کورونا ویکسی نیشن اور محمد شہباز شریف
10 اپریل 2021 (12:06) 2021-04-10

بلوم برگ نے پاکستان میں کورونا ویکسی نیشن کی رفتار کو سست رفتار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ رفتار سے ویکسی نیشن کرنے پر اگلے دس برس میں پچیس فیصد آبادی کو ہی ویکسین دی جا سکتی ہے ۔دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان آباد ی کو کورونا ویکسین لگانے میں بہت پیچھے ہے ۔تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں کورونا ویکسین لگانے کا سلسلہ بھی بہت سست روی کا شکار ہے ۔لاہور کے لئے مدت گیارہ سال سے زائد بنتی ہے جس میں تمام آبادی کو ویکسین لگائی جا سکتی ہے ۔بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کورونا ویکسی نیشن دو ماہ قبل تین فروری سے شروع کی گئی ۔صوبے بھر میں اب تک ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد ہیلتھ کیئر ورکرز کو ویکسین لگائی گئی ہے جبکہ دو لاکھ بائیس ہزار سے زائد عام شہریوں کو ویکسین لگانا شامل ہے ۔پنجاب میں گیارہ کروڑ کی آبادی میں اب تک صرف تین لاکھ سنتالیس افراد کو ویکسین لگائی گئی ۔تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان یوکرائن،ایران اور بنگلہ دیش کو اپنی آبادی کا 75فیصد ویکسی نیشن میں دس سال لگیں گے ۔بھارت چار سال ،ارجنٹائن تین سال،ترکی ،برازیل ،جرمنی،فرانس،سپین اور اٹلی کو ایک سال جبکہ امریکا ،برطانیہ،اسرائیل اور چلی سمیت دیگر ممالک ایک سال سے بھی کم عرصے میں اپنی آبادی کے75فیصد حصے کو کورونا ویکسین لگا سکیں گے ۔

کورونا ویکسی نیشن دنیا کے 192ممالک میں امریکا پہلے،چین دوسرے  اور پاکستان کا 117نمبر ہے ۔ون ورلڈ اینڈ ڈیٹا نامی ویب سائٹ کے مطابق جنوبی ایشیاء میں بنگلہ دیش پہلے اور پاکستان کا کورونا ویکسی نیشن میں آخری نمبر ہے ۔کورونا ویکسی نیشن کی سست رفتاری موجودہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کو ویکسی نیشن لگانے کا عمل بھی مکمل نہیں کیاگیا ۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم کو خط لکھا ہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کی قیمت دنیا کی نسبت 160فیصد زائد مقرر کی گئی ہے ۔روس کی ویکسین دو خوراکوں کی قیمت بیس ڈالر ہے ۔پاکستانی 3100روپے بنتے ہیں ۔حکومت نے روس کی ویکسین کی قیمت آٹھ ہزار پانچ سو روپے مقرر کر دی ہے جس کی قیمت دنیا میں سب سے زیادہ ہے ۔ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وباء کی صورت میں عوام کو مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جائے ۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر کو کورونا ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دینے کے بارے میں کہا کہ اس میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہو سکتی ہے ۔بھارت نے کورونا ویکسین تیار کر لی ہے اور قیمت 730روپے مقرر کی ہے ۔پاکستان میں غریب افراد کورونا ویکسین کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے۔ دس افراد پر مشتمل خاندان کو ویکسی نیشن کا خرچہ 85ہزار جبکہ پانچ افراد کا خرچہ 42ہزار پانچ سو روپے ہے ۔اس مہنگائی میں غریب عوام کورونا ویکسین لگانے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔محکمہ صحت ساٹھ برس سے زیادہ عمر کے افراد کو ویکسی نیشن کے لئے رجسٹریشن کر رہی ہے ۔ملک میں نوجوانوں کی آبادی 45فیصد ہے اور نوجوانوں کو ویکسی نیشن کے لئے رجسٹریشن نہیں کی جارہی ہے جبکہ ساٹھ سالہ افراد کی رجسٹریشن کرنے کے باوجود بھی انہیں ویکسی نیشن نہیں لگائی جارہی ہے ۔

کورونا ویکسی نیشن کے لئے محمد شہباز شریف کی طرح ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر کی ضرورت ہے جب وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تین ماہ میں ڈینگی کا خاتمہ کیا تھا ۔خیبرپختونخوا میں بھی ڈینگی کے خاتمے کے لئے ادویات،ہیلتھ موبائل گاڑیاں بھیجی تھیں ۔عالمی ماہرین نے بھی شہباز شریف کے اقدامات کو سراہا تھا ۔کورونا وائرس کی وباء کے دوران شہباز شریف جیل میں ہیں ۔وہ کینسر کے مریض بھی رہ چکے ہیں اور شدید کمر درد میں بھی مبتلا ہیں ۔وقتاً فوقتاً میڈیکل چیک اپ کے لئے لندن جاتے تھے ۔پاکستان کے واحد حکمران ہیں جو بیرونی ممالک علاج کا استحقاق ہونے کے باوجود ایک روپیہ قومی خزانے سے خرچ نہیں کرتے اپنی جیب سے علاج کا خرچہ برداشت کرتے ہیں ۔ڈاکٹروں کے منع کرنے کے باوجود اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے تھے اپنی صحت کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور عوام کی فلاح و بہبود ترقی اور خوشحالی کے لئے اقدامات اٹھاتے تھے اور ان کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔محمد شہباز شریف کو جھوٹے مقدمات میں دوسری مرتبہ گرفتار کیاگیا ہے ۔انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایاجارہا ہے ۔اپنے بڑے بھائی محمد نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑنا ان کا بڑا جرم ہے ۔تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں بانی پاکستان محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایاگیا تھا ۔انہیں غدار کہا گیا تھا ۔حکمران ماضی کے تلخ تجربات دہرا رہے ہیں ۔ان سے سبق نہیں سیکھتے ۔حکمران شہباز شریف کی مقبولیت اور مفاہمتی پالیسی سے خوفزدہ ہیں ۔پاکستان کی تاریخ میں شہباز شریف جیسا محنتی ،عوام کی خدمت کرنے والا لیڈر نہیں دیکھا ۔پاکستانی عوام کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں شہباز شریف جیسا لیڈر نصیب ہوا ہے ۔محمد شہباز شریف حکمران ہوتے ۔کورونا ویکسی نیشن میں پاکستان کا آخری نمبر نہیں ہوتا بلکہ امریکا ،چین ،بھارت اور فرانس کی طرح کروڑوں عوام کو ویکسی نیشن مکمل کرلی ہوتی ۔شہباز شریف پابند سلاسل ہیں جرات اور استقامت کے ساتھ انتقامی کارروائیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔پاکستانی قوم انہیں نہیں بھولی ہے ۔ان کی اچھی صحت اور رہائی کے لئے دعا گو ہے ۔


ای پیپر