''احمد ندیم قاسمی کی دلکش محفلیں''
10 اپریل 2021 (12:17) 2021-04-10

ا حمد ندیم قاسمی ایک محفل آراء شخصیت تھے۔ اُن کی محفل میں علم وادب کے پھول تو جھڑتے ہی تھے لیکن لطیفہ گوئی بھی وہاں کمال کی ہوتی تھی ۔ جب میں نے ایم ایس سی (MSc ) کرنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں واقع باٹنی(Botany) ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا تو میرے والد صاحب جو خود بھی ایک علم و ادب دوست شخصیت تھے ،نے ایک خط مجھے دیا اور کہا کہ لاہور میں احمد ندیم قاسمی صاحب ہیں جن کے ہمارے خاندان سے پرانے مراسم ہیں۔ اگر کسی کام کے سلسلے میں ضرورت پڑے تو اُن سے مل لینا وہ خاصے اثر و رسوخ والے ہیں۔قاسمی صاحب ’’ انگہ ‘‘ ضلع خوشاب کے رہنے والے تھے۔ اُس زمانے میں ضلع میانوالی اور خوشاب کے لوگ کالج لیول کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ضلع کیمبل پور جو اب اٹک کہلاتا ہے کے کالج میں داخلہ لیتے تھے۔ ہمارے خاندان کے کئی بزرگ اُس وقت کے احمد شاہ جو بعد میں ’’ احمد ندیم قاسمی ‘‘ بنے کیساتھ کیمبل پور کالج میں پڑھتے رہے تھے۔ اسی تعلق کی بنا پر وہ میانوالی میں ہمارے گائوں میں آکر کئی کئی دن بھی رہتے تھے۔خیر ایک دن میں نے قاسمی صاحب سے ملنے کا سوچا۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ایک ادبی رسالہ ’’ فنون ‘‘ کے نام سے نکالتے ہیںاور اُن کا دفتر لاہور کے مشہور بازار نیو انارکلی میں ہے۔خیر میں اُن کے دفتر پہنچ گیا جو نئی انارکلی بازار کی ایک بلڈنگ کے فرسٹ فلور پر تھا۔ ملاقات ہوئی۔ میں نے بتایا کہ میں یہاں پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں پڑھ رہا ہوں۔ بڑی گرمجوشی سے ملے اور ہمارے بزرگوں اور گائوں کی باتیں کرتے رہے۔ ان کا دفتر کل تین افراد پر مشتمل تھا۔ ایک قاسمی صاحب خود اور دوسرے عبداللہ قریشی صاحب جو ان کے ساتھ والی میز کرسی پر بیٹھتے تھے ، وہ اردو ادب کے بہت بڑے ریسرچ ورکر تھے ۔ قاسمی صاحب اگر کبھی کسی لفظ یا ترکیب کی تاریخ یا ماخذ جاننا چاہتے تھے تو وہ عبداللہ قریشی سے پوچھا کرتے تھے۔تیسرے فرد اختر تھے جو نیچے سے چائے وغیرہ لاتے تھے اور مہمانوں کو پلاتے تھے۔ دفتر کے باقی چھوٹے موٹے کام بھی وہی کرتے تھے۔ ، اُنہیں بھی اردو شاعری سے بڑا لگائو تھا اور وہ بھی کبھی کبھار ایک عدد غزل لکھ کر ’’ فنون ‘‘ میں چھپوانے کی سعی کرتے تھے۔ خالد احمد بھی ایک شاعر تھے جن کے قاسمی صاحب سے خاندانی تعلقات تھے۔ وہ بھی تقریباً ہر روز قاسمی صاحب کے دفتر کا چکر لگاتے تھے۔ قاسمی صاحب کا اُن سے برتائو چھوٹے بھائی اور گھر کے فرد جیسا ہوتا تھا۔ خالد احمد اب فوت ہو چکے ہیں۔ خالد احمد کے ساتھ عموماً ان کے ایک دوست نجیب احمد بھی آتے تھے ۔وہ بھی شاعر تھے ۔قاسمی صاحب کے دفتر میں عطا الحق قاسمی صاحب اور امجد اسلام امجد عموماً اکٹھے آتے تھے ۔ یہ دونوں قاسمی صاحب کے بہت قریب تھے۔ یہ دونوں اس وقت میرے خیال میں لاہور کے ایم اے او کالج میں پڑھاتے تھے۔ ان کے ساتھ عموماً ان کے ایک دوست گلزار وفا چودھری بھی آتے تھے اور وہ بھی کسی کالج میں پڑھاتے تھے۔ آپ خود سوچیں جس محفل میں عطاالحق قاسمی اور امجد اسلام امجد جیسے لوگ اکٹھے ہو جائیں وہاں کیا حالات بنتے ہونگے ۔ محفل گل و گلزار ہو جاتی تھی۔ یوں تو فنون کے دفتر میں اردو ادب سے متعلق لوگوں کا تانتا ہر روز بندھا رہتا تھالیکن ہفتہ میں ایک دن ایسا ہوتا تھا ، مجھے یاد نہیں وہ جمعہ کا دن ہوتا تھا یا سنیچر ،جس دن لاہور شہر میں رہنے والے شعراء اور ادباء دو یا تین بجے قاسمی صاحب کے دفتر فنون میں اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے ۔ دفتر بھر جاتا اور کرسیاں کم پڑ جاتیں۔ اُس دن کا پتہ لاہور شہر سے باہر رہنے والے شعرا اور ادیبوں کو بھی تھا ، اور اگر وہ بھی کسی وجہ سے لاہور میں ہوتے تھے تو اس محفل کو انجوائے کرنے کے لیے پہنچ جاتے تھے۔ کیا صاحب علم لوگ موجود ہوتے تھے ۔ سید علی عباس جلال پوری، سید محمد کاظم ، شریف کنجاہی اور سلیم الرحمن۔ان محفلوں میںکیا کیا پھل جھڑیاں چھٹتیں۔مثلاً ایک دن عدیم ہاشمی آئے ہو ئے تھے ۔ عدیم ہاشمی بہت خوبصورت شاعر تھے لیکن جلد فوت ہو گئے۔عدیم ہاشمی کا ایک خوبصورت شعر آپ نے ضرور سنا ہو گا

کٹ ہی گئی جدائی بھی ،کب یہ ہوا کہ مر گئے 

تیرے بھی دن گزر گئے ، میرے بھی دن گزر گئے

 عدیم ہاشمی ذرا زیادہ گہرے رنگ کے تھے ، یعنی خوب کالے تھے۔ انھیں دیکھ کر اسی محفل میں ایک صاحب نے کہا، قاسمی صاحب اگر عدیم ہاشمی کچھ دیر اور ماں کے پیٹ میں رہ جاتے تو راکھ ہو جاتے۔ اسی طرح قاسمی صاحب خود بھی کوئی ایسی بات کر جاتے تھے کہ آدمی گھنٹوں اُسے انجوائے کرتا تھا ، مثلاً ایک دفعہ قاسمی صاحب کے انارکلی والے دفتر میں باہر کی طرف کھلنے والی کھڑکی سے خوب دھوپ اندر پڑ رہی تھی ۔ گرمیوں کے دن تھے اس لیے چبھ رہی تھی۔ قاسمی کے دفتر میں اس دن ایک شاعر جن کا تعلق میرے خیال میں ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا، غلام محمد قاصر بیٹھے ہو ئے تھے ۔ وہ خاصے دراز قد تھے ۔ قاسمی صاحب نے انہیں کہا کہ قاصر اُٹھ کر پردہ ذرا آگے کر دیں۔وہ جب اُٹھے تو یوں لگا جیسے وہ کھڑکی سے بھی اوپر چلے جائیں گے۔ یہ دیکھ کر قاسمی صاحب نے کہا ’قاصر‘ صرف پردے کو کھڑکی کے آگے کرنا ہے، سورج کو نہیں ہٹانا۔ قاسمی صاحب اپنے دفتر میں آئے دوستوں کی خاطر مدارت چائے وغیرہ سے کراتے تھے ۔ محفل کے ختم ہونے پر کافی احباب نیلا گنبد تک ان کے ساتھ جاتے اور انہیں رکشا میں سوار کراکے اپنی اپنی منزلوں کو روانہ ہو جاتے۔اس کے بعد قاسمی صاحب کے فنون کا دفتر انارکلی بازار سے میکلوڈ روڈپر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے ہوسٹل کے ساتھ شفٹ ہو گیا ۔ پھر قاسمی صاحب کے احباب وہاں پہنچنا شروع ہو گئے۔اُن دنوں قاسمی صاحب مجلس ترقی اردو ادب کے ڈائریکٹر بھی لگ چکے تھے جس کا دفتر باغ جناح کے قرب میں تھا۔اُن دنوں پروین شاکر بھی قاسمی صاحب سے زیادہ رابطہ میں رہتی تھیں اور قاسمی کی رہنمائی میں اُن کی شاعری کی پہلی کتاب ’’ خوشبو ‘‘ چھپنے کی تیاریوں میں تھی۔ پروین شاکر نے اپنی اس کتاب کا انتساب قاسمی صاحب کے نام کیا تھا۔ پروین شاکر کی ’’ خوشبو ‘‘ کو ادبی حلقوں میں وہ پذیرائی ملی ،جس کی مثال بہت کم کم ملتی ہے۔ تنگ دامنی کالم زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں دیتی ورنہ قاسمی صاحب کی یادوں کے خزانے تو لا محدود ہیں ۔ اللہ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں ۔ آخر میں قاسمی صاحب کے دو اشعار حسب حال :

بے وقار آزادی ، ہم غریب ملکوں کی 

تاج سر پہ رکھا ہے بیڑیاں ہیں پائوں میں

یہ شاید سچ کہنے کا ہنگام نہ تھا

اب گھبرایا بیٹھا ہوں جھوٹے کی طرح


ای پیپر