بغیر اجازت ” اَسد عُمر “ گھوڑے پہ کیوں بیٹھے ؟

10 اگست 2018

نواز خان میرانی

بیشک آج کل یہ خبر دلوں کی تسکین بنتی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم ہاﺅس میں اگر مستقبل کے وزیر اعظم عمران خان نہیں رہیں گے تو پھر اتنی بڑی عمارت ، جس کی دیکھ بھال کے لئے 980 ملین خرچ ہوتے ہیں، اُس کا کیا کیا جائیگا، اور سالانہ پونے دو ارب جس کا خرچہ ہے ، اِس سے کِس طرح قوم چھٹکارہ حاصل کر سکتی ہے، وزیر اعظم ہاﺅس سینکڑوں ایکٹر پہ مُحیط ہے،
مجھے بھی وزیر اعظم ہاﺅس میں کچھ دن رہنے کا کئی دفعہ اتفاق ہوا ہے، مگر یہ نہ پوچھئے کہ کس کے دور میں ، جب وزیر اعظم ہاﺅس میں گھوڑے ” مُربے “ کھاتے تھے، اور حکمران بھنی ہوئی بھنڈیاں کھاتے تھے، یا جب چودھری نثار احمد ، وزیر نہ ہونے کے باوجود وزیر اعظم ہاﺅس رہتے تھے، اور اُن کا کمرہ وہاں مخصوص تھا، جہاں کسی اور کو رہنے کی اجازت نہیں تھی، حتیٰ کہ پاکستانی وفود کے ساتھ ، جب وہ غیر ملکی دورے پر جاتے تھے، تو وزیر اعظم کے برادر نسبتی، کو بیرونی حکمران کی طرف سے دیا گیا گیسٹ ہاﺅس اُنہوں نے اِس لئے پسند نہیں کیا ، کہ اِس وفد میں شامل اور بھی پاکستانی مہمان رہیں گے۔ لہٰذا انہوں نے برہمن ، شودر ، اور کھتری بلکہ ’دلت ‘ لوگوں کے ساتھ رہنے کے بجائے مہنگے ترین ہوٹل میں ، جو پاکستان جیسے غریب مُلک کے باسیوں کے لئے انتہائی مہنگا تھا، وہاں کثیر ڈالر کا بوجھ حکومت پاکستان پہ ڈال دیا۔ اور یوں وہ اشرافیہ کی صف میں بدستور شامل رہے، قوم و فعل کا یہ تضاد انتخاب میں عیاں ہو گیا، اور یوں وہ نہ اِدھر کے رہے اور نہ اُدھر کے رہے۔
در اصل کردار میں یہی تضاد بالآخر کسی نہ کسی دِن آشکار ہو ہی جاتا ہے۔ حالانکہ انتخابات کی یہی خوبی نمایاں رہی، کہ کراچی سے لے کر ، خیبر تک عوام نے ممبران پارلیمان اور وزیروں مُشیروں ، وڈیروں ، جاگیر داروں ، سرداروں اور زمینداروں کو سرراہ ، روک کر پوچھا، اور رعایا کے ہاتھ اُن کے گریبانوں تک پہنچ گئے، کہ اُن کی کار کردگی گذشتہ سالوں مین کیسی رہی؟ اور وہ کِس منہ سے ووٹ لینے آئے ہیں اور کراچی میں تحریک انصاف کی ، جیت کے پیچھے یہی محرکات تھے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے عوام کی خاطر کیا کیا؟ گو وہ یہی بات ، تحریک انصاف سے بھی کر سکتے تھے، کہ گذشتہ پانچ سالوں میں اُن کی کار کردگی کیسی رہی؟، وہ منتخب ہو جانے کے بعد اسمبلی میں جانے کی بجائے دھرنوں میں کیوں قوم کے نونہالوں اور بعض خام خیالوں والے جیالوں کو لا یعنی باتوں میں اُلجھائے رکھنے کا سبب بنتے رہے، مگر اسمبلی سے تنخواہ اور مراعات بدستور لیتے رہے۔۔۔ اور آپ خیبر پختونخواہ میں وزیر اعلیٰ مقرر کرنے کے بارے میں تحریک انصاف نے انصاف کا صریحا خون کرتے ہوئے ، ایک صحت کے دشمن سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے آگے گھٹنے کس خوشی میں ٹیک دیے ، کیا انصاف کا تقاضہ یہی ہے، کہ پرویز خٹک نے اپنی علیحدہ لابی بنا کر عمران خان کو بے بس کر دیا، کہ یا تو وہ پرویز خٹک کو ہی وزیر اعلیٰ نامزد کریں، بصورت دیگر جس کو عمران خان نہیں، پرویز خٹک نامزد کریں، اُسے وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے،
اب تحریک انصاف نے یہ اعلان کیا ہے ، کہ پنجاب میں وہ کلین آدمی کو وزیر اعلیٰ نامزد کریں گے، خدا کرے وزیر اعلیٰ صرف ” کلین شیو“ نہ ہو، مکمل ” نیٹ کلین “ ہو، میں بات کر رہا ہوں ،وزیر اعظم ہاﺅس کی ، عمران خان یہ کہتے ہیں، کہ وزیر اعظم ہاﺅس اور گورنر ہاﺅس میں یونیورسٹی بن جائے، یہ میری دانست میں اب بھی ممکن ہے، وزیر اعظم کا وہ راستہ جو ایوان صدر ، اور قومی اسمبلی سے شروع ہوتا ہے، اُسے بند کر کے ، جہاں تحریک انصاف نے چوہدری نثار صاحب کے دور میں احتجاج کے دوران ، ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مل کر اُس کے دروازے توڑنے کی کوشش کی تھی، اور پاکستان ٹیلی وژن پہ توڑ پھوڑ کی تھی۔ کیا ہم نے قانون کو ہاتھ میں لیا، کہہ سکتے ہیں؟
میں کہنا یہ چاہ رہا تھا، کہ وزیر اعظم ہاﺅس کو بَری امام ؒ کے مزار کو جانیوالی سڑک سے یعنی عقب سے راستہ دے دیا جائے، اور اُس کی عمارت کو استعمال میں لا کر بقیہ سینکڑوں ایکڑ کو بذریعہ نیلامی، جس میں ، قطر، دوبئی اور سعودیہ کی بُولی لگوا کر جس میں پاکتانی اور بیرون ملک پاکستانی بھی شامل ہوں بیچ دیا جائے، اسی طرھ ، گورنر ہاﺅس پنجاب کی بلڈنگ میں یونیورسٹی بنا کر باقی خالی زمین کو جو ایک طرف مال روڈ، ایجرٹن روڈ اور دوسری طرف امریکن کونسلیٹ، اور شملہ پہاڑی سے ملتی ہے ، ایسا کرنے سے اَربوں روپے ، اکھٹا ہو سکتے ہیں، کیونکہ آواری ہوٹل ، پی سی وغیرہ بھی گورنر ہاﺅس کے قریب میں واقع ہیں، باقی صوبوں کے گورنر ہاﺅس کی خالی زمینوں کو اس طرح بیج کر اُدھار صرف اتارا ہی نہیں” چُکایا “ بھی جا سکتا ہے،
عمران خان کو سعودیہ کے سفیر نے شاہ سلمان ، قطر کے بادشاہ، ابوظہبی کے سلطان کے مبارک باد کے پیغامات ، اور تعاون کی پیشکش ، ایران سمیت ، جاپان ، برطانیہ اور یورپی ممالک سمیت ہر ایک نے دینے کی ” سعادت “ حاصل کی ہے، اُس سے بھر پور فائدہ اُٹھا کر آئی، ایم ، ایف سے جان چھڑوائی جاسکتی ہے۔ اگر صرف سعودیہ ، قدرتی آفات اور خانہ جنگی میں مبتلا یمن ، شام کے پناہ گزینوں کو 33 ، کروڑ ڈالر کی خیرات اور امداد سے سکتا ہے، تو حرمین شریفین کے زائرین سے کئی ٹریلین ڈالر کمانے والا ملک ہمیں سود سے نجات دلانے کیلئے میدان عمل میں نہیں آسکتا، سوائے ایران کے اور کوئی ملک ” مشروط “ امداد نہیں دیگا، بلکہ وہ انسانیت، اور اِسلامی جذبہ اُخوت، اور بھائی چارے کی بنیاد پر پاکستان کی نہیں بلکہ ذاتی طور پر ” عمران خان“ کی مدد ، اور درخواست پہ آمادہ ہو جائینگے، اِس کے علاوہ سوئزرلینڈ میں پاکستانیوں کے جو اَربوں روپے پڑے ہیں، اور تحریک انصاف کے انتخابی نعرے میں بھی یہ بات شامل تھی، کہ وہ پیسہ واپس لا کر اُدھار ” بے باک “ کر دیا جائےگا اُس پر 100 ، دنوں کے اندر اندر عمل کرنے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ بیرون ممالک میں خاص طور پر دوبئی ، شارجہ اور ابوظہبی میں پاکستانیوں نے بے شمار جائیدادیں خریدی ہوئی ہیں، حتیٰ کہ برطانیہ میں بھی سینکڑوں پاکستانیوں نے خطیر رقم سے رہائش گاہیں، اور بزنس پلازے ، خریدے ہوئے ہیں، بکہ وہاں سب سے مہنگی جگہ ہے ، جہاں ٹینس کے مقابلے والا سٹیڈیم ہے، اُس کے ساتھ ہی پاکستانی عمارات کے مالک بنے ہوئے ہیں۔
جہاں تک سرکاری ہیلی کاپٹر کے ناجائز استعمال کا تعلق ہے، کوئی مائی کا لعل انشاءاللہ آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا، مگر میری گذارش ہے کہ چونکہ بنی گالہ آپ کے پاس بہت سی غیر ملکی شخصیات آتی ہیں، براہ کرم بنی گالہ کی سٹرک ہی ٹھیک کرالیں، جہان تک اَسد عمر صاحب کا تعلق ہے ، وہ پی ٹی اے کی بہت ہی معتبر اور معقول شخصیت ہیں، مگر جب سے وہ بغیر آپ سے پوچھے ، گھوڑے سے گرے ہیں اب وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی معیشت بھی ” بے قابو گھوڑا “ ہے، گھوڑے سے گرنے کی وجوہات کا پتہ چلانے کیلئے میں سپریم کورٹ سے درخواست کرتا ہوں، کہ وہ جے آئی ٹی بنا دیں، جو یہ پوچھے کہ جس گھوڑے سے گرے تھے، اُس کی عمر کیا تھی؟ اور یہ کہ کیا وہ گھوڑی تھی، اور سب سے بڑی بات یہ کہ کیا وہ ” عربی النسل “ گھوڑا تو نہیں تھا، جس پہ بیٹھ کر آپ نے سواری کرنی، اور اپنی مرجی سے چلانے کی کوشش کرنی تھی۔
آخر میں میری گذارش ہے ، کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کہتے ہیں کہ کیا ساری ذمہ داری عدالتوں کی ہے۔ جنرل راحیل شریف، اور جنرل شجاع پاشا نے بیرون ملک ملازمت کس کی اجازت سے کی، اور پھر خودی کہہ دیا کہ قومی اسمبلی سے اجازت لینی چاہئے تھی اور یہ کہ بنی گالہ کا گھر بغیر نقشے کی منظوری کے کیوں بنا۔ ہمارے خیال میں ” ریا کاری “ اسلام میں منع ہے، یا پھر خزلوں کو واپس بلاتے عمران خان وزیر اعظم بن کر اِس کا خود فیصلہ کریں۔ لیکن میرا خون اُس وقت سے کھول رہا ہے ، میری نیندیں اُڑ گئی ہیں ، میرا جذبہ حب الوطنی کی وجہ سے سُکون تباہ ہوگیا ہے، میری سپریم کورٹ کے جج سے یہ گذارش ہے کہ وہ اس مجرم کو ضور پکڑیں ، خواہ ایف آئی اے کو کہنا پڑے یا نیب کے سابق جسٹس جاوید اقبال کو حکم دینا پڑے، جس نے سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ لکھ کر نیچے ، مرکزی دفتر تحریک انصاف لکھ دیا ہے، مگر مجھے خدشہ ہے ، کہ تین دن مسلسل رابطہ کرنے کے باوجود الیکشن کمشنر نے جو سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ہیں، چیف جسٹس کا فون نہیں اُٹھایا، اور پھر چیف جسٹس صاحب کو کہنا پڑا کہ لگتا ہے ، الیکشن کمشنر سویا ہوا ہے، اور ایک اور فکر بھی اُنہیں لاحق ہے، کہ ریٹائر ہونے کے بعد اُن کا کیا بنے گا، ہمارے خیال میں جو چودھری افتخار احمد صاحب کا بنا ہے ، جس پہ کروڑوں عوام نثار ہونے کو تیار تھے کیونکہ اُن کا رانا ثناءاللہ ، پھپھی زاد بھائی تھا۔ آپ بھی ” از خود نوٹس “ لے کر کسی کو تو اپنا بھائی بنا لیں۔ چاہے وہ شیخ رشید ہی کیوں نہ ہوں!!!

مزیدخبریں