے۔ وہ جب جیت جاتے یا مسلسل جیتتے رہتے تو وہ بہت خوش و خرم نظر آتے ۔ جب کبھی ہارتے ہوئے نظر آتے تو کبھی ریفرئی سے لڑائی جھگڑا کرتے اور کبھی مخالف کھلاڑیوں سے چھینا جھپٹی کرتے اور تو اور کبھی نیٹ اکھاڑ دیتے اور لڑائی جھگڑا کر کے واپس آ جاتے۔ ان سے اکثر سمجھانے کی غرض سے بات ہوئی تو موصوف فرماتے یار پسند نہیں ہے۔۔۔
مجھے ہارنا اچھا نہیں لگتا۔۔۔ بعض سیانے اسے یہاں تک کہہ دیتے کہ تم لاکھ اچھا اور صاف ستھرا کھیلتے ہو۔۔۔ مگر تم اچھے کھلاڑی نہیں ہو۔۔۔ اچھا کھلاڑی وہ ہے جو ہارنے کا حاصلہ رکھتا ہو اور جیت میں آپے سے باہر نہ ہوتا ہو۔ تمہارے اندر سپورٹس مین سپرٹ ‘‘ نہیں ہے۔ یہی بات مولانا فضل الرحمن کے اندر حد درجہ اتم موجود ہے۔ بلکہ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مولانا صاحب کے اندر سیاسی سپورٹس مین سپرٹ نہیں ہے۔ انہوں نے ہمیشہ چند سیاسی سکوں کے عوض بہت بڑا کاروبار کیا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انہوں نے بہت بڑا سیاسی کاروبار چمکایا ہے۔ مولانا صاحب نے اپنے پوری سیاسی کیرئیر میں شکست کا سامنا نہیں کیا۔ انہوں نے ہر سیاسی پلیٹ پر اپنی سیاسی ڈگڈگی بجائی اور جی بھر کے تماشا کیا۔ مولانا صاحب نے ہر سیاسی جماعت سے مفاہمت کی اور سیاسی اکھاڑے میں موجود رہے۔ اور کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ مولانا صاحب کو پچھاڑ سکے یا چاروں شانے چت کراسکے۔ اب کی بار مولانا صاحب کے اپنے سکے ہی کھوٹے نکلے۔ یعنی مولانا صاحب کو عوام نے ہی الٹی قلابازی کھلادی اور مولانا صاحب ’’منہ پرے‘‘ جاگرے، اس میں کسی کا کوئی قصور ہی نہیں ہے۔ عوام مولانا صاحب کی حکومتی آنیاں جانیاں اور سیاسی قلابازیوں کو بھانپ چکی تھی۔ مولانا صاحب اپنی سیاسی بین بجا کر بھی وزیری سانپ نکالنے میں ناکام رہے۔ اب مولانا صاحب جو شور و غل ڈالے جا رہے ہیں۔ اور راتوں کی نیند اور دن کا چین حرام کیے ہوئے ہیں۔ اس کا فائدہ دورہ دراز نظر نہیں آتا۔ اب مولانا کا کہنا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ اس دھاندلی سے جمہوریت کا خطرہ ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ دھاندلی نام کی کسی بلا نے الیکشن میں قدم نہیں رکھا۔ سیدھی بات ہے کہ مولانا صاحب کو ہار پسند نہیں ہے اور جب ہارتے ہیں تو سیاسی نیٹ تو دور کی بات سیاسی گراؤنڈ کو تباہ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں۔ دوسری بات جمہوریت کے خطرے کی ہے تو مولانا صاحب جمہوریت کی روح سے آشنا ہی نہیں ہی ہیں۔ اگر مولانا جیت جائیں اور کسی بھی سیاسی پارٹی بلکہ مخالف پارٹی سے الحاق کر کے وزارت ’’مٹھور‘‘ تو جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر مولانا صاحب کو عوام دھتکار دیں تو مولانا صاحب جمہوریت کے درپے ہو جائیں۔ حالانکہ شکست کو تہہ دل سے قبول کرنے اور آنے والی حکومت کا مثبت ساتھ یا اس کا خیر خواہ ہونا ہی اصل جمہوریت کی روح اور جمہوریت کی شان ہے۔ جبکہ مولانا صاحب اس سے بے بہرہ و بے علم ہیں۔ اور جمہوریت کو سمجھنا مولانا صاحب کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ اب جبکہ عمران خان کو لوگوں نے ووٹ دیا۔ عوام نے ووٹ کو عزت دی۔ عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا۔ الیکشن صاف و شفاف ہوئے۔ تو باقی پارٹیوں کو اپنی شکست تسلیم کر لینی چاہیے۔ یہاں تک دھاندلی کا تعلق ہے تو صوبائی سطح پر ن لیگ کی برتری رہی۔ وہاں دھاندلی کیوں نہ ہوئی۔ صوبہ سندھ میں پی پی پی نے نشستیں جیتیں۔ وہاں دھاندلی کیوں نہ ہوئی۔ حالانکہ وفاق میں نون لیگ کے پاس پینسٹھ کے قریب
نشستیں ہیں۔ ان نشستوں پر دھاندلی کیوں نہ ہوئی؟ کیا دھاندلی صرف مولانا فضل الرحمن، عابد شیر علی، رانا ثناء اللہ، چوہدری نثار علی جان، خواجہ سعد رفیق ( لوہے والے چنے کا بانی ) بلاول زرداری ، سید یوسف رضا گیلانی، اور دیگر ارکان سیاست کے ساتھ ہی ہوئی ہے؟ کیا ان کے پولنگ اسٹیشنوں پر ہی خلائی پریزائیڈنگ، لگائے گئے تھے۔ کیا ان کے حلقوں میں اسپیشل بے ایمان الیکشن کا عملہ لگایا تھا؟ نہیں ہر گز ایسا نہیں تھا۔ اصل میں انہیں اپنی ہار پسند نہیں ہے۔ اب یہ بازی جیتنے کی خاطر ہر رنگ کا پتہ کھیل رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی دونوں ایک دوسرے کی حریف جماعتیں رہی ہیں۔ 1985 ء سے لیکر 2018 ء کے الیکشن سے پہلے تک نون لیگ اور پی پی پی ایک دوسرے دے رو برو ہونے والی جماعتیں تھیں۔ مگر اب اپنے مفاد کے لیے ( ملک کے مفاد اور عوام کے مفاد کے لیے نہیں) سب اکھٹی ہو گئیں ہیں۔ حالانکہ ان جماعتوں نے جی بھی کر ملک پر حکومت کی ۔ نظام سقے کے نظام سے لیکر نظام بار شاہی قائم کیا۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی انتہا کر دی۔ بے نظیر بھٹو پر کئی طرح کے گھناؤنے الزامات عائد کرنے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔ اب جبکہ عمران خان کی باری آئی۔ انہیں چھن جانے والی کرسی کے لالے پڑ گئے۔ انہیں ان کے ہاتھ سے نظام فرعونیت جاتا ہوا دکھائی دینے لگا۔ ان کے الے تلے ختم ہوتے دکھائی دینے لگے۔ انہیں سزا اور جزا کا عمل دکھائی دینے لگا۔ انہیں عوام اور جمہوریت یاد آنے لگی۔ انہیں تخت و تاج چھنتا ہوا دکھائی دینے لگا۔ انہیں پروٹوکول، اسلام آباد ، غیر ملکی دورے، عوام کی
دست بدستی، جی حضوری ستانے لگی اور یہ پنجابی کی کہاوت پر پورے اترنے لگے یعنی چٹھے، ، کھان پین نوں وکھ وکھ ، لڑائی نوں اکٹھے، اب انہیں چاہیے کہ یہ تمام لوگ عمران خان کو وقت دیں وہ عوام سے کیے وعدوں پر عمل کرے۔ عوام کو دکھائے ہوئے خواب کی تعبیر دے۔ پہلے 100 دن کا ہدف پورا کرے۔ اگر عمران کان اپنے وعدوں پر پورا نہیں اترتا یا عمران خان حکومت کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو پھر عمران خان کو ٹف ٹائم دیا جائے۔
اس کا احتساب کیا جائے۔ حکومت کسی کی میراث نہیں ہے۔ کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ کسی کا ذاتی حق نہیں ہے۔ جمہوریت میں عوام کو پورا پورا حق ہوتا ہے جسے چاہے اس کا چناؤ کرے۔ جیسے چاہے اسے رد کرے۔ سہانے دنوں اور سہانے دور کی یاد میں آنے والے دور کو تباہ و برباد کرنا کہیں کی عق مندی اور دانشمندی نہیں ہے۔ بقول قاضی ظفر اقبال
وہ دن بھی کیا تھے کہ ہم ایسے پر شکستوں کو
ہوائے شہر نگاراں اڑائے پھرتی تھی


ای پیپر