Source : File Photo

پی کے 23 کے انتخابات کالعدم قرار، دوبارہ پولنگ کا حکم
10 اگست 2018 (17:12) 2018-08-10

اسلام آباد :الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 23 پر انتخابی عمل کالعدم قرار دےکر دوبارہ انتخابات کرنے کا حکم دےدیا۔ جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے پی کے 23 شانگلہ میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آو¿ٹ کم ہونے کے معاملے پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران شوکت یوسفزئی کے وکیل پیش ہوئے اور دلائل کے دوران کہا کہ پی کے 20 میں خواتین کا ٹرن آو¿ٹ 10 فیصد سے کم رہا۔ان کا کہنا تھا کہ ہر پولنگ اسٹیشن پر بڑی تعداد میں سیکیورٹی اور پولنگ اہلکار تھے۔وکیل کے مطابق ولی خان کے سوا کسی نے خواتین کے کم ووٹ کاسٹ کیے جانے کی شکایت نہیں کی جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر کوئی بھی شکایت نہ کرتا تو ہم اپنے ریکارڈ سے از خود نوٹس لے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کے خیال میں ہم اپنی اس مہم میں کامیاب نہیں ہوئے کہ خواتین آکر ووٹ ڈالیں۔چیف الیکشن کمشنر کے مطابق گزشتہ انتخابات میں دیر میں خواتین کے ووٹ پول نہ ہونے پر ضمنی انتخاب کروایا گیا تھا آپ نے دیکھا اس بار دیر سے کتنا اچھا ٹرن آوٹ رہا اور اپر دیر میں خواتین کا ٹرن آوٹ 30 فیصد ہے۔

سماعت کے بعد الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعدازاں فیصلہ سناتے ہوئے پی کے 23 کے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کو حکم دے دیا۔یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے اس حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شوکت یوسفزئی کامیاب ہوئے تھے اس ضمن میں مذکورہ حلقے سے شکست پانے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے انتخابی نتائج کالعدم قرار دینے کی درخواست الیکشن کمیشن میں جمع کروائی تھی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صوبائی اسمبلی کے اس حلقے میں 2 پولنگ اسٹیشنز پر خواتین کے ووٹ بالکل کاسٹ نہیں ہوئے اور ایک جرگے میں باقاعدہ اعلان کر کے خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکا گیا تھا خواتین نے اس جرگہ کے فیصلہ کے خلاف درخواستیں دیں اور آر او کو بھی آگاہ کیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ مذکورہ حلقے سے خواتین ووٹرز کا ٹرن آو ٹ 5.1 فیصد رہا جبکہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق خواتین کا ٹرن آوٹ 10 فیصد ہونا لازمی تھا اس حلقے میں مجموعی ووٹ 69827 تھے جن میں سے 3505 خواتین نے ڈالے تھے جس پر الیکشن کمیشن نے مذکورہ حلقے میں انتخابی نتائج کالعدم قرار دےکر دوبارہ الیکشن کروانے کے احکامات دے دئیے۔اس ضمن میں نئے انتخابات کےلئے دوبارہ شیڈول جاری کیا جائےگا جبکہ امکان یہی ہے کہ مذکورہ حلقے پر انتخابات ضمنی انتخابات کے ساتھ ہی کروائے جائیں گے۔اس فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے اس حلقے سے پی ٹی آئی کے کامیاب ہونے والے امیدوار شوکت یوسفزئی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ظالمانہ فیصلہ قرار دیا۔انہوںنے کہاکہ میرے پاس اتنے وسائل نہیں کے دوبارہ انتخابات لڑ سکوں، اس کے ساتھ انہوں نے الیکشن کمیشن کے انتظامات پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور اسے ووٹنگ ٹرن آوٹ کم رہنے کی وجہ قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ شانگلہ کے علاقے میں انتخابات کرانا آسان نہیں، الیکشن کمیشن کو چاہیے تھا صرف خواتین کی دوبارہ پولنگ کروائے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے سے ہمیں نقصان ہوگا۔


ای پیپر