آر ٹی ایس سسٹم نے ٹھیک طریقے سے کام نہیں کیا : ڈائریکٹر الیکشن کمیشن
10 اگست 2018 (13:59) 2018-08-10

اسلام آباد: ڈائریکٹر الیکشن الیکشن کمیشن آف پاکستان چوہدری ندیم قاسم نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آر ٹی ایس سسٹم کی ناکامی کی تحقیقات کے مطالبہ پر پہلے ہی عملدرآمد کر چکا ہے اور کابینہ ڈویژن کو معاملہ کی تحقیقات کے لیے لکھ چکا ہے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم نے صحیح طریقہ سے کام نہیں کیا اس معاملہ کی تحقیقات کی جائیں گی دنیا بھر میں جہاں بھی الیکشن میں ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے وہ کسی نہ کسی شکل میں متنازعہ ہے بین الاقوامی سطح پر بیٹ پریکٹس یہ ہے کہ الیکشن کے معاملات میں ٹیکنالوجی کو کم از کم شامل کیا جائے۔


ان خیالات کا اظہار چوہدری ندیم قاسم نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا ۔ا نہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آر ٹی ایس سسٹم کی ناکامی کی تحقیقات کے لیے کابینہ ڈویژن کو کمیٹی بنانے کے لیے ہدایات دے چکا ہے ،ہم نے جو ٹی او آرز بھیجے ہیں، ہم نے اس میں سات نکات رکھے ہیں۔ آر ٹی ایس کی کنیپشن سے لے کر اس کے عملدرآمد تک اور اس میں اس کی تربیت شامل ہے۔منصوبہ کس طرح بنایا گیا اور اس کے بعد 25 جولائی کو ناکامی کی وجوہات اور اس کے بعد ذمہ داری کا تعین کیا جائے کہ کس وجہ سے یہ چیزیں ہوئیں اور مستقبل کے حوالے سے تجاویز بھی کمیٹی کا مینڈیٹ ہوگا اور وہ مستقبل کے حوالے سے تجاویز بھی دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس مطالبہ پر پہلے ہی عملدرآمد کرچکا ہے اورتحقیقات کے لیے لکھا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ٹی ایس سسٹم الیکشن کمیشن نے آئوٹ سورس کیا تھا اور یہ نادرا کو منصوبہ دیا گیا تھا نادرا نے یہ منصوبہ بنایا اور اس پر عملدرآمد بھی کیا ۔
انہوں نے کہا کہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم نے صحیح طریقہ سے کام نہیں کیا اور اس معاملہ کی تحقیقات کی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت الیکشن کے بعد جو رپورٹ بنے گی وہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھی جائے گی کہ اس ایکٹ میں یہ یہ چیزیں رکھی گئیں اور اس بناء پر یہ یہ مسائل سامنے آئے۔اس لیے اس کی تحقیقات کرنا بھی ضروری تھی۔انہوں نے کہا کہ ایک نیا الیکشن ایکٹ بنایا گیا اور اس کے آٹھ ماہ کے اندر انتخابات منعقد کیے گئے اس ایکٹ میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں الیکشن کمیشن نے اپنے تحقیقات ظاہر کیے تھے اور انہیں چیزوں میں زیادہ تر مسائل سامنے آ رہے ہیں یہ اسی طرح کے مسائل ہیں جس قسم کی باتیں الیکشن کمیشن نے کی ہوئی ہیں یہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔


انہوں نے کہا کہ چیزوں کی تحقیقات ضروری ہیں تاکہ آنے والے الیکشن میں ان چیزوں کے حوالے سے قانون سازی مناسب طریقہ سے ہو سکے ۔ندیم قاسم نے کہا کہ دنیا بھر میں جہاں پر بھی الیکشن میں ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے وہاں پر کسی نہ کسی شکل میں وہ متنازعہ ہے، بھارت کو دیکھ لیں اور امریکہ کے حالیہ انتخابات کو دیکھ لیں اس میں بھی ہیکنگ کے الزامات لگے اور اس پر احتجاج بھی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بیٹ پریکٹس یہ ہے کہ الیکشن کے معاملات میں ٹیکنالوجی کو کم از کم شامل کیا جائے ، الیکشن کمیشن نے خود آر ٹی ایس سسٹم متعارف نہیں کروایا بلکہ الیکشن ایکٹ 2017ء کے اندر باقاعدہ شق رکھی گئی ،یہ ایکٹ کاحصہ ہے اس لیے الیکشن کمیشن پابند تھا کہ اس طرح کا سافٹ ویئر بنانا اور نتائج کو جمع کرواتا۔


ای پیپر