طالبان نے غزنی شہر میں 140 افغان فوجی ہلاک کر دئیے
10 اگست 2018 (17:24) 2018-08-10

غزنی :تحریک طالبان افغانستان نے غزنی پر حملے میں اب تک 140افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے ، مارے جانیوالے تمام سکیورٹی اہلکار ہیں، شہر پر قبضے کیلئے جنگ مسلسل کئی گھنٹوں سے جاری ہے جبکہ طالبان نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے پولیس ہیڈکوارٹر اور فوجی چھائونی پر قبضہ جمالیا ہے جبکہ حکومتی اہلکار طالبان کے قبضے سے انکار کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق طالبان جنگجوں نے علی الصبح اہم اور تاریخی شہر غزنی پر حملہ کیا۔ جنگجو چار اطراف سے شہر پر حملہ آور ہوئے اور قبضے کی جنگ شروع کردی۔ سکیورٹی فورسز اور طالبان میں شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث غزنی سے کابل جانے والی ہائی وے کو ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔ غزنی کے رکن صوبائی اسمبلی حمیداللہ نوروزی کے مطابق طالبان کا حملہ اتنا شدید ہے کہ اگر سکیورٹی فورسز کیلئے مزید کمک نہ بھیجی گئی تو طالبان کسی بھی لمحے شہر پر قابض ہوسکتے ہیں۔ غزنی کے پولیس چیف فرید احمد مشال کا کہنا ہے کہ طالبان شہر میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکے اور شہر مکمل طور پر سکیورٹی فورسز کے زیر کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے باہر خوگیانی ، خواجہ عمری اور زناخان کے علاقوں میں طالبان کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق غزنی میں جھڑپوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے 140 اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح شہر کے مختلف حصوں میں آگ لگی ہوئی ہے جبکہ بھاری گولہ باری کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمزکے مطابق طالبان کی جانب سے غزنی کے صوبائی دارالحکومت پر طلوع آفتاب سے قبل حملہ کیا گیا اور چند ہی گھنٹوں میں انہوں نے شہر کے بڑے حصے پر اپنا قبضہ جمالیا ۔ اگر طالبان کا یہ دعوی درست مان لیا جائے تو گزشتہ کئی برسوں کے دوران یہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ غزنی صوبے کے گورنر عارف نوری کا کہنا ہے کہ شہر میں لڑائی جاری ہے لیکن طالبان نے پورے شہر پر قبضہ نہیں جمایا اور نہ ہی ہم انہیں قبضہ کرنے دیں گے۔


ای پیپر