تاریخی لائیوسٹاک ایکسپو اورصدرِ پاکستان
10 اگست 2018 2018-08-10

دودھ کا استعمال ہر گھر میں ہوتا ہے ؛یہ عیاشی نہیں بلکہ ضرورت ہے اور بنیادی ضرورت کہ اس کا تعلق نسلوں کی بہتری سے ہے ۔ اس کے ساتھ گوشت اور انڈے بھی ہماری خوراک کا اہم حصہ ہیں ۔ پاکستان میں پولٹری انڈسٹری اپنے عروج پر ہے اور بہت بڑی سرمایہ کاری اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال سے گوشت اور انڈوں کی فراہمی کویقینی بنائے ہوئے ہے۔اگر دودھ کی بات کریں تو اس کی پیداوار کو عام فارمرز سہارا دیے ہوئے ہیں جس میں بہت بڑی تعداد ان غریب اور چھوٹے فارمرز کی ہے جن کے پاس دو سے دس جانور ہیں ۔ اہم بات کہ یہ چھوٹے فارمرز سیکٹر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو روایتی طریقوں کو استعمال میں لاتے ہوئے دن رات کی محنت کے بعد ہمارے لئے دودھ مہیا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی تعداد بھی موجود ہے جو تھوڑی بڑی سرمایہ کار ی کے ساتھ روایتی طریقوں سے اس شعبے کا حصہ ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی اور غیر ملکی جانوروں کے ساتھ کارپوریٹ اور جدید کمرشل فارم بھی اسی ملک میں موجود ہیں مگر تعداد میں بہت کم ۔
پاکستان کی ڈیری انڈسٹری میں کراچی کی ایک الگ اہمیت ہے ۔اس بڑے شہر کو دودھ کی سپلائی کے لئے شہر کے گردلائیوسٹاک کالونیز میں بہت بڑی تعداد میں گائے اور بھینسیں موجود ہیں۔ ان کالونیز کے فارمر برسوں سے اس شعبہ سے منسلک ہیں اورشہر کو دودھ فراہم کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو کبھی ان کالونیز میں جانے کا اتفاق ہو تو ایک الگ دنیا پائیں گے۔ یہاں کا ایک خاص سسٹم ہے جس کے تحت یہ لوگ فارمنگ کر رہے ہیں۔ اسی طرح ایک مخصوص مارکیٹنگ سسٹم کے تحت یہاں سے دودھ شہر کے لوگوں تک پہنچتا ہے۔
کراچی کی ان کالونیوں کے فارمرز نے ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی ہے جوکہ اب قومی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ یہ ایسوسی ایشن پاکستان اور خصوصاََ سندھ میں لائیوسٹاک فارمرز کی بقا کی حقیقی معنوں میں جنگ لڑ رہی ہے۔ اس نے جہاں کراچی کی پبلک کو لائیوسٹاک فارمر کی اہمیت کا احساس دلایا ہے وہاں فارمر سے متعلقہ مسائل کو عام آدمی کی زبان تک لانے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ایسوسی ایشن نے گزشتہ دنوں لینڈ مارک کمیونیکیشن کے زیرِ انتظام ایک ایکسپو کا انعقاد کیا ۔
پاکستان میں نمائشوں کا انعقاد کوئی نئی چیز نہیں مگر اس شعبہ نے گزشتہ دس سالوں میں بہت ترقی کی ہے اور مختلف سیکٹرز سے متعلقہ سالانہ نمائشوں کا انعقاد ایک عام ٹرینڈ بن گیا ہے۔ لائیوسٹاک سیکٹر سے متعلقہ نمائشوں کا انعقاد بھی عرصہ دراز سے ہو رہا ہے اور اس میں خاص طور پر پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی انٹرنیشنل پولٹری ایکسپوقابلِ ذکر ہے جس کا شمار پاکستان کی بڑی نمائشوں میں ہے ۔ ڈیری کی مناسبت سے بھی نمائشوں کا انعقاد ہوتاہے مگر چند وجوہات کی بنیاد پر ان میں سے کوئی بھی اہم مقام حاصل نہیں کر سکی۔
سہ روزہ پاکستان پولٹری ، ڈیری اینڈ لائیوسٹاک ایکسپو (PPDL Expo) کراچی کے ایکسپو سنٹر میں منعقد ہوئی۔ اگرچہ اس نمائش میں پولٹری کا حصہ کمزور رہا مگر ڈیر ی کی مناسبت سے اس ایکسپو نے مثال قائم کر دی ۔ یہ قومی نوعیت کی پہلی ڈیری ایکسپو ہے جس کا انعقاد حقیقی فارمرز نے کیا اور جہاں شرکت بھی حقیقی اور ہر درجے کے فارمرز نے کی۔ ایکسپو میں پاکستان بھر سے کمپنیوں نے سٹال لگائے جن میں غیر ملکی کمپنیوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے ۔ مجھے ذاتی طور پر اس بات کا علم ہے کہ ڈیری ایسوسی ایشن اور اس کے صدر شاکر عمر گجر نے ٹیم کے ہمراہ گزشتہ سات آٹھ مہینوں کی دن رات کی محنت کے بعد ایکسپو کو اس مقام پر پہنچایا ۔
افتتاحی تقریب نمائش سے ایک روز قبل کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہوئی ۔ لائیوسٹاک سیکٹر کے لئے اس تقریب کی تاریخی حیثیت اس لحاظ سے ہے کہ اس میں صدر ممنون حسین نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی ۔ صدرِ پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے لائیوسٹاک اور پولٹری سیکٹر میں مقامی سطح پر بہت پوٹینشل موجود ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک کی سرمایہ کاردوست پالیسیوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس شعبہ میں جدت آئی ہے مگر دودھ اور گوشت جیسی مصنوعات کی کوالٹی نیچے آنے سے صحت اور غذائیت کے بہت سے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔سوسائٹی میں غیر تصدیق شدہ معلومات کے پھیلاؤ نے پریشانی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ غیر معیاری برینڈز نے نہ صرف لوگوں کی کھانے پینے کی عادات کو متاثر کیا ہے بلکہ اس سے صارفین پر مالی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر وجوہات میں سے اس کی ایک وجہ نان پروفیشنل رویے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی دوڑ ہے۔


ای پیپر