روس سے تعلقات میں نیا موڑ
10 اپریل 2021 (11:56) 2021-04-10

تقریباً ایک دہائی گزرنے کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے جب اسلام آباد میں نور خان ایئر پورٹ پر قدم رکھا تو یہ سفارتی زبان میں ایک بہت بڑا بریک تھرو تھا جسے خطے میں پاکستان کی بہت بڑی کامیابی قرار نہ دینا نا انصافی ہو گی بلاشبہ اس کا کچھ نہ کچھ کریڈٹ موجودہ حکومت کو جانا چاہیے مگر جو حکومت کریڈٹ لینا ہی نہ چاہے تو اس میں کسی کا کیا قصور ہے۔ 

کہتے ہیں کہ سیاسی اجتماعات، ریلیوں یا کسی بھی عوامی مجمع کے لیے بساط تیار کی جاتی ہے جسے موجودہ زبان میں سنٹر سٹیج کہا جاتا ہے۔ مخالفین کا ایک داؤ پیچ یہ ہوتا ہے کہ اس موقع پر سنٹر سٹیج سے عوام الناس کی توجہ ہٹانے کے لیے سٹیج کے آس پاس کوئی ایسی واردات کرا دی جاتی ہے کہ عوام میڈیا اورمخالفین ہر ایک کی توجہ اصل سٹیج سے ہٹ جاتی ہے اور وہ ضمنی واقعہ یا سائیڈ شو کو اصل Event سے زیادہ فوقیت دے دیتے ہیں جیسے سٹیج پر ایک ہی پارٹی کے کارکنوں کا آپس میں لڑ پڑنا یا دیہاڑی پر لائے گئے جلسہ کے مہمانوں کا بریانی کی دیگوں پر حملہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سائیڈ شو حکومت نے خود آرگنائز کیا۔ 

مگر روسی وزیر خارجہ کی اسلام آباد ایئر پورٹ آمدپر ان کے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کی گلابی چھتری نے سارا کھیل خراب کر دیا ہوا یہ کہ ایئر پورٹ پر لینڈنگ کے وقت بارش ہو رہی تھی۔ روسی مہمان طیارے سے باہر آئے تو انہوں نے بارش سے بچنے کے لیے چھتری پکڑی ہوئی تھی جبکہ دوسری طرف ان کے میزبان کو بارش سے بچانے کے لیے وزارت خارجہ کا ایک اہلکار گلابی چھتری پکڑ کر ساتھ چل رہا تھا جو برطانوی نو آبادی دور کی یاد دلاتا تھا ۔ گزشتہ سال جب ہماری کابینہ نے پہلے گندم ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی اور جس کے نتیجے میں ملک میں گندم کا بحران پیدا ہوا اور پھر گندم امپورٹ کرنے کا فیصلہ ہوا تو یہ روس ہی تھا جس نے پاکستان کو قحط سے بچایا اور گندم مہیا کی تھی جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں خوشگوار یوٹرن دیکھا گیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کچھ یوٹرن اچھے بھی ہوتے ہیں۔ 

بات شاہ محمود کی گلابی چھتری کی ہو رہی تھی جو کہ ہماری گلابی سیاست کی عکاستی کرتی ہے ۔ ہماری گلابی سیاست اور گلابی اردو میں قدر مشترک یہ ہے کہ انہیں دیکھ کر بندے کا ’’ہاسا‘‘ نکل جاتا ہے مگر گلابی چھتری کو دیکھ کر ہاسا کم اور غصہ زیادہ آ رہا ہے ہمارا سوشل میڈیا اس واقعہ سے بھرا پڑا ہے سب سے زیادہ مشکل کا سامنا پی ٹی آئی کے ان حامیوں کو ہے جو اس کا دفاع چاہتے ہیں مگر کر نہیں پاتے اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ شاہ محمود کا مائنڈ سیٹ جماعت کی پالیسی نہیں یہ ان کی گدی نشینی کا عکاس ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آپ نے ملک کے وزیراعظم کے اہم ترین نمائندے یعنی وزیر خارجہ کو ایئر پورٹ پر بھیجا تھا یا کسی دربار کے مجاور کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ جاؤ اور روسی وزیر خارجہ کے من کی مراد پوری کرنے کے لیے وہاں جا کر تعویذ دھاگہ کرو۔ 

پاکستان کے عوام کو خوش ہونا چاہیے کہ ملک کی جغرافیائی اور سٹریٹجک لوکیشن کی وجہ سے عالمی دنیا میں کوئی بھی سپر پاور پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتی یہی وہ زمینی حقیقت ہے جس کی وجہ سے روس نے بالآخر فیصلہ کیا ہے کہ وہ زیادہ دیر تک پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتا اور افغانستان کے معاملے میں پاکستان کو نظر انداز کرنا کوئی بھی پاکستان کا دوست یا دشمن یہ رسک نہیں لے سکتا۔ یہ وہ بازی ہے جس میں ترپ کارڈ یا رنگ کا پتہ پاکستان کے پاس ہے اسی لیے چائنا ، امریکہ اور روس ان سب کے لیے پاکستان ایک اہم ملک کا درجہ رکھتا ہے اور افغانستان کے موجودہ تنازع میں پاکستان اس وقت بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ 

2012ء کے بعد پہلی دفعہ روسی وزیر خارجہ امن کی تلاش میں پاکستان آئے ہیں۔ ملاقات کے ایجنڈے میں افغانستان کا امن سر فہرست ہے ۔ اس کے علاوہ روس نے کراچی سے لاہور تک گیس پائپ لائن بچھانے کی آفر کی ہے ۔ اس پراجیکٹ سے پاکستان میں گیس کی قیمتیں آدھی رہ جائیں گی اس کے علاوہ روس نے پاکستان کو کرونا ویکسین سستے داموں دینے کی آفر کی ہے اس وقت پرائیویٹ طور پر کرونا انجکشن 8400 روپے میں لگایا جا رہا ہے جس کی درآمدی قیمت صرف 1500 روپے ہے۔ لیکن ملاقات کا اصل ایجنڈا یہ تھا کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ قطر میں گزشتہ سال افغانستان سے امریکی انخلا کی یکم مئی کی جو ڈیڈ لائن دی تھی جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد وہ مشکوک ہو گئی ہے چونکہ بائیڈن نے کہہ دیا ہے کہ اس میں توسیع ہونی چاہیے۔ روس اور پاکستان کو خطرہ ہے کہ افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد اگر وہاں نمائندہ حکومت قائم نہ ہوئی تو اس کا سب سے زیادہ اثر روس اور پاکستان پر ہو گا۔ پاکستان اور روس دونوں اس حق میں ہیں کہ افغانستان میں کوئی ایسی مخلوط حکومت قائم ہو جائے جس میں طالبان بھی شامل ہوں تا کہ جنگ کے امکانات ختم ہو سکیں۔ 

دوسری طرف امریکی پس و پیش کی وجہ سے یہ بھی دو طرفہ خدشات ہیں کہ کہیں امریکہ کسی نہ کسی بہانے وہاں سے انخلا کو مؤخر کر دے۔ روس کے لیے یہ مشکل کی گھڑی ہے کہ اس کے گھر کے پچھلے صحن یعنی افغانستان میں اس کا روایتی دشمن امریکہ بہت بڑے فوجی اڈے اور جنگی سازو سامان کے ساتھ موجود ہے۔ یاد رہے کہ 1980ء کی دہائی میں افغان خانہ جنگی کے نتیجے میں جب روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئی تھیں تو یہ ایک Pre-Exative جنگی حکمت عملی تھی۔ جس کا مقصد امریکہ کو افغانستان میں داخل ہونے سے روکنا تھا ۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ اس بارے میں روسی خدشہ درست تھا امریکہ نے پراکسی جنگ کے ذریعے پہلے توروس کو وہاں سے نکلنے پرمجبور کیا اور اس کے بعد موقع ملنے پر امریکہ خود افغانستان میں بہت بڑا فوجی اڈہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا یہ اڈہ خطے میں روس اور چائنا دونوں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ 

اس سارے منظر نامے کے بعد روس یہ چاہتا ہے کہ وہ افغانستان کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ اس طرح کا کوئی معاہدہ کرلے جس سے افغانستان میں جنگ کی صورت میں روس اور پاکستان ایک دوسرے کے مخالف نہ ہوں۔ یہاں سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے معاملے میں روس اب come back کر چکا ہے۔ گزشتہ ماہ روس میں ہونے والی افغان امن کانفرنس میں پاکستان، امریکہ ، روس اور افغانستان کے درمیان مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات ہوئے ہیں جس میں انڈیا شامل نہیں تھا۔ اس بدلتی ہوئی صورت حال میں پاکستان نے روس کے ساتھ تعاون کی ذیل میں انڈیا کے ساتھ تعلقات خصوصاً کشمیر پر روسی حمایت کے آپشن کو مذاکرات کی ٹیبل پر سب سے نمایاں رکھا ہے۔ سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ کہیں صدر بائیڈن انخلا کے معاہدے سے یوٹرن نہ کر جائیں۔ 


ای پیپر