معافی نامہ!.... (چھٹی قسط)
10 اپریل 2021 2021-04-10

(گزشتہ سے پیوستہ)!!

میرا یہ ذاتی معافی نامہ کچھ طویل ہوتا جارہا ہے، میں اگلے ایک دوکالموں میں اسے ختم کردُوں گا، بے شمار سیاسی موضوعات پر لکھنے کے لیے بے چین ہوں، پھر یہ سوچتا ہوں سیاست پر بے شمار لوگ لکھ رہے ہیں، سیاست مزید گندی ہوتی جارہی ہے، سو کچھ ایسے موضوعات پر لکھاجائے جس سے معاشرے میں کچھ سدھار پیدا ہو، خصوصاً عدم برداشت کا تیزی سے بڑھتا ہوا رحجان تھوڑا کم ہو، کوئی ایک شخص بھی آپ کے کسی بول سے یا آپ کی کسی تحریر سے متاثر ہوکر اپنا طرز زندگی یا رویہ تبدیل کرلے یہ آپ کی بڑی کامیابی ہے، اِس کامیابی کے بارے میں آپ کہہ سکتے ہیں اللہ نے آپ کو بولنے یا لکھنے کی جو صلاحیت آپ کی اوقات سے بڑھ کر آپ کو بخشی اُس کا رتی برابر حق ادا کرنے کی آپ نے کم ازکم کوشش ضرور کی، میں نے معافی نامہ میں جو کچھ اب تک لکھا اُس سے متاثر ہوکر میری اطلاعات اور معلومات کے مطابق کئی لوگ اپنی اپنی ”میں“ مارچکے ہیں، اپنی اپنی اناﺅں یا جھوٹی اناﺅں کو پرے کرکے ناراض دوستوں سے معذرت کرکے اُنہیں مناچکے ہیں۔اِن میں میرے کئی سٹوڈنٹس بھی شامل ہیں، میرے دو عزیز سٹوڈنٹس احمد وقار تارڑ اور قاسم باجوہ تو اپنی ناراض بہنوں اور بھائیوں کو منانے کے لیے مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے، یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، یہ میری بڑی کامیابی ہے، اللہ قبول فرمائے .... میں نے بے شمار لوگوں سے اب تک سنا ایک حدیث مبارکہ ہے ”رسول اللہ نے فرمایا ”اگر جھک جانے سے تمہیں اپنی عزت میں کمی محسوس ہو، روز قیامت وہ عزت مجھ سے لے لینا“ ....مجھے اِس کا ابھی تک کوئی ریفرنس نہیں مِلا، البتہ ایک حدیث پاک ہے آپ نے فرمایا ” اور معافی درگزر سے اللہ بندے کی عزت ہی بڑھاتے ہیں اور جوکوئی بھی اللہ کے لیے جھکتا ہے اللہ پاک اُس کو بلند فرما دیتے ہیں“....اپنے گزشتہ دوکالموں میں، میں نے سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ کی اپنے ساتھ ناراضگی کا ذکر کیا تھا، میں عرض کررہا تھا ”کچھ میرے دوستوں کا خیال ہے ”چیمہ صاحب ایک خاص مزاج رکھتے ہیں وہ اتنی آسانی سے آپ کو معاف نہیں کریں گے جتنی آسانی سے اللہ اپنے بندوں کو کردیتا ہے، وہ آپ کو معاف کرنے کے لیے کچھ شرائط رکھیں گے“....میں نے اپنے اِن دوستوں سے کہا ”میں شب برات کی شام کو اپنے والدین کی قبروں پر جاکر اپنا دل صاف کرآیا ہوں، اپنی ”میں“ کو دفنا آیا ہوں، اپنے اندر کی بوکو مُکا آیا ہوں، اب چیمہ صاحب یا میرے دیگر ناراض دوست مجھے معافی دینے کے لیے جو شرائط رکھیں گے میں اللہ اور رسول اللہ کی خاطر اُنہیں من وعن قبول کرلُوں گا، میرے یہ ناراض دوست اگر یہ شرط بھی رکھیں میں اپنے گھر سے گھنگرو باندھ کر نکلوں اور اُن کے گھروں کے باہر آکر نچ کے یار مناﺅں،مجھے یہ بھی قبول ہوگا،....میں بس صرف ایک عرض کرنا چاہتا ہوں” اگر میرے بقیہ ناراض دوستوں نے مجھے میرے لئے معاف کرنا ہے وہ ضرور شرائط رکھیں، لیکن اگر اُنہوں نے جیسا کہ میں بار بار عرض کررہا ہوں مجھے اللہ اور رسول اللہ کے نام پر معاف کرنا ہے پھر وہ غیر مشروط معاف کریں، اور دِل سے کریں، اُس کے بعد میرے ساتھ رابطہ اور محبت بھی بحال رکھیں “ ....اگر اُنہوں نے مجھے اللہ اور رسول اللہ کی خاطر معاف کرنا ہے پھر وہ میرے ساتھ وہی سلوک کریں جو جناب عطا الحق قاسمی نے کیا، جو برادرم نجم ولی خان نے کیا، جوسابق آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر نے کیا،جو جناب بی اے ناصرنے کیا، جو میرے ایک قریبی عزیز عبدالرحیم بٹ صاحب نے کیا، برادرم سرفراز فلکی نے کیا، .... میرا معافی کا مسیج موصول ہوتے ہی فوری طورپر میرے اِن عظیم دوستوں نے مجھے جوابی میسجز کیے، جس قدر خوبصورت الفاظ اُنہوں نے لکھنے اللہ ضرور اُنہیں اِس کا اجردے گا۔ نجم ولی خان کا فون بھی آیا، اُنہوں نے بڑی محبت سے بات کی، میں اُن سے لمبی بات کرنا چاہتا تھا، پر اُس روز میرا گلہ خراب تھا، اب کسی روز اُن کی خدمت میں بھی حاضر ہونا ہے، ....محمد عمر شیخ کے بطور سی سی پی او لاہور عرصہ تعیناتی میں اُن کی کچھ پالیسیوں کے خلاف میں نے دل کھول کر لکھا۔ میں آج کُھلے دِل سے اعتراف کرتا ہوں اِس کے باوجود میرے ساتھ اپنا رابطہ اُنہوں نے بحال رکھا، ورنہ کچھ ایسے کم ظرف بھی ہوتے ہیں جن کے حق میں بیسیوں کالمز کوئی لکھ لے، کوئی ایک جملہ اُن پر گراں گزرجائے وہ اپنے حق میں بیسیوں کالمز لکھنے والے کے ساتھ اپنا تعلق ہی ختم نہیں کرتے اُن کے ”جانی دُشمن“ بن جاتے ہیں، میں آج یہ کہنے پر مجبور ہوں جتنی تنقید بطور سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ پر ہوئی شاید ہی اتنے کم عرصے میں کسی اور پولیس افسر پر ہوئی ہوگی، ....میں اُن سے صرف یہ عرض کرتا تھا ”اگر کوئی انسان بے پناہ خطا کار ہوتے ہوئے اپنے رب سے معافی یارحمت کی اُمید رکھتا ہے، پھر اُسے خلق خُدا کی چھوٹی چھوٹی غلطیاں بھی معاف کردینی چاہئیں“۔ دوسری گزارش میں اُن سے یہ کرتا تھا ”جب اللہ کسی شخص کو اُس کی اوقات سے زیادہ، کسی بھی حیثیت سے نوازدے، اللہ کی شکرگزاری کا سب سے بلندطریقہ یہ ہے وہ انسان عاجزی اختیار کرے“ ....محمد عمرشیخ شاید چھ ماہ تک سی سی پی او لاہوررہے، اُن سے بھی حلفاً کوئی یہ پوچھ لے اِس دوران یا کبھی اِس سے پہلے کوئی ناجائز تو کیا کوئی جائز کام بھی اُن سے میں نے کہا؟۔ کوئی بلیک میلنگ کی؟۔ صرف محمدعمر شیخ سے ہی نہیں، بے شمار بیوروکریٹس، بے شمار پولیس افسران میرے ذاتی دوست ہیں، صرف ان دوستوں سے نہیں، مجھ سے کسی بھی وجہ سے جو عناد رکھتے ہیں، میرے طرز تحریر سے جنہیں اختلاف ہے، اُن سے بھی حلفاً پوچھا جاسکتا ہے کبھی کوئی تقاضا اُن سے کیا؟، کوئی غلط کام اُن سے کہا، کوئی ذاتی فائدہ اُن سے اُٹھایا ؟خُداکی قسم کوئی ایک افسرکُھلے عام یہ کہہ دے میں ہر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں، .... محمد عمر شیخ میرے گھر بھی تشریف لائے، اُن کے ساتھ ایک ذاتی تعلق بن گیا تھا، یہاں میں آپ کو اپنے دل کی بات بتاتا ہوں، میں جب شب برات پر اپنے ناراض دوستوں کو راضی کرنے کے لیے معافی کے مسیجز کررہا تھا جن کے بارے میں سب سے زیادہ مجھے یقین تھا کہ وہ معاف نہیں کریں گے وہ محمد عمر شیخ تھے، سب سے پہلے اُن ہی کا جوابی مسیج موصول ہوا۔ اُن کا یہ بڑا پن مجھے ہمیشہ یاد رہے گا، اپنے جوابی مسیج میں اُنہوں نے لکھا ” ہم سب خطاکار ہیں، آپ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی البتہ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو مجھے معاف کردیں“....سبحان اللہ، اللہ پاک اُن کی ساری مشکلیں ، پریشانیاں دُور فرمائے۔(جاری ہے)!!


ای پیپر