ڈاکٹرز کی تنخواہ ادا ہونے تک سیکرٹری صحت بلوچستان کی تنخواہ بند ہے: چیف جسٹس ثاقب نثار

10 اپریل 2018 (14:29)

کوئٹہ: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ٹیچرز ایسوسی ایشن کے رہنما کے تبادلے اور تعلیم سے متعلق پالیسی بنا کر 15 دن میں رپورٹ د ینے کا حکم دیتے ہوئے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں عدم سہولیات پر متعلقہ سیکرٹریز کی سرزنش کی اور اپنے ریمارکس میں کہا کہ ڈاکٹرز کو 24 ہزار اور سپریم کورٹ کا ڈرائیور 35 ہزار تنخواہ لے رہا ہے،جس سے پوچھوں وہ دوسرے پر ڈال دیتا ہے،تعلیم اور صحت کے شعبے میں کوئی سیاست قبول نہیں کی جائے گی، بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے پیسے کون کھا گیا،میں تو سمجھتا تھا کہ سندھ کی صورتحال ابتر ہے لیکن یہاں تو کوئی حالت ہی نہیں۔


سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منصور علی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے تعلیم، صحت اور پانی کی صورتحال سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔چیف سیکریٹریز سمیت دیگر اعلی حکام سماعت کے دوران عدالت میں موجود رہے تاہم عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے کے باوجود سابق وزرائے اعلی ثنااللہ زہری اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ پیش نہ ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سابق وزرائے اعلی کہاں ہیں جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر عبدالمالک کی جانب سے ان کے وکیل عدالت میں موجود ہیں۔تاخیر سے پہنچنے پر چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت صالح ناصر سے کہا کہ آپ کس صوبے سے آئے ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ میرا تعلق بلوچستان سے ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر صوبے کے لئے کام کریں، اسپتالوں کی حالت دیکھی ہے آپ نے ۔چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، سول اسپتال میں ایک بھی ایم آر آئی مشین نہیں ہے۔


ینگ ڈاکٹرز کے حوالے سے سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ ہا ئو س جاب کرنے والے ڈاکٹروں کو ہر ماہ وظیفہ دیا جاتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ڈاکٹرز کو 24 ہزار روپے تنخواہ دیتے ہیں، سپریم کورٹ کا ڈرائیور 35 ہزار تنخواہ لے رہا ہے۔چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ڈاکٹرز کی تنخواہ ادا نہیں ہوتی، آپ کی تنخواہ بند ہے۔چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے مکالمے کے دوران کہا کہ اسپتالوں میں آلات بہتر رکھیں اور ان کی حالت بہتر بنائیں۔چیف جسٹس نے سیکرٹری تعلیم سے استفسار کیا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں کے اسکولوں کی حالت کے بارے میں بتائیں۔


سیکرٹری تعلیم نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے مکمل پلان ترتیب دیا ہے جسے کابینہ سے منظور کرایا جائے گا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیشہ یہی پوچھتا ہوں کہ کون تیار کرے گا آپ کا تین سالہ پلان، پانی اور واش روم بننے میں کتنا عرصہ لگ جائے گا۔جس پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ تین سال میں 11 ہزار اسکولوں میں واش روم بنا دیں گے، گزشتہ تین سال میں چار لاکھ بچوں کو داخلے دلوائے گئے۔ سیکرٹری تعلیم نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کے زیر انتظام ایک ہزار 135 پرائمری اسکول ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا ان اسکولوں میں ساری سہولیات ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، 50 فیصد اسکولوں میں پانی نہیں، یہی شرح مڈل اور ہائی اسکولوں میں ہے۔


مزید برآں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈسٹرکٹ بار میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون بنانا ہمارے اختیار میں نہیں‘ قانون سازوں کے پاس وقت نہیں‘ نظام عدل میں خامیاں ہیں اسے دور کرنے میں میرا ساتھ دیں‘ لیگل ریفارمز کا آغاز کررہا ہوں‘ مجھے محنتی لوگ چاہئیں جو ساتھ دیں‘ انسانی خدمت کا بیڑہ اٹھایا ہے تاکہ غریبوں کو حقوق مل سکیں‘ انسانی حقوق کے ضمن میں یہ اقدامات کررہا ہوں‘ وکلاء مرتبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو محنت سے کام کریں۔


انہوں نے کہا کہ وکلاء مرتبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو محنت سے کام کریں۔ شارٹ کٹ چھوڑ دیں۔ نظام عدل میں خامیاں ہیں اسے دور کرنے کے لئے میرا ساتھ دیں۔ تیس‘ تیس سال سے کیس عدالتوں میں پڑے ہیں ججز کے پاس کام زیادہ ہے تیزی سے کیس نمٹا نہیں پاتے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تعاون کریں تاکہ تاریخ کا کلچر ختم ہوسکے۔ انسانی حقوق کے ضمن میں یہ اقدامات کررہا ہوں۔ لیگل ریفارمز کا آغاز کررہا ہوں مجھے محنت لوگ چاہئیں جو ساتھ دیں قانون بنانا ہمارے اختیار میں نہیں قانون سازوں کے پاس وقت نہیں ہے انسانی خدمت کا بیڑہ اٹھایا ہے تاکہ غریبوں کو حقوق مل سکیں جو قومیں خود ہمت نہیں کرتیں کوئی باہر سے آکر ان کی مدد نہیں کرتا۔ آپ لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے خود سامنے آکر جدوجہد کرنا ہوگی۔

مزیدخبریں