عید الاضحی کا اصل پیغام !
10 اگست 2018 2018-08-10



ورلڈ گِونگ انڈیکس (world giving index) کی گزشتہ برس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان صدقات و خیرات کرنے میں دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے ۔مخئیر پاکستانی ہر سال اربوں روپے غریب لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے دیتے ہیں ۔یو ں تو صدقات و خیرات کا یہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے لیکن سال میں ایک وقت ایسا بھی آتاجب ہر غریب و امیر پاکستانی عام دنوں سے بڑھ کر دوسروں کی مدد کے لیے تیار ہوتا ہے ۔
یہ عید قرباں کا وقت ہوتا ہے جس میں ہر صاحب حیثیت اللہ کی راہ میں جانور قربان کر کے اس کا گوشت غریب لوگوں میں بانٹنا ہے اور کھال کسی ضرور ت مند کی مدد کو دے دی جاتی ہے۔ اس عید کی آمد کے ساتھ ہی کراچی سے خیبر تک ایک گہما گہمی شروع ہو جاتی ہے ۔ کیا بچہ کیا بڑا ہر کوئی جانوروں کی خریداری اور خدمت میں مصروف ہوتا ہے ۔
وطن عزیز میں اس سال عیدالاضحی 21یا22اگست کو منائی جائے گی۔ عید قریب آتے ہی لوگوں میں قربانی کا جذبہ اپنے عروج پرپہنچ چکا ہے ۔ ہر کسی کی خواہش ہے کہ وہ بہترین جانور کی قربانی کر کے اپنے اللہ کے حضور سرخرو ہوجائے ۔قربانی اللہ کے محبوب پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔
یہ ہمیں اپنی محبوب ترین چیز اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا درس دیتی ہے ۔ عمومی طور پر ایک بات کا مشاہدے میں آئی ہے کہ وطنِ عزیز میں عید تہوار کے موقع پر عوام کی اکثریت اپنے شہری حقوق و فرائض کے سلسلے میں غفلت برتتی ہے جس کی وجہ سے ان تہواروں کا اصل حسن گہنا جاتا ہے۔ چند ایک ضروری گزراشات ایسی ہیں جن کا خیال رکھنے سے ہم اپنے تہوار خصوصاً عید قرباں کی خوشیوں کو اور بھی بڑھا سکتے ہیں۔
عید ِ قرباں اور صفائی کا بہت گہرا تعلق ہے ۔ بلا شبہ قربانی ایک بہت اہم دینی فریضہ ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم ایک دینی فریضے کی ادائیگی کے دوران دوسرے اہم ترین دینے فریضے یعنی صفائی کو بالکل بھول جاتے ہیں جو کہ نصف ایمان کا درجہ رکھتی ہے ۔
ہر سال لاکھوں جانور قربان کیے جاتے ہیں اور قربانی کے بعد ان جانورں کا خون اور دیگر آلائیشیں سڑک کے کنارے ڈال دی جاتی ہیں ۔ اس وجہ سے ماحول میں شدید تعفن پھیل جاتا ہے اور اکثر وبائی امراض بھی پھیل جاتے ہیں۔اسی طرح قربانی کے جانور کی کھالیں بھی کئی کئی گھنٹے گھر کے باہر پڑی رہتی ہیں۔ یہ کھالیں ایک طرف تو دیگر آلائیشوں کی طرح تعفن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں تو دوسری طرف گرمی کے موسم میں دیر تک پڑے رہنے سے کھال خراب ہو کر قابلِ استعمال یا قابلِ فروخت نہیں رہتی۔ ایک اندازہ کے مطابق ہر سال تقریباً 25فیصد کھالیں ضائع ہو جاتی ہیں جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے ۔ یاد رکھیں عید کے موقع پر صفائی کا خیا ل رکھنا صرف انتظامیہ کی ذمہ داری ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہر شہری کی انفرادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھ کر راپنے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔
کہتے ہیں قطرے قطرے سے دریابنتا ہے اس طرح ایک ایک کھا ل کر کے اربوں روپے مالیت کی لاکھوں کھالوں کی فروخت سے ہزاروں افراد کا بھلا ہو جاتا ہے۔ قربانی کی یہ کھا لیں جمع کرنے کے لیے ہر سال بہت سی این جی اوز اور دیگر ادارے میدان میں آجاتے ہیں ۔
ان میں سے اکثر اداروں کی کارکردگی سے کوئی بھی واقف نہیں ہوتا لیکن بہت سارے لوگ صرف اپنی جان چھڑانے کے لیے کسی کو بھی قربانی کی کھال دے دیتے ہیں۔ یہ ایک غلط طرز عمل ہے قربانی کی کھال ہمیشہ کسی مستند ادرے کو ہی دینی چاہئے۔
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس عید الاضحی پر پاکستان بھر میں تقریباً ساڑھے چھ ارب روپے کی کھالیں فروخت ہوئی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑی رقم ہوتی ہے چنانچہ اس عید کے موقع پر بہت سی تنظیمیں قربانی کی کھالیں جمع کرتی ہیں تا کہ انہیں بیچ کر اپنے ادارے چلا سکیں ۔
پاکستان میں ایسے بہت سے فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں جن کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ایسا ہی ایک ادارہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر ہے جو کہ ہر سال قربانی کی کھالیں جمع کرنے کا انتظام کرتا ہے۔ اور ان سے حاصل کردہ رقم کینسر کے مریضوں کے مفت علاج پر خرچ کی جاتی ہے ۔ تو اس عید پر جس دوسری بات کا آپ نے خیال رکھنا ہے وہ کھالوں کی درست ادارے تک بروقت رسائی کا ہے۔
سب سے بہتر تو یہ ہے کہ یہ کھالیں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جیسے اداروں کو دی جائیں تا کہ ان سے حاصل ہونے والی رقم کینسر میں مبتلا کسی مریض کی زندگی بچانے میں کام آسکے۔ ہسپتال کے سینکڑوں رضا کار ہر سال ملک بھر میں گلی گلی سے کھالیں جمع کرتے ہیں اس لیے آپ بھی قربانی کے فوراً بعد ان کی ٹیم کو کال کریں تا کہ کھال خراب ہونے سے قبل ہی درست ہا تھوں میں پہنچ جائے۔ میرے خیال میں قربانی کی کھالوں کا اس سے بہتر اور کوئی مصرف نہیں ہو سکتا۔


ای پیپر