فوٹوبشکریہ فیس بک

الیکشن کمیشن نے ووٹ رازداری کیس میں عمران خان کی معافی قبول کر لی
10 اگست 2018 (13:04) 2018-08-10

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹ رازداری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی معافی قبول کرتے ہوئے ان کے خلاف نوٹس واپس لے لیا۔

دوسری جانب این اے 53 اسلام آباد سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں4 رکنی بینچ نے عمران خان کے خلاف ووٹ کی رازدری ظاہر کرنے پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں عمران خان اپنا ووٹ کاسٹ کرنے این اے 53 اسلام آباد کے پولنگ سٹیشن پر گئے جہاں انہوں نے پولنگ بوتھ کے پیچھے جا کر مہر لگانے کے بجائے میڈیا کے سامنے ہی بیلٹ پیپر پر مہر لگائی جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا۔

چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ بابر اعوان سے زیادہ ہمیں یہاں جواب چاہیے تھا۔ الیکشن کمیشن نے بابر اعوان کی آمد تک سماعت ملتوی کی جو کچھ دیر بعد دوبارہ شروع ہوگئی۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے موکل کا دستخط شدہ معافی نامہ اور بیان حلفی جمع کرایا جس میں الیکشن کمیشن نے نوٹس واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی۔

چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام رولز کو فالو کرتا ہوا میں ووٹ ڈالنے اندر اکیلا گیا، رش کے باعث پردے کی سکرین گرگئی تھی، پولنگ سٹاف سے پوچھا ووٹ کہاں ڈالوں تو سٹاف نے کہا ٹیبل پر بیلٹ پیپر رکھ کر کاسٹ کردیں۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ ٹیبل کے اطراف مہر لگاتے وقت میڈیا اکٹھا تھا، میڈیا نے میری مرضی یا اجازت کے بغیر تصاویر اور فوٹیج بنائی، میں نے جان بوجھ کر ووٹ کی رازداری ظاہر نہیں کی اور اس میں میرا کوئی کردار نہیں تھا، لہٰذا غیر ارادی اقدام پر الیکشن کمیشن سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان کی جانب سے بیان حلفی اور حلف نامہ دینے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے ووٹ کی رزاداری ظاہر کرنے پر عمران خان سے دستخط شدہ معافی نامہ اور بیان حلفی طلب کیا تھا اور گزشتہ روز بابر اعوان کا تحریری جواب مسترد کردیا گیا تھا۔

 

 

 

 

 

 


ای پیپر